مرکزی صفحہ / محمد خان داؤد (صفحہ 10)

محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com

جنگل اداس ہے! (۳)

محمد خان داؤد وہ میری زندگی میں ایسے آئی جیسے پہاڑوں کا دامن چیرتے ندیاں بہنے لگتی ہیں. ان ندیوں کو بہنے سے کوئی نہیں روک سکتا. وہ میری زندگی میں ایسے آئی جیسے جب بارش ہوتی ہے تو بہت سے بارشی کیڑے زمیں پر چلتے نظر آتے ہیں اور …

Read More »

ایک تھا ھرگن بن تماچی!

محمد خان داؤد کیڈٹ کالج پیٹارو کا شاگرد احمد مشوری امریکہ سے اپنا علاج کر وا کر ۱۴ اگست کو کراچی پہنچ چکا ہے۔ ائیر پورٹ پر اس کا شاندار استقبال کیا گیا جس میں اس کے گھر والے اور وہ دوست یار بھی شامل تھے جو اس کے ساتھ …

Read More »

پہلی گولی انقلاب کے سینے میں اتری!

محمد خان داؤد لینن نے کہا تھا ’’جب انقلاب کا نیا سورج طلوع ہوگا تو اس پہلے سورج کی پہلی کرنوں میں ان جرنیلوں کے سینوں میں گولیاں اتاریں گے، جو ابھی اس ظالم نظام کا حصہ ہیں اور ناحق لوگوں کے سینوں میں گولیاں اتار رہے ہیں.‘‘ اور تاریخ …

Read More »

سکھی ساکھ ڈیندی تہ ھوُ شاعر ھُئا!

محمد خان داؤد سندھ میں کوئی سوا ایک لاکھ شاعر ہیں۔ اگر شماریات کا ادارہ کبھی اس ملک میں بس شاعروں کی گنتی کرائے تو میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ملک کے پانچوں صوبوں میں سب سے زیادہ شاعر حضرات سندھ میں پائے جائیں گے۔ اور …

Read More »

شرجیل بلوچ! معاف کرنا

محمد خان داؤد شیکسپئر کہا کرتے تھے کہ درد کو لکھا نہیں جا سکتا، خوشیاں تو قلم بند کی جا سکتی ہیں، خوشیوں کو تو کاغذ پر اترا جا سکتا ہے۔ پر درد کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، درد ایک کیفیت کا نام ہے جسے بس محسوس ہی …

Read More »

میری ماں سلام قبول کرو!

محمد خان داؤد مجھے آج اندازہ ہورہا ہے کہ کسی کی کہی سب باتیں درست نہیں ہوتیں جیسے سب گولیاں درست نشانے پر نہیں لگتیں جیسے سارے قتل جائز نہیں ہوتے جیسے سب انسان مظلوم نہیں ہوتے جیسے کوئی ظالم بھی مظلوم ہوتا ہے جیسے کوئی مظلوم بھی ظالم ہوتا …

Read More »

جاؤ قرار بے دلاں، شام بخیر شب بخیر!

محمد خان داؤد وہ پنہل ساریو جو سندھ میں کہیں بھی کوئی سیاسی یا ادبی پروگرام منعقد ہو اور وہاں اس کی نمائندگی نہ ہو یہ نا ممکن ہے۔ چاہے وہ پروگرام ادبی ہوں، چاہے وہ پروگرام سیاسی ہوں، چاہے وہ پروگرام نیم سیاسی ہوں، چاہے وہ کسی این جی …

Read More »

یہ دن بہت بُرے ہیں،یہ راتیں بہت بُری ہیں!

محمد خان داؤد جب میں پنہل ساریو کی گم شدگی پر لکھ رہا تھا تو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیا نام دیا جائے؟ پھر جیسے کی عقل کے بند دروازے کھل گئے، اور میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ یہ پہلی گم شدگی تو نہیں …

Read More »

پہاڑوں کے سر جھُکے ہوئے ہیں!

محمد خان داؤد آج آٹھ اگست ہے ایک معمول کا دن پنجاب میں، روہی میں چولستان میں، ملتان میں لاہور میں، پنڈی اسلام آباد میں پشاور میں، سوات میں چترال میں، اسکردو میں گلگت میں ایک معمول کا دن! سندھ میں! کراچی میں، حیدر آباد میں، سکھر میں بس ایک …

Read More »

پنہل کے بعد!

محمد خان داؤد مجھے آج اوشو کی یہ بات شدت سے یاد آ رہی ہے کہ ’’صرف دیے نہیں جلتے، دل بھی جلتے ہیں.‘‘ آج اگر ہمارے اس سوتے سماج میں پنہل ساریو جیسا کردار نہ ہوتا، وہ نہ چلتا، وہ نہ اُٹھتا، وہ نہ احتجاج کرتا، وہ نہ ایک …

Read More »