مرکزی صفحہ / محمد خان داؤد

محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com

یادوں کی موم بتی اور جہانزیب کلمتی!

محمد خان داؤد کانٹ کہا کرتا تھا، نہیں معلوم کہ خدا ہے کہ نہیں، پر دُکھ موجود ہے! جی ہاں اس حادثات کی دنیا میں دُکھ موجود ہے۔ اگر دُکھ موجود نہیں ہوتا تو کاٹھوڑ کا نوجوان اور میرا دوست جہانزیب کلمتی کیوں کر خاموش ہوجاتا؟! جسے شاہ لطیف کے …

Read More »

ووٹ کا تقدس: ٹریکٹر ٹرالی چلتی رہتی ہے!

محمد خان داؤد ہمیں معلوم ہے اس ملک میں ووٹ کا کوتقدس نہیں۔ اگر اس ملک میں ووٹ کی کوئی قدر ہوتی تو سندھ اسمبلی کا نامزد اسپیکر ایک ہجوم کے سامنے یہ کیوں کہتا جب ایک سائل اس کے پاس آتا ہے اور اسے کہتا ہے سائیں میں نے …

Read More »

لاپتہ افراد کا نوحہ: "رات آئی وئی، توں نہ آئیں کہی!”

محمد خان داؤد جب بدین کے چھوٹے سے گاؤں میں ایسے سخت دسمبر میں استاد راہموں کی بیٹی اپنے گم شدہ باپ کی بازیابی کے لیے کیمپ لگائے بیٹھی تھی تو کہیں دور سے ایاز کے یہ بول بہت ہی بامعنیٰ سے بن جایا کرتے تھے کہ، رات آئی ہوئی، …

Read More »

شیما جی! رقص کو تتلیوں کا دیس کہتی ہے!!

محمد خان داؤد جن کانوں تک یہ صدا جا تی ہے ،،نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم! مجھے نہیں معلوم کہ آخر دیدار کے وقت کیوں ناچ رہا ہوں!،، وہ وجود رقص میں رہتے ہیں. اور قلندر کا نگر ان لوگوں سے بھرا رہتا ہے جو انسان …

Read More »

گل حسن کلمتی، ہم درد کے دھاگے سے بندھے ہیں!

محمد خان داؤد کتنا اچھا لگتا ہے اس ماں کو جو ماں اپنے پہلے بچے کی توتلی زباں سے سنتی ہے، وہ الفاظ جس کے لیے اس نے پہلے ایک مرد کو قبول کیا، پھر اس کے ساتھ نباہ کیا، پھر اپنے آپ اس کو سُپر کیا۔ پھر اپنے شکم …

Read More »

جن کو کوئی نہ پوچھتا تھا، وہ عاصمہ کا پتا پوچھتے تھے!

محمد خان داؤد اب لاہور میں وہ لوگ دیوانہ وار اس کا پتا پوچھتے پھریں گے وہ سوسائٹی! وہ گلی! وہ گھر! اور اس گھر کا در پر وہ نہیں مل پائے گی وہ منتظر ہے اپنی بیٹی کی کہ وہ آئے اور یہ یاد بن جائے یاد میں آنسو …

Read More »

ٰٰٰٓالوداع، اے زندہ ضمیر الوداع!

محمد خان داؤد ان بدمعاشوں سے کہہ دو وہ چلی گئی، جو بد معاش اسے ڈراتے رہتے تھے؛ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی بے ہودگی کے نام پر، کبھی دہشت کے نام پر، کبھی وحشت کے نام پر، کبھی وردی کے نام پر، کبھی لانگ شوز کے نام پر، …

Read More »

ادھوری کتابوں کے خالق کہاں ہو؟!

محمد خان داؤد وہ ننگر چنا جو نصیر آباد میں اپنی ماں، اپنی جیون ساتھی اور بچوں کے ساتھ مقیم تھا۔ جو لکھنے پڑھنے کا بہت شوقین تھا۔ جو اس لیے نہیں لکھتا تھا کہ لوگ اسے جانیں، وہ اس لیے لکھتا تھا کہ لکھنا اس کی زندگی تھی۔ وہ …

Read More »

سب مایا ہے!

محمد خان داؤد انتظار حسین نے اپنے شہرہ آفاق ناول "آگے سمندر ہے” میں لکھا ہے کہ، "جب انسان کو اپنے بچپن کے واقعات تیزی سے یاد آنے لگیں تو سمجھ جاؤ وہ بوڑھا ہو رہا ہے! جب کسی جرم پہ کوئی خاموشی توڑ دے، اور آگے بڑھے جلسوں ریلیوں، …

Read More »