مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / عبداللہ جان جمالدینی / گوادر: جیوز اور شیڈوکا ماما جمالدینی کو خراجِ عقیدت، نام ور اہلِ علم کی شرکت

گوادر: جیوز اور شیڈوکا ماما جمالدینی کو خراجِ عقیدت، نام ور اہلِ علم کی شرکت

اسد بلوچ

معروف بلوچ دانش ور، علمی و ادبی شخصیت ماما عبداللہ جان جمالدینی کی یاد میں اتوار کے روز جیوز گوادراور شیڈو کے زیر اہتمام کلچر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے آر سی ڈی کونسل گوادر کے ہال میں ایک تعزیتی ریفرنس بعنوان ’’واجہ عبداللہ جان جمالدینی یات گیری مراگش‘‘منعقد ہوا جس کے مہمان خاص نوجوان شاعر و قلم کار سماجی کارکن جیوز گوادر کے سربراہ کے بی فراق اور مہمان خاص معروف شاعر بشیر بیدار تھے ۔ مہمانان میں نام ور اسکالر ادیب ودانش ور واجہ ڈاکٹر شاہ محمد مری ، دوستین جمالدینی اور واجہ جیئند جمال دینی تھے۔

تعزیتی ریفرنس میں ڈاکٹر شاہ محمد مری، بشیر بیدار، بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر اختر بلوچ، دوستین جمالدینی، تربت یونیورسٹی شعبہ بلوچی کے چیئرمین پروفیسر غفور شاد، تربت یونیورسٹی شعبہ بلوچی ملا فاضل چیئر کے سربراہ طاہر حکیم، جیئند جمال دینی، بلوچستان یونیورسٹی میں شعبہ بلوچی کے پروفیسر سنگت رفیق، نوجوان قلم کار و صحافی حنیف دل مراد، بلوچ خان بلوچ، رحمان عارف ، ناول نگار اسلم تگرانی و دیگر نے ماما جمالددینی کی زندگی، فکر و فن، ادب اور علمی خدمات پر روشنی ڈالی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

مقررین نے کہاکہ واجہ عبداللہ جان جمالدینی اپنی شخصیت میں ایک ادارہ تھے جنہوں نے بلوچی و براہوئی زبان و ادب کی خدمت کے لیے ساری عمر تیاگ دی۔ سیاست اور زبان و ادب میں ان کے بے بیش بہا قربانیوں میں نمایاں ترین لٹ خانہ جیسے نیم سیاسی و علمی ادارہ کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچی ڈیپارٹمنٹ قائم کرنا تھا، جس کے تسلسل میں آج تربت یونیورسٹی شعبہ بلوچی سے لے کر اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر صوبوں کی یونیورسٹیوں میں بلوچی ڈیپارٹمنٹ قائم ہیں جب کہ لٹ خانہ نے بلوچستان کو سیاسی و ادبی پہچان عطا کی جہاں سے بلوچستان کی زیادہ تر سیاسی و ادبی شخصیات کا تعلق رہا۔

انہوں نے کہاکہ ماما جمالدینی چوں کہ اب جسمانی طور پر موجود نہیں رہے اس لیے ان کی خدمات کو یاد کرنے کا بہتریں ذریعہ مابعد ماما جمالدینی مسائل کو ڈھونڈنا ہے تاکہ ان کی علمی و ادبی اور سیاسی خدمات سے بہتر طور پر استفادہ حاصل کرسکیں۔

جیوز اور شیڈو کی جانب سے ماما جمالدینی کو یاد کرنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ان کے صاحبزادے دوستین جمالدینی نے اپنے خاندان کی جانب سے گوادر کی تمام علمی و ادبی شخصیات اور تاریخ ساز کرداروں پر مشتمل ایک کتاب مرتب کرنے کا اعلا ن کرتے ہوئے جیوز سے ایسی تمام شخصیات کی تصاویر اور دیگر مواد کے لیے تعاون کرنے کا مطالبہ کیا۔

ریفرنس کے آخر میں جیوز کے سربراہ اور صدر مجلس کے بی فراق نے اختتامی قلمات ادا کیے اور تمام مہمانان گرامی کے ساتھ شرکا کا شکرایہ ادا کیا۔

ریفرنس میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض معروف ادبی و سماجی کارکن بجار بلوچ نے ادا کیے جب کہ سیاسی شخصیات میں میر غفور احمد، عابد سہرابی، سعید فیض، شیڈو کے سربراہ واجہ گلزار گچکی، تربت یونیورسٹی کے پی آر او اعجاز احمد بلوچ اور ڈیلٹا اسکول کے پرنسپل مراد اسماعیل سمیت بڑی تعداد میں ادب دوستوں نے شرکت کی۔

Facebook Comments
(Visited 121 times, 1 visits today)

متعلق اسد بلوچ

اسد بلوچ
تربت میں مقیم اسد بلوچ صحافت اور انسانی حقوق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کمیشن کے ضلعی نمایندہ بھی ہیں، اور بیک وقت مختلف صحافتی اداروں کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ علاقائی مسائل پہ تبصرہ اور تجزیہ ان خاص میدان ہیں۔