مرکزی صفحہ / بلاگ / معاشرتی بے حسی کے مقتول بلوچ نوجوان!

معاشرتی بے حسی کے مقتول بلوچ نوجوان!

شبیر ساجدی

"کمسن اقصیٰ کے بچھڑ جانے پراکثر لوگ مجھے فون کال کے ذریعے قیوم جان کی زندگی کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، لیکن نہیں، اللہ کا شکر ہےاب تک وہ صحیح سلامت ہیں، البتہ کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کے طویل پروٹوکول کو فالو کرنے سے وہ پہلے کی نسبت اب کافی کم زور ضرور ہوچکے ہیں.”

انہوں نے ایک لمبی آہ بھر کر اقصیٰ کا نام لیتے ہوئے کہا، "جب بچے بڑے لاڈ پیار کے ساتھ اپنے والدین کے سامنے پلے بڑھے ہوں تو ان کی جُدائی انسان کو ہر طرح سے توڑ دیتی ہے.”

یہ الفاظ ساڑھے تین ماہ پہلے اپنی بیٹی کے سوگ پر بیٹھے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے دولت خان بلوچ کے ہیں جو کینسر میں مبتلا اپنے جواں سال فرزند قیوم بلوچ کی زندگی بچانے کے لیے گزشتہ ایک سال سے مسلسل تگ و دو کر رہے تھے.

اقصیٰ کے بچھڑ جانے تک دولت بلوچ اپنی دو کم سن بیٹیوں سے محروم ہو چکا تھا لیکن 12 نومبر 2016 کو قیوم بلوچ کی جُدائی نے گویا ان کی دنیا ہی اجاڑ دی، اور پھر آہوں و سسکیوں میں قیوم بلوچ کی میت کو کراچی سے ان کے آبائی علاقہ آواران، گیشکور لے جا کر سپردِ خاک کر دیا گیا.

اگرچہ دولت بلوچ نے اپنے جوان سال فرزند قیوم بلوچ کی زندگی بچانے کے لیے اپنی بساط کے مطابق گزشتہ ایک سال کے عرصے میں بھرپور کوششیں کیں لیکن ان کی یہ کوششیں کہیں ادھوری اور کہیں بے بسی کی آڑ لیے بارآور ثابت نہیں ہوسکیں.

جب کہ یہ حقیقت ہم سب پہ واضح ہو گئی ہے کہ نچلے یا متوسط طبقے کےافراد کے لیے کینسر جیسے موذی مرض کا اکیلے مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا، کیوں کہ اس کے طویل المدتی اور مہنگے علاج کے لیے خطیر رقم درکار ہوتی ہے جو ایک عام انسان کے بس کی بات نہیں.

شاید مجھ سمیت کئی رشتہ دار، دوست و احباب اور انسان دوست لوگ قیوم بلوچ کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کر چکے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کر کے ان کے درد وغم میں برابر شریک ہونے کا روایتی تاثر چھوڑ رہے ہیں.

مگر۔۔۔۔۔

یہ افسوس اب کسی کام کا نہیں رہا؛ کیوں‌کہ ہم نے قیوم بلوچ کی صورت میں ایک اہم اور قیمتی انسان کھو دیا ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں، جو زندہ رہ کر اور اپنی تعلیم کو آگے بڑھا کراس جمود کا شکار معاشرے کے لیے اُمید کی ایک کرن ثابت ہو سکتا تھا.

"کیا سرکاری و غیر سرکاری ادارے، کیا سیاسی و سماجی حلقے، کیا عوامی و طبقاتی نمائندے سب مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی تصویر بنے قیوم بلوچ کی زندگی میں ایک لمحے کا اضافہ کرنے کے اہل نہ تھے؟!

لہٰذا اب معقول رائے یہ ہے کہ انہیں انُ کی موت کے بعد کسی بھی اصول کے تحت تعزیت و افسوس کا حق نہیں پہنچتا۔

وہ معاشرہ جہاں انسانی اقدار سرے سے ناپید ہوں، انسان کی کوئی قدر نہ ہو، انسانی جانیں مخصوص مفادات کی بھینٹ چڑھ چکی ہوں اور جہان انسانیت کا کوئی تصور نہ ہو، ایسے معاشرے میں قیوم جان اور ریحان رند جیسے نوجوانوں کا اجتماعی بے حسی کے سامنے بے بسی کی تصویر بننا اور تڑپ تڑپ کر مرنا باعثِ حیرت نہیں.

یہ رکے رکے سے آنسو، یہ دبی دبی سی آہیں
یونہی کب تلک خدایا، غمِ زندگی نبھائیں

Facebook Comments
(Visited 48 times, 1 visits today)

متعلق شبیر ساجدی