مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / نور کی ایک علامت، نورانی

نور کی ایک علامت، نورانی

افضل مراد

نور کی ایک علامت بابا
تجھ سے اور اللہ سائیں سے

کیسے کروں
ان معصوموں، ان مجبوروں،
ان مجذوبوں کی میں شکائت

جو اپنے دکھ درد کا
اپنی
معذوری، مجبوری کا
بس ذرا مداوا چاہتے تھے
زندہ رہنا چاہتے تھے

حیرت کی تصویر بنے
یوں
اپنی بات پہ اڑے ہوئے ہیں
خون میں لت پت پڑے ہوئے ہیں

میرا کیا ہے
مجھ کو نہیں ہے
کوئی شکائت!!
میں تو روٹھا یار منانے آیا تھا
بس،
تیرا دربار سجانے آیا تھا!!!

Facebook Comments
(Visited 56 times, 1 visits today)

متعلق افضل مراد

افضل مراد