مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / ارشاد مستوئی ایڈیشن

ارشاد مستوئی ایڈیشن

Irshad Mastoi, Journalist, Balochistan, ارشاد مستوئی، جرنلسٹ، صحافی، شہید، شہدائے صحافت

درد مندوں کے دیس سے!

ندیم اعوان صحافت کو ملک کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ میڈیا معاشرے کا آئینہ کہلاتا ہے جو وہ معاشرے میں د یکھتا، محسوس کرتا اور سنتا ہے وہ اسے عوام تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جس معاشرے میں گھروں کے باہر کیاریوں اور پھولوں کی جگہ مورچے بنانے کی …

Read More »

عالمِ بالا سے ارشاد مستوئی کا آن لائن کو ایک خط

محمد خان داؤد جناب محسن بیگ چیف ایگزٹیو آن لائن نیوز ایجنسی اسلام آباد جناب آپ مجھے جاننے سے انکار کر رہے ہیں۔ آپ سب کو یہ مراسلہ لکھ کر بتا رہے ہیں، اور جتانے کی کوشش کر رہے کہ میں آپ کے ادارے میں ملازم نہیں تھا، یہ بات …

Read More »

ارشاد مستوئی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے فیس بک نے ان کے اکاؤنٹ کو "یادگاری” قرار دے دیا

حال حوال ارشاد مستوئی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے فیس بک نے ان کے اکاؤنٹ کو "یادگاری” قرار دے دیا. بلوچستان کے جواں مرگ شہید صحافی ارشاد مستوئی کی تیسری برسی موقع پر سماجی رابطوں کی عالمی ویب سائٹ فیس بک نے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے …

Read More »

ارشاد مستوئی: ایک تعارف

حال حوال ارشاد مستوئی کا جنم 14 اپریل1977ء کو بلوچستان کے علاقے علی آباد تحصیل تمبو میں ہوا۔ اس کے ایک سال بعد جیکب آباد ہجرت کر جانے والے حاجی خان مستوئی کے ہاں چار بیٹے ڈاکٹر سعید مستوئی، خورشید مستوئی، ارشاد مستوئی اور اشفاق مستوئی پیدا ہوئے۔ جب کہ …

Read More »

شہید ارشاد مستوئی کی جدوجہد

حال حوال ارشاد مستوئی کی فکری جدوجہد کا آغاز محض چھ برس کی عمر میں ہی ہو چکا تھا، جب اپنے بڑے بھائیوں کی صحبت میں وہ کمیونسٹ پارٹی کی سکول کے طلبہ کے لیے قائم کردہ ذیلی تنظیم ساتھی نونہال سنگت کا رکن بن گیا۔ سات برس کی عمر …

Read More »

رپورٹیں آنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا!

ارشاد مستوئی ( ارشاد کے قتل کے بعد اس کے دفتر سے ملنے والے اوراقِ پریشاں میں اس کا نثری کلام جا بہ جا بکھرا پڑا ملا. مذکورہ نظم شاید اس کا آخری نثری کلام ہے جو اس نے اپنی موت سے کچھ ہی روز قبل لکھا تھا، یہ اس …

Read More »

آہ، جواں مرگ ارشاد!!

ڈاکٹر شاہ محمد مری شفاف عینکوں کے پیچھے سے زندگی سے بھرپور آنکھیں چمکتی تھیں، باشعور آنکھیں۔ چھوٹے قد میں ایک چہکتا دہن جو صحافیوں کی طرح نان سٹاپ بولتا جاتا تھا۔ مؤدب، مہذب مگر مؤقف گوئی میں سفاک۔ اپنے پیشے سے مخلص۔ خبر کااُس کے سرچشمے تک پیچھاکرتے رہنا۔ …

Read More »

’ہمیں موت سے ڈرایا نہیں جا سکتا!‘

جی ایم مستوئی میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے آج تمہیں ہم سے بچھڑے ہوئے پورے تین سال، 36 ماہ، 156 ہفتے، 1095 دن، 26280 گھنٹے، 1576800 منٹس، اور 94608000 سیکنڈ ہوگئے ہیں مگر اس وقت تک تمہارے قتل کا …

Read More »

آہ ۔۔۔ارشاد مستوئی!

بالاچ قادر یوں تو روز لوگ مرتے ہیں۔ ہمارے سامنے ہزاروں چہروں کی شناسائی ہوتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ اس طرح مر جاتے ہیں گویا مرتے نہیں بلکہ ایک نئے طریقے سے دوبارہ جنم لیتے ہیں۔ تاریخ اپنے اوراق میں ایسے لوگوں کے ناموں کو سرخ قلم سے لکھ دیتی …

Read More »