مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / عبداللہ جان جمالدینی / گوادر میں عبداللہ جان جمالدینی یات گیری مراگش کا احوال

گوادر میں عبداللہ جان جمالدینی یات گیری مراگش کا احوال

رپورٹ: کے بی فراق

جیوز نے گوادر بلوچستان میں ایک برتر ادبی مکالمے کو دانش ورانہ روایت و درایت کے عمل سے گزار کر انسانیت آموز جہت عطا کرنے میں نہایت کمٹ منٹ کے ساتھ زندگی آموز کرداری صورت میں منقلب کیا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں ایک ذہن ساز رائد ادارے کی شکل میں ادبی معاشرت کی تشکیل کے سلسلے میں دیکھے جائیں گے‫.

اِس بار بھی بلوچی زبان و ادب کے ایک سرخیل کردار واجہ عبداللہ جان جمالدینی کے تعزیتی ریفرنس کے سلسلے میں اپنے معاون ادارے شیڈو گوادر اور ادارہ ثقافت بلوچستان کی معاونت سے ایک پُروقار تقریب کا اہتمام جیوز کے کارمستر کے بی فراق کی زیرِصدارت منعقد ہوا، جس کے مہمان خاص بلوچی زبان کے نام ور شاعر بشیر بیدار اور معروف دانش ور و اسکالر اور سنگت اکیڈمی اینڈ سائنسز کے بانی ڈاکٹر شاہ محمد مری رہے. دیگر مہمانان میں عبداللہ جان جمالدینی کے فرزند جیئند خان جمالدینی، دوستین خان جمالدینی(چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی)، اختربلوچ (وائس چانسلر بے نظیر بھٹو یونیورسٹی، لیاری کراچی) طاہر حکیم، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ بلوچی تربت یونیورسٹی، غفورشاد چیئرمین شعبہ بلوچی تربت یونیورسٹی، رفیق سنگت لکچرر شعبہ بلوچی بلوچستان یونیورسٹی، حنیف دل مراد ادیب، کالم نویس سماجی کارکن رہے، جب کہ نظامت کے فرائض جیوز لبزانکی گل کی سمین ارمان اور شیڈو کے بجار بلوچ نے سرانجام دیے‫.

آغاز میں اِس مجلس کی افادیت بیان کرتے ہوئے ناظمِ مجلس سمین ارمان نے کہا کہ جیوز کا یہ بنیادی حوالہ رہا ہے کہ مختلف شعبہ زندگی میں خدمت انجام دینے والے کرداروں کو اُن کے کام کے پیشِ نظر تحسین کرنا اور نئی نسل کو اُن کی بابت آگہی فراہم کرنا ہی ایک طرح سے برتر سلسلہ کار رہا ہے. ‫اس سلسلے میں مختلف سطح پر سیمینار، لیکچر، سیشنز، تھیٹرز اور ایگزیبیشن کی صورت سرگرمیوں کاانعقاد ایک طرزِ دیگر کی صورت معلوم ادبی تاریخ میں منقش ہوچکا ہے. آج کی یہ تقریب بھی اُسی سلسلے کی ایک کڑی ہے. اس بابت جیوز نے فقیدالمثال مکالمے کی بنیادیں استوار کرکے نئی نسل کے لیے طرزِ دیگر کی صورت دانش ورانہ چلن کو اعتبار بخشا.

gwadar program 2

مزید اس تعزیتی تقریب کی نسبت بات کرتے ہوئے نوجوان لیکھک اور سید ہاشمی ڈگری کالج گوادر کے لیکچرر بلوچ خان نے اپنا مضمون پڑھتے ہوئے کہا کہ آج مَیں جوکچھ بھی ہوں اور دولفظ لکھنے پر قادر ہوں تو اس کا کریڈٹ ماما عبداللہ جان جمالدینی کو جاتا ہے‫.

نوجوان ناول نویس وافسانہ نگار اسلم تگرانی نے اپنا مضمون پڑھتے ہوئے کہاکہ جب بھی ہم جدید بلوچی ادبی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس میں عبداللہ جان جمالدینی کا استھان ایک ایسے کردار کی صورت منور ہے جس کی روشنی دُور تک تاریکی کو چیرتی ہوئی صورت پذیر پوتی ہے‫.

رحمان مراد نے اپنے کلمات میں عبداللہ جان جمالدینی کی نثر کی انفرادی جہات پر رائے زنی کرتے ہو ئے کہا کہ اُن کی نثر کا نمایاں پہلو معروضی تناظر ہے جس میں وہ بڑے واضح انداز میں فن پارے کا تجزیہ کر کے تعینِ قدر کرتے ہیں.

