مرکزی صفحہ / جاوید حیات

جاوید حیات

جاوید حیات گوادر میں مقیم قلم کار ہیں۔ مقامی اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔ javedhayat42@gmail.com

جلا ہُوا ٹرانسفارمر

جاوید حیات بازار کے سارے لوگ لکشمی چوک آ کر ٹھہر گئے تھے۔ اُن میں سے سب چلتے پھرتے بُت بنے ہوئے تھے۔ صرف دو لوگ بول رہے تھے۔ باقی سارے لوگ کانوں پہ عینک چڑھا کر بھاشن سُن رہے تھے۔ لوگوں کا رش اِتنا زیادہ تھا کہ لمبی چوڑی …

Read More »

ریل کا پُرانا انجن

جاویدحیات اِسٹیشن ماسٹر چوہدری رنجیت سنگھ نے اپنی ٹوپی، جوتے، سوٹ، پتلون سب الماری کے اندر رکھ دیے، اور اُس مفلس، بیمار اور کمزور شخص کا اورکوٹ اور چھاتہ باہر ٹانگ دیا، جیسے وہ برسوں سے بارش کی کیچڑ میں گیلے ہوئے ہوں۔ پھر سوکھ جانے کے بعد بھی اِنہیں …

Read More »

گھر، روزگار اور قبرستان

جاوید حیات اِس آرٹ کے ذکر سے پہلے ذہن کے گوشوں میں وہ منظراُبھرتا رہتا ہے جوبازار کی بھیڑ میں کھڑے پیڑوں کو کھلونوں کی طرح گُم کر دیتا ہے۔ اور اُن کی تلاش میں کچھ بچے ننگے پاؤں اُن دکانوں کے زینوں پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں جو …

Read More »

گوپال کی بکری

جاوید حیات کوہِ میدی کے دامن سے قطار میں اُڑتے آبی پرندے میرے سر پر سے گُزر رہے تھے۔ سردیوں کی صبح میں روز چائے کی پیالی میں کئی خوبصورت نظارے گھول کے پی جاتا ہوں۔ابھی میری پلکوں سے کچھ تتلی جیسے خواب اُلجھے ہوئے تھے کہ اچانک نیچے تیز …

Read More »

گوادر کا چہرہ: حوامدگی

جاوید حیات ’’انگیٹھی میں کوئلہ بھرنے سے پہلے شعلوں کے دھوؤں میں مچھلی کی بھینی خوشبو ساری بستی میں پھیل گئی تھی۔وہ فجر کی اذان سے پہلے ہی کڑاہیوں کے نیچے لکڑیاں جلا کر جھینگے اُبالتی تھی۔ہمارے ہاں ہانڈی میں ماش کی دال پکنے سے پہلے ماں کبھی کبھی ناشتے …

Read More »

بلوچستان کا دلیپ کمار

جاوید حیات گندمی رنگ، ناک نقش، قد کاٹ اور سنہرے بالوں کے منفرد اسٹائل سے وہ اسکول کے زمانے سے ہی چاکلیٹی ہیرو لگتا ہے۔ آغا خان پرائمری اسکول کے سالانہ فنکشن میں حبیب اللہ اُن کا کمپاؤنڈر بنتا ہے، جمال اُن کا مریض اور وہ خود ڈاکٹر قمرالدین کی …

Read More »

آدم کاجئی

جاویدحیات سورگدل گراؤنڈ تماشیوں سے کھچاکھچ بھر چکا ہے۔ واپڈا کی دیوار کے اُوپر اور تاج محل سنیما کی چھت تک لوگ بیٹھے ہیں۔ آج ینگ بلوچ اور محمڈن فٹبال کلب کے مابین فائنل میچ کا سِیکنڈ آف شروع ہو چکا ہے۔ باتیل کا سایہ پوری طرح گراؤنڈ میں پھیل …

Read More »

پَلگ

جاوید حیات اِس کے تیور تو دیکھو! اسٹارٹ ہوتے ہی ذرا بھی نہیں لگتا میں اِسے آدھے گھنٹے سے کِک مار رہا ہُوں۔ اور انجن کے شور سے تو یہی لگتا ہے اِس میں بارود سے بھرا کوئی ٹرک کابل سے دوڑ رہاہو۔ میں نے کہا تھا ناں! دُور پہاڑ …

Read More »

جناح کی سائیکل

جاوید حیات ’’یہ سائیکل جس بچے کی ہے، کیا آپ اُس کا نام جانتے ہیں؟ نہیں ناں، وہ میں ہُوں ، محمد علی جناح! ‘‘ ہر سال اگست کی پہلی تاریخ سے ہی وہ اپنی نوٹ بُک پر سائیکل کی ڈرائنگ بنا لیتا ہے۔ ڈرائنگ بھی ایسی کہ اگر چُھو …

Read More »

زندان، ایک گھونسلا

جاوید حیات میری جب بھی کسی شہر یا بستی میں پنجرے میں بند طوطے پرنظر پڑتی ہے تومجھے پنجرے میں پھانسی کی سزا پانے والے قیدی کی تصویر نظر آتی ہے۔ وہ ہمیشہ پنجرے میں بند، سر جھکائے بڑبڑاتے ہوئے اپنی رہائی کے رجز پڑھتا رہتا ہے یا پھر فٹ …

Read More »