مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان

درویش کا دیوان

دائود درویش کی تحریریں

کیا یہ وقت ہوا تمام؟

محمد خان داؤد جب وہ آواران سے چلا تھا تو آواران بہت رویا تھا۔ کیونکہ اس کی جڑیں تو آواران میں پیوست تھیں۔ وہ کراچی تو بس اپنی کچھ کتابیں، اپنے کچھ کپڑے، میلے موزے، پرانے جوتے ہی لا سکا تھا۔ اور وہ گھر والے جن میں اس کی بڑی …

Read More »

چاند مجھ سے نہ پوچھ، میں کیوں رو رہا ہوں؟

محمد خان داؤد یہ سندھ ہے! جسے دیکھ کر لطیف نے لکھ تھا ،،کرین متھے سندھ سُکار!،، یہ سندھ ہے جس کی محبت میں اللہ بخش سومرو نے اپنے سینے میں گولی کھائی تھی،اور چلتی بُگی کو لہو رنگ سے رنگ گئے تھے. اور بگی سے نیچے گر پڑے ہمیشہ …

Read More »

غموں سے کشتیاں ڈوب جاتی ہیں.

محمد خان داؤد میں کبھی نہیں سمجھ پایا کہ جون ایلیا نے یہ کیوں لکھا تھا کہ "ضبط اتنا ہے کہ ہونٹوں کو ہی سی رکھا ہے. تشنگی وہ کہ سمندر کو بھی پی سکتے ہیں!” اور ان تشنگی ہونٹوں نے سندھ کے اس جزیرے نماں سمندر کو پی لیا …

Read More »

وہ ہماری اک ماں!

محمد خان داؤد مجھے تو اس پر ایک پوری کتاب لکھنی ہے۔ پر کچھ ایسی کتابیں بھی ہوتی ہیں کہ جو کبھی نہیں لکھی جاتیں۔ اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہ لکھی تو جاتی ہیں پر چھپ نہیں پاتیں۔ اور کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو لکھی …

Read More »

خالی سڑکوں کی اُداسی کو دیکھو!

محمد خان داؤد اِن ہی سڑکوں نے اُس شاہ زیب کو بھی اپنے قریب قتل ہوتے دیکھا جو اب اک خواب بن چکا ہے۔ایسا خواب جسے دیکھا جائے تو بہت ہی دھندلا نظر آتا ہے۔اگر نہ دیکھا جائے تو دل بے قرار سا رہتا ہے۔ اگر خواب میں نہیں اُسے …

Read More »

ماں کے سینے میں موجود قبر کب خشک ہوگی؟!

محمد خان داؤد اب پھر اس تیمور کو لے آؤ پریس کلب پر جواپنے گٹار کی تار بجائے اس شاہ زیب کے لیے جسے ایک وڈیرے کے بیٹے نے اپنی بندوق سے کئی گولیاں مار کے قتل کر دیا تھا۔اور اس کی وہ لاش کئی گھنٹے تک اس روڈ پر …

Read More »

حوامدگی کے شہر کو دیکھو!

محمد خان داؤد اُس شہر کو دیکھو، جو حوامدگی کا شہر تھا! جو اُس وقت شہر بھی نہیں تھا۔ شاید کوئی گاؤں تھا۔ شاید گاؤں بھی نہیں تھا۔ بس ایک جسم تھا جس کی روح حوامدگی تھی۔ یا کوئی آشرم! اُس شہر کو دیکھو جس کے کنارے پر کچھ گھر …

Read More »