مرکزی صفحہ / محمد خان داؤد

محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com

چاند مجھ سے نہ پوچھ، میں کیوں رو رہا ہوں؟

محمد خان داؤد یہ سندھ ہے! جسے دیکھ کر لطیف نے لکھ تھا ،،کرین متھے سندھ سُکار!،، یہ سندھ ہے جس کی محبت میں اللہ بخش سومرو نے اپنے سینے میں گولی کھائی تھی،اور چلتی بُگی کو لہو رنگ سے رنگ گئے تھے. اور بگی سے نیچے گر پڑے ہمیشہ …

Read More »

غموں سے کشتیاں ڈوب جاتی ہیں.

محمد خان داؤد میں کبھی نہیں سمجھ پایا کہ جون ایلیا نے یہ کیوں لکھا تھا کہ "ضبط اتنا ہے کہ ہونٹوں کو ہی سی رکھا ہے. تشنگی وہ کہ سمندر کو بھی پی سکتے ہیں!” اور ان تشنگی ہونٹوں نے سندھ کے اس جزیرے نماں سمندر کو پی لیا …

Read More »

وہ ہماری اک ماں!

محمد خان داؤد مجھے تو اس پر ایک پوری کتاب لکھنی ہے۔ پر کچھ ایسی کتابیں بھی ہوتی ہیں کہ جو کبھی نہیں لکھی جاتیں۔ اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہ لکھی تو جاتی ہیں پر چھپ نہیں پاتیں۔ اور کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو لکھی …

Read More »

خالی سڑکوں کی اُداسی کو دیکھو!

محمد خان داؤد اِن ہی سڑکوں نے اُس شاہ زیب کو بھی اپنے قریب قتل ہوتے دیکھا جو اب اک خواب بن چکا ہے۔ایسا خواب جسے دیکھا جائے تو بہت ہی دھندلا نظر آتا ہے۔اگر نہ دیکھا جائے تو دل بے قرار سا رہتا ہے۔ اگر خواب میں نہیں اُسے …

Read More »

ماں کے سینے میں موجود قبر کب خشک ہوگی؟!

محمد خان داؤد اب پھر اس تیمور کو لے آؤ پریس کلب پر جواپنے گٹار کی تار بجائے اس شاہ زیب کے لیے جسے ایک وڈیرے کے بیٹے نے اپنی بندوق سے کئی گولیاں مار کے قتل کر دیا تھا۔اور اس کی وہ لاش کئی گھنٹے تک اس روڈ پر …

Read More »

ڈاکٹر شاہ محمد مری کے نام!

محمد خان داؤد وہ تحریر جو اس کے دل پر لکھی ہوئی ہے میں چاہتا ہوں کہ وہ تحریر اُس ادبی بیٹھک نماں کلینک کے در پر بھی لکھ دی جائے کہ ،،دَرِ درویشاں دربان نا باشہ!،، ،،در ویش کے در پر پہریدار نہیں ہوتے!،، وہ درویش جو ایک سیاسی …

Read More »

حوامدگی کے شہر کو دیکھو!

محمد خان داؤد اُس شہر کو دیکھو، جو حوامدگی کا شہر تھا! جو اُس وقت شہر بھی نہیں تھا۔ شاید کوئی گاؤں تھا۔ شاید گاؤں بھی نہیں تھا۔ بس ایک جسم تھا جس کی روح حوامدگی تھی۔ یا کوئی آشرم! اُس شہر کو دیکھو جس کے کنارے پر کچھ گھر …

Read More »

ایک دونی دونی ،دو دونی چار!

محمد خان داؤد وہ کسی بیکن ہاؤس سسٹم کے ٹیچر نہیں کہ وہ اپنی پیشہ ورنہ زندگی گزراتے رہیں۔ صبح کو کلاسوں میں جائیں۔ بچوں سے ادب سے انگریزی لہجے کی شائستہ اردو میں پیش آئیں۔ پھر گھر لوٹیں۔ اپنے بچوں کو ٹیوشن چھوڑنے جائیں۔ اور جب سورج ڈور رہا …

Read More »