حنیف دل مراد نے اپنامقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ موجود لمحہ ہی ایک کردار کو رواں منظر کی صورت معنوی جہت سے صورت پذیر کرتاہے اور آج کی اِس تقریب کے کردار میں بھی ایک صفت ایسی ہے کہ انھوں نے آج کو بنیاد کر ایک نظامِ فکر کی تشکیل کے سلسلے میں زندگی کی معنویت کو ترقی پسندانہ، روشن خیالی اور مارکس وادی رویوں کو صورت پذیر کیا جس میں لٹ خانہ ایسے اعلامیہ نے ادبی تاریخ کی تشخص کو زندگی آموز اہمیت عطا کی‫ اور مجھ ایسے نوآموز نے جب اُن سے ملاقات کی تو اُس کے مہروان سروپ کردار سے متاثر ہوئے بِنا نہیں رہ سکا.

طاہر حکیم نے اپنا مضمون پڑھتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ایک آفاقی بنیاد پر استوار تصورِانسانیت کی تشکیل میں عبداللہ جان جمالدینی کا کردار انمٹ اور نہایت اہم رہا ہے، جس میں اُن کے رُفقا نے بھی بنیادی و معنوی جہت کو توانا بنیادیں فراہم کیں‫. اس سلسلے میں اُن کے اِس فقیدالمثال کام کو وقت پر چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ اِس بابت بھی ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے‫.

رفیق سنگت نے اپنا مضمون پڑھ کر سُنایا اور کہا کہ عبداللہ جان جمالدینی کا کردار بلوچ معاشرت و ادب میں ایک مرکزے کی طرح ہے جس کے گرد الیکٹران، پروٹران، نیوٹران ایسے گردش کر رہے ہیں کہ زندگی کو انھی سے انسپائریشن ملتی ہے. کیوں کہ اُن کی ذات نے ادب سازی، ذہن سازی اور رجحان سازی کو ایک برتر صورت دے کر لکھنے والوں کی ایک کھیپ کی تربیت و تہذیب کی اور بلوچستان کے اہلِ قلم کو سچ کہنے کی جرات عطا کر کے اپنے عصر کے ساتھ آنکھ ملانے کی قدرت دی.

غفورشاد نے اپنا مقالہ پڑھتے ہوئے اظہارِ خیال کیا کہ بلوچی زبان کے سلسلے میں عبداللہ جان جمالدینی کا علمی بنیاد پر استوار لسانیات کے تناظر میں کام بڑا اہم اور بنیادی جہت کا حامل ہے جس میں ایک فطری رَو کے ساتھ زبان کے تشکیلی عمل میں بڑی اہم نوعیت دکھائی دیتی ہے جس میں ایک طرح سے جدید سائنسی طرزِفکر کے جِلو میں زبان کے بنیادی مسائل کو سمجھنے کی صورت دیکھنے میں آتی ہے.

اختربلوچ نے کہا کہ ماما کا کردار ہم کراچی والوں کے لیے کسی بھی طرح کم اہم نہیں کیوں کہ جب بھی وہ کراچی تشریف لاتے تو اُن کی وابستگی عام لوگوں کے ساتھ ارتباط کی صورت رہہ اور اُن کی زندگی کو جبرواستحصال سے نجات دلانے کی توجیہ کرتے رہے. ان کی پوری زندگی اسی راہ میں وقف ہوگئی. جس طرح اُن کے بڑے بھائی آزات جمالدینی نے بلوچی زبان و ادب کے لیے خود کو وقف کیا اور اسی روایت کا راہ ساز بن کر اِس نظامِ فکر کی آبیاری کے لیے زمین و فضاسازی کرتے رہے اور بلوچ قوم کو بامِ عروج تک پہنچانے میں کوشاں رہے.

جیئند خان جمالدینی نے اپنے والدِمحترم کی بابت فرمایا کہ انھوں نے ایک ایسے استحصال سے پاک نظام کی تشکیل کے لیے کام کیا کہ وہاں کسی بھی طرح کی اونچ نیچ کا تصور نہ ہو اور نہ ہی سرداری وجاگیرداری اور سرمایہ داری کا جبر پر مبنی معاشرت و سیاست کا چلن ہو، جس کے خاتمے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کی‫. آج ہمیں یہ خوشی ہے کہ ہم ایک ایسے کردار کی تربیت میں رہے کہ جنہوں نے زندگی کو اعتبارِ آدمیت دیا.

