مرکزی صفحہ / تصویری حال / لاہوت سے نورانی تک، ایک سفر کی جھلکیاں

لاہوت سے نورانی تک، ایک سفر کی جھلکیاں

سطور: مولابخش خان جمالی
تصاویر: نور جتک، غلام رسول آزاد

یہ اپریل 2015 کے دوسرے ہفتے کا ذکر ہے۔ ہم 6 دوستوں نے کراچی سے ہوتے ہوئے شاہ نورانی پہ جانے کا قصد کیا۔ ہم میں سے صرف ایک دوست اس سے قبل اس سفر پہ جا چکا تھا۔ اسی کی رہنمائی میں ہم نورانی کی جانب عازمِ سفر ہوئے۔

lahut-1

لاہوت اور نورانی کے درمیان چند کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ لاہوت کا براہِ راست راستہ نورانی سے پہلے بھی نکلتا ہے۔ عموماً زائرین نورانی سے ہو کر لاہوت کی طرف جاتے ہیں، بعض لوگ راستے میں پڑنے کے باعث لاہوت سے ہو کر نورانی جاتے ہیں۔ یہی راستہ ہم نے بھی اختیار کیا۔

lahut-2

لاہوت کی طرف جانے والا راستہ پہاڑی ہے۔ مسلسل چڑھائی ہے۔ اس لیے شروع میں ہی ذرا ذرا سے فاصلے پر کچھ لوگ خیموں میں پانی اور مشروبات کی ٹھنڈی بوتلیں برائے فروخت رکھے نظر آتے ہیں۔ سمجھدار مسافر یہیں سے اپنا زادِ راہ مکمل کر لیتے ہیں۔

lahut-3

راستے میں ہمیں جانور اونٹ، بھیڑ بکریاں پہاڑی پودے چرتے ہوئے نظر آئے۔ اونٹ کے بدن پہ ایسی کشیدہ کاری کی گئی تھی کہ دیکھ کر انسان مبہوت رہ جائے۔

lahut-4

لاہوت کا پہاڑی راستہ نہایت کٹھن اور پُرپیچ ہے۔ ندی نالوں سے ہوتا ہوا مسلسل ایک گھنٹے تک چڑھائی کا راستہ ہے۔ بعض مقامات ایسے مشکل ہیں کہ انسان رینگ کر ہی وہاں سے پار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بعض مقامات کی دشواری کم کرنے کو کسی مخیر نے لوہے کی سیڑھیاں لگوا دی ہیں، جس سے نسبتاً زائرین کو سہولت رہتی ہے۔

lahut-5

ایک سنسنان پہاڑی راستہ عبور کر کے آپ جب پہاڑ کی چوٹی پہ پہنچتے ہیں تو ایک اور ہی سماں ہوتا ہے۔ انسانوں کا ایک جزیرہ ابھر آتا ہے۔ لاہوت لامکاں کے قریب ہی مختلف دھاگوں، رومال، انگوٹھیوں وغیرہ کی چھوٹی موٹی دکانیں سجی نظر آتی ہیں۔ لوگ یہاں سے تعویز اور دَم درود وغیرہ کے لیے چیزیں لیتے ہیں۔

lahut-6

اب لاہوت لامکاں کا "مقام” آتا ہے۔ یہ کوئی سو فٹ اونچا غار ہے، جہاں داخل ہونے کا صرف ایک دہانہ ہے۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے ایک سیڑھی لگا دی گئی ہے۔ جس پر ایک وقت میں ایک آدمی چڑھ کر اندر داخل ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف نیچے اترنے کے لیے رسیاں ہیں، جنہیں مضبوطی سے تھام کر غار کے پتھروں پہ قدم جماتے ہوئے نیچے اترنا ہوتا ہے۔ عورت، مرد کی کوئی تخصیص نہیں۔

lahut-7

غار کے اندر ایک اور میلہ لگا ہوا ہے۔ لوگوں کا اژدھام ہمہ وقت جمع رہتا ہے۔ اندر ایک کونے میں چھوٹا سا جھولا رکھا ہے، جسے مقامی زائرین حسنین کا جھولا کہتے ہیں۔ ایک پتھر جو گھوڑے نما شبیہہ کا دِکھتا ہے، اسے حضرت حسین کے دُل دُل سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اس پر مختلف چادریں زائرین کی طرف چڑھائی جاتی ہیں۔ یہیں ایک کونے میں وہ تنگ سا دُرہ ہے، جس سے متعلق یہ مِتھ پائی جاتی ہے کہ جو اس سے صرف”حلالی” ہی گزر سکتا ہے۔

lahut-8

غار کے دہانے سے آنے والی روشنی کے علاوہ اندر روشنی اور ہوا کا اور کوئی انتظام نہیں۔ اس کے باوجود اس تنگ غار میں آکیسجن کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی، بلکہ اس کی دیواروں سے ٹپکتے پانی کو لوگ شفا کی غرض سے اپنے اوپر ڈالتے رہتے ہیں۔ یہی دہانہ واپسی کا راستہ ہے، البتہ اب رسی کے ذریعے لٹک کر اس دہانے تک پہنچنا ہوتا ہے۔

