مرکزی صفحہ / عابد میر

عابد میر

عابد میر
عابد میر کہانیاں اور کالم لکھتے ہیں۔ ادب اورصحافت ان کا میدانِ عمل ہیں۔گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں اردو ادب پڑھاتے ہیں، اور "حال حوال" سے بہ طور اعزازی ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ ای میل: khanabadosh81@gmail.com

سرداروں کا بلوچستان

عابد میر ’بلوچستان کے عوام ہمیشہ سرداروں کے ہاتھ میں کھیلتے رہے ہیں‘ ، یہ وہ معروف فقرہ ہے جو ملک کی مقتدر قوتوں کی جانب سے اس قدر دہرایا اور رٹایا گیا ہے کہ اب بلوچستان سے باہر ایک عام آدمی کے ذہن میں بھی یہ اس قدر راسخ …

Read More »

بلوچستان، صحافت کا قبرستان

عابد میر بلوچستان کا نام آتے ہی، بیرونِ بلوچستان قاری کے ذہن کے پردے پر جو شبیہیں ابھرتی ہیں اُن میں یا تو خون آلود سڑکوں کا منظر ہوگا، یا آب و گیاہ پہاڑوں، چٹانوں اور چشموں کا، یا ایک ایسے جزیرہ نما کا جو اب تک کسی غیر دریافت …

Read More »

اسلام آباد کا کوفہ اور بلوچ طلبا

عابد میر شہروں کی اپنی ایک فضا ہوتی ہے۔ کچھ شہر اپنی مخصوص علامتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ جیسے لندن کا تذکرہ ہوگا تو دریائے ٹیمز یاد آئے گا، پیرس کے ساتھ دریائے سین منسلک ہوگا۔ کراچی کا تذکرہ ہو تو ساحلِ سمندر ذہن میں آتا ہے۔ لاہور کے ذکر …

Read More »

بلوچستان کے پشتونوں کا مقدمہ

عابدمیر سامراج کی ایک نمایاں‌ علامت عوام دشمنی ہے. یہ کبھی بھی کسی بھی صورت عوام کا اتحاد گوارا نہیں کرتا، کہ اسی میں اس کی ہلاکت کا راز پوشیدہ ہے. سو، بیسویں صدی کے وسط میں نصف دنیا سمیت برصغیر پہ قابض برطانوی سامراج دوسری عالمی جنگ کے نتیجے …

Read More »

زندگی کا رقص جاری رہے!

عابد میر (پرانے زمانے میں شاعر دولہوں کا سہرا لکھا کرتے تھے، ایک تو وہ زمانے ہوا ہوئے، دوسرا قدرت نے شعر کے معاملے میں ہمیں سخن فہمی تک بس محدود رکھا، سو کچھ عرصہ پہلے ہمارے کچھ جوان دولہا بنے تو ہم نے ان کی شان میں‌ ایک "نثری …

Read More »

26 اگست: بلوچستان کا نائن الیون

عابدمیر ہماری نسل ،’نائن الیون کے بعد دنیا بد ل گئی‘ کا راگ سنتے سنتے باشعور ہوئی ۔ سن2001ء کے ستمبرکی 11تاریخ کو امریکہ کے ٹوئن ٹاورز سے ٹکرانے والے دو جہازوں نے امریکہ سمیت دنیا کی سمت بدل دی، نئی صف بندیاں قائم ہوئیں۔کل کے حریف ‘ حلیف اور …

Read More »

جامعہ بلوچستان کا مرثیہ

عابد میر ’’…… تو المیہ نار سائی یا نارسائی کا دکھ نہیں، بلکہ نارسائی کے دکھ کی آگہی کا نام ہے !‘‘ بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے کلاس روم میں سگریٹ کے دُھویں سے جھانکتے ہوئے لفظ گری کے ماہر لیجنڈری استاد نے، ارسطوکی ٹریجڈی پر ڈیڑھ گھنٹے سے …

Read More »

ہائیر ایجوکیشن اور بی ایس پروگرام: ایک انقلابی قدم

عابدمیر بیسویں صدی کو دنیا بھر میں انقلابات کی صدی کہا جاتا ہے۔ بالخصوص دوعالمی جنگوں کے تجربے کے بعد دنیا بھر میں خونی انقلاب کی جگہ معیشتی اور تعلیمی انقلاب نے لے لی ہے۔ سیاسی، سماجی غلبے کے لیے اب روایتی جنگ کی بجائے علم و معیشت پر اجارے …

Read More »

بزنجو کی ’آخری کوشش!‘

عابد میر ’’حکومتی طبقات کی جانب سے دکھائی جانے والی بے حسی بعض اوقات مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ میرے کامریڈز کا اختیار کردہ مؤقف، جسے میں موضوعی کہہ کر رد کرتا آیا تھا، شاید ایسا نہیں ہے۔ اس کے برعکس اب میں خود سے سوال …

Read More »

سیاسی ذکاوت: فقرہ بازی سے دشنام تک

عابدمیر جمہوری سیاست کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں اختلافِ رائے کے معنی دشمنی، غداری اور نتیجہ قتل نہیں ہوتا (استثنیٰ ہر جگہ موجود ہے)۔ حتیٰ کہ اختلافِ رائے کے لیے بھی تہذیب کا دامن تھامے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کوئی اس حد کو پار کرے تو اسے …

Read More »