ڈاکٹر شاہ محمد مری نے اپنا مختصر مضمون پڑھتے ہوئے کہا کہ مَیں اپنی ادبی وعلمی پیدائش و تربیت اور تہذیب کرنے کے عمل کا تمام تر کریڈٹ ماما کو دیتا ہوں کیوں کہ انھوں نے میری ذہن سازی کرتے ہوئے ایک برتر انسانیت سروپ طرزِ فکرونظر کے قابل بنایا ‫.اب کہ آج کی نسل کے سامنے یہ سوال در آتا ہے کہ ماما کے بعد کیا ہوگا، سوال یہ نہیں ہے کہ ماما نہیں رہے بلکہ سوال یہ ہے کہ مابعد ماما کیا کچھ ہوگا. جو تصور وہ زندگی بھر جی گئے، اس میں متحدہ محاذ کا تصور بھی ایک بنیادی سلسلہء خیال ہے، جس کو لے کر ایک اور سطح پر مکالمہ کرنا اسی نُقطے پر اہم ہوناچاہیے کہ مابعد ماما عبداللہ جان جمالدینی اب کے کیا صورت ہوگی کیوں کہ یہ ہمارے ایک آخری سرخیل تھے اور چلے گئے لیکن بہت سے سوال چھوڑ کر گئے جن کا جواب ہم نے تلاشنا ہے.

دوستین خان جمالدینی نے فرمایا کہ ہماری فیملی جیوز اور ان کے معاون ادارے شیڈو، ادارہ ثقافت بلوچستان کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے کہ انھوں نے گوادر کی صورت ہمیں اپنائیت کے جِلو میں رکھ کر خود میں جیوت رکھا اور آج نوشکی و گوادر نے اِس کردار کی شکل میں ایک مثال قائم کی جس کے لیے ہماری فیملی کی طرف سے گوادر کی تصاویر پر مبنی ایک کتاب انھی اداروں کے لوگوں پر مشتمل ہوکر شائع کرنے کا عہد کرتا ہوں تاکہ اس کو ایک دستاویز کی صورت دا ئم موجود رکھیں‫.

مہمانِ خاص بشیر بیدار نے فرمایا کہ سب سے پہلے جیوز کو اس گراں قدر تقریب کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مبارک باد دیتا ہوں کہ آج عبداللہ جان جمالدینی ایسی قدآور شخصیت کو یاد کر کے اپنی علم دوستی وادب دوستی کوزندگی آموز صورت بخش دی.

انھوں نے مزید کہا کہ بلوچ تاریخ میں چاکر و گہرام کو بہت یاد کرتے ہیں لیکن اُن کے مابین تیس سالہ جنگ نے بلوچ قوم کی زندگی و معاشرت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جب کہ اصل کرداری حوالہ حملِ جیئند ہے جو بلوچ قوم کا ہیرو ہے جس نے پرتگیزی استعمار کے خلاف جنگ کر کےمادرِ وطن کا دفاع کیا اور ایک تاریخ رقم کی.

gwadar program 3

صدرِ مجلس کے بی فراق نے حاضرین سے اپنے خطاب میں کہا کہ جیوز نے گوادر سطح پر علمی، ادبی، تعلیمی اور سماجی رجحانات کے روشن پہلو کو وسعت دینے کے لیے ہمیشہ سے نتیجہ خیز مکالمے و تقاریب کے انعقاد کی بنیادیں استوار کیں‫. جس میں قبل ازیں گُل خان نصیر، عطاشاد اور خواتین کے سماجی ارتقا کے سفر میں مقام و قائدانہ کردار کے سلسلے میں سیمینارز، تھیٹر، پینٹنگ ایگزیبشن اور میوزک کی مجالس کا انعقاد خاصے اہم رہے‫. اسی طرح زندہ شخصیات و کرداروں پر بھی Acceptance Session کا انعقاد کیا گیا جس میں ادب، تعلیم، سماج ،سیاست، معیشیت اورصحافت کے سلسلے میں لیکچرز کو صورت پذیر کیاگیا جو نئے لوگوں کے لیے سیکھنے کا باعث بنتے رہے.