lahut-9

لاہوت کے غار سے گھوم کر آئیں تو اس کے پہلو میں دربار نما احاطہ ہے۔ یہاں کبوتروں اور پرندوں کا ہجوم رہتا ہے، جن کے لیے دانے کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔

lahut-10

اس کے عین سامنے مختصر سا بازار نما ہے، یہاں آپ کو کھانے پینے کی تمام اشیا مل جاتی ہیں۔ یہیں سے تازہ دم ہو کر نورانی ک جانب سفر شروع ہوتا ہے۔

noorani-1

نورانی کے دربار تک جانے کے لیے مرکزی شاہراہ سے ایک بار پھر پتھریلا راستہ شروع ہوتا ہے، جہاں تک صرف فور بائے فور گاڑیاں ہی جا سکتی ہیں۔ آپ اپنی گاڑی اپنے زور پر لے جا سکتے ہیں، واپسی پہ البتہ اس کے ٹائروں کی تبدیلی لازمی ہو گی۔ ایک کلو میٹر تک کا یہ راستہ اکثر زائرین بصدِ شوق پیدل ہی طے کرتے ہیں۔

noorani-2

اس ایک کلو میٹر کے درمیان آبادی کا نام و نشان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر طرف سنسنان پہاڑیوں کا راج ہے۔ اور پھر اچانک اس ویرانے کے بیچ ایک اور جزیرہ نمودار ہوتا ہے۔ گھنے درختوں میں گھرا ہوا، انسانی آبادی سے بھرا ہوا۔ نورانی کے دربار کو جانے والا راستہ بھی پہاڑی ہے، سرکار کی جانب سے کوئی انتظام نہیں، کوئی سہولت نہیں۔ یہاں بھی کسی صاحبِ حیثیت مرید نے چشمے کے اوپر ایک لوہے کا پنجرہ نما پل لگا دیا ہے، جس نے زائرین کے لیے سہولت پیدا کر دی ہے۔

noorani-3

کسی پکنک پوائنٹ کے جیسے دِکھنے والے اس علاقے میں لوگ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بوریا بستر اٹھائے غول در غول نظر آتے ہیں۔ جہاں ذرا سایہ مل گیا، بستر ڈال دیا۔

noorani-4

پُل سے اتر کر ایک دو رویہ بازار نظر آتا ہے۔ جہاں اشیائے ضرورت وافر مقدار میں نظر آتی ہیں۔ چھوٹی سی گلی کی طرح دِکھنے والا یہ بازار اندرونِ سندھ سیہون شیف یا بھٹ شاہ کے مزار کے احاطے میں واقع مختصر بازار کی یاد دلاتا ہے۔

noorani-5

بازار کے خاتمے پر عین سامنے شاہ نورانی کے دربار کی سیڑھیاں ہیں، یہیں سے دربار کے وسیع احاطے کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔

noorani-7

نورانی کا دربار پاکستان میں اولیا کے دربار کا عمومی نقشہ پیش کرتا ہے۔ مرد و زن اور بچے بلاتخصیص اس کے اردگرد پائے جاتے ہیں۔ سنگِ مرمر سے بنا مزار آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔

noorani-6

لوگ یہاں دعائیں پڑھتے ہیں، پاک آیات کا ورد کرتے ہیں، مرادیں مانگتے ہیں، مَنتیں مانتے ہیں۔

noorani-8

یہیں مزار کے احاطے میں اکثر لوگ ایک کونے میں کچھ دیر کے لیے خاموش بیٹھ جاتے ہیں۔ نہ کوئی دعا، نہ کوئی مراد، نہ کوئی گپ شپ؛ بس ایک سانت بھری خاموشی، ایک سکون بھری چُپ۔

noorani-9

حضرت سخی شاہ بلاول نورانی: یہ اس بزرگ کا مکمل نام ہے، جو مزار کے مرکزی دروازے کی پیشانی پہ نمایاں طور پر کندہ ہے۔

noorani-10

اور یہیں اس کے پہلو میں وہ وسیع احاطہ ہے، جہاں سیکڑوں لوگ ہمہ وقت لوگ دنیا و مافیا سے بے خبر ایک کونے میں پڑے رہتے ہیں۔ ہر جمعہ اور ہفتہ کی شب یہاں زبردست دھمال ہوتی ہے۔ ویک اینڈ کے باعث کراچی سے آنے والے زائرین کا زبردست رش ہوتا ہے۔

ایسا ہی رش کا سماں تھا جب 12 سمتبر 2016 کی شام ایک خود کش نے خود کو اسی وسیع احاطے میں اڑا لیا، اور محبتوں کا نُور پھیلانے والے نورانی کو خون سے رنگ دیا۔

 

Facebook Comments
(Visited 503 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