جب کہ آج کی یہ تعزیتی تقریب ایک ایسے زندگی اور انسانیت آموز کردار عبداللہ جان جمالدینی پر منعقد کرکے اُس کے فکرو نظر کی توثیق کی .جس طرح بلوچی زبان و ادب، تعلیم، معاشرت، سیاست اور صحافت کے جِلو میں رُخِ روشن صورتِ معنی لے کر آتا ہے جس میں عبداللہ جان جمالدینی کا کردار در آتا ہے اور اس میں لٹ خانہ ایسے علامت میں پورے بلوچستان اور علومِ انسانی کا تسلسل منور ہوتا ہے، ساتھ ہی اہلِ قلم کی صورت ایک کمیٹڈ معنویت کا اشاریہ بُنتا ہے جس میں کیریئرسٹ ذہنیت کو رد کرتے ہوئے ایک انسانیت آموز کردار کی شکل میں منقلب ہوتا ہے جنھوں نے بلوچ کو ایک وسیع و برتر معنویت کے ساتھ ایک آفاقی تصورِ انسانیت سے ہم آمیز کر کے اُس کوفکری سطح پر سنتھیسائز کرنے کے اشاریہ بُننے کی امکانی جہت منور کی‫ تاکہ لفظ اپنے بھرپور انسلاک کے ساتھ زمینی رشتے کو مَس کر کےسائنسی جہت کو بھی صورت پذیر کریں کیوں کہ عبداللہ جان جمالدینی کے ہاں سائنسی طرزِفکر کی بنیاد پر لسانی فلاسفی کی بنیاد کو لیے Inclusion اور عمرانی تنقید کے بڑے امکانات دیکھے جاتے ہیں. جب ہم نوشکی کے ریگستان اور گوادر کے سمندر کو تخلیقی جہت سے تعبیر کرتےہیں تو اس کی ایک اور اضافی جہت و معنویت در آتی ہے کہ یہ دونوں اپنی سرشت میں مُردے کو کبھی پسند نہیں کرتے‫ .بالکل اسی طرح رواں دھارے کے ساتھ اپنے ہونے کا برتر معنویت کی صورت خلق کرنا ہی زندگی کا بُنیادی اشاریہ ہے.

مزید اِس ریفرنس میں پڑھے جانے والے مضامین کی بابت کہا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ یہ سب احباب کے مضامین و مقالے لے کر ایک دستاویز کی صورت کتابی شکل میں بعنوان "عبداللہ جان جمالدینی :ایک مطالعہ” کے تحت شائع کریں.

آخر میں اِس تقریب کے تحت کچھ قرار دادیں بھی منظور کی گئیں.

قرارداد

1. گوادر میں قائم کی جانے والی یونیورسٹی کو کسی بھی ایک قدآور بلوچ اہل علم و ادب کے نام معنون کریں‫.
2. بلوچستان یونیورسٹی میں عبداللہ جان جمالدینی شناسی کے سلسلے میں باقاعدہ ایک چیئرقائم کیا جائے اور ملک کی دیگر یونیورسٹیز خصوصاً نمل میں بھی چیئرز قائم کیے جائیں‫.
3. گوادر میں جمبیل کو دانستہ طور پر جبلِ نوح کے نام سے تبدیل کیاگیا جس کو منسوخ کرنے کے ساتھ دیگر مقامات و شاہراہ کے نام کواصل صورت میں لکھا جائے اور مسخ کرنے کے سلسلے کو ترک کیا جا ئے‫‫.
4. جو مقامی کھیل ختم ہو رہے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کہ ختم ہوچکے ہیں، ان کے ریوائیول کے لیے راست اقدام کیا جائے. تاکہ یہ کھیل پھر سے زندگی اور معاشرت کا حصہ بن سکیں‫.
5. بلوچی زبان و ادب کے معروف جریدہ "لبزانک بلوچی” کے معاون مُدیر، ناشر، انسانی حقوق اور سماجی کارکن کامریڈ واحد بلوچ کو ٹول پلازہ کراچی سے چار ماہ قبل غائب کیا گیا، نہیں بازیاب کرکے منظر عام پر لایا جائے.

اس کے ساتھ ہی یہ پُروقار تقریب اختتام پذیر ہوئی.

Facebook Comments
(Visited 166 times, 1 visits today)

متعلق کے بی فراق

کے بی فراق
کے بی فراق بلوچی زبان و ادب کے کل وقتی کارکن ہیں۔ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بیٹھ کر علم اور ادب کا پرچم سربلند رکھا ہوا ہے۔ بلوچ سماج کی سیاسیات و سماجیات پہ بھی ان کی نظر رہتی ہے۔