مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / عبداللہ جان جمالدینی / لٹ خانہ : تخلیق و آدرش کی متبادل علامت

لٹ خانہ : تخلیق و آدرش کی متبادل علامت

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

غالبآ آج سے بائیس سال پہلے، کتابوں کی گھٹڑی سنبھالے، بس میں شکستہ سڑک پر ہچکولے کھاتے ہوئے کوئٹہ سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔ پہلے پہل تو سیٹ نہیں ملی، بعد میں جہاں سیٹ مل گئی وہاں ایک شخص منہ پر چادر لٹکائے بےغمی سے سو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جیب ٹٹولتے ہوئے اُٹھ گیا، مجھے دیکھا، میرے پاس کتابیں دیکھ کر اسے تسلی سی ہوگئی، اور پھر باقاعدہ اٹھنے کےلیے چند ایک جمائیوں کے ساتھ ہاتھ و بازو بھی ہوا میں اچھال دیے۔ پھر یکایک مجھ سے پوچھا، کہاں جارہے ہو؟ میں نے اپنے گاؤں کا نام بتایا، "امم” کر کے پوچھا پڑھتے ہو؟ میں نے کہا، جی! سائنس کالج میں۔ اس نے اپنے سر سے سواتی ٹوپی اتاری، یکایک سر کو لگے ہو ئے دیرینہ زخم دکھانا شروع کردیے ۔ جب میں نے حیرانی کے اظہار سے ہی تصدیق کردی تو اس نے مخاطب کرکے کہا!، دیکھو، آپ کو میری کھوپڑی میں کوئی ایک مربع انچ بھی ملتا ہے جہاں سے خون نہ نکلا ہو یا زخم نے اپنے پنجے نہ گاڑے ہوں؟ میں نےغور کیا، واقعی اسے سر پر متعدد چوٹیں آئی تھیں ، میں نے دیکھ کر بتایا، واقعی ایک انچ بھی نہیں! پھر ٹوپی سر پر رکھی، اور کہا، اب سنو میں نے ٹوپی کیوں اتاری؟۔ اس نے بتانا شروع کیا، دیکھو میاں! آج سے پندرہ سال پہلے میں بھی سائنس کالج میں پڑھنے گیا تھا، لیکن میں نے بطور طالب علم اپنی زندگی کا سب سے مؤثر وقت زندہ باد، مردہ باد میں گنوا دیا، سر اٹھایا تو اوور ایج ہوچکا تھا، ۔۔۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا، سائیں کمال خان کو جانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، پو چھا ماما عبداللہ جان جمالدینی کو؟ میں نے سر نفی میں ہلایا، اور آخر کار ایک معروف بیوروکریٹ کا نام پوچھا اور کہا کہ ان سے تو واقف ہیں نا آپ۔۔ میں نے جلدی جلدی بتایا، ہا ں ہاں، وہ تو بلوچستان کے بہت بڑے اور مایہ ناز بیوروکریٹ ہیں۔ اس نے کہا شابس، بس میں یہی فرق بتانا چاہ رہا تھا، کہ جو لوگ حکومت میں آ کر کام کرتے ہیں، وہی دارصل لوگوں کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ انقلات اور تبدیلی کا راگ الاپنے والے تو نہ دین کے رہتے ہیں اور نہ پشین کے (پشتو محاورہ)۔

انہوں نے جو باتیں کہیں وہ دراصل ساری وہی باتیں تھیں جن کا ورد روز گاؤں اور خاندان کے بزرگ وجواں کیا کرتے، آخر پند ونصائح ہمارے ہاں ہر کسی کا اورخصوصآ مردوں کا پیدائشی حق ہوتا ہے۔ ادھر امام مسجد نے بھی ہمیں مستعدی سے سبق سیکھنے کی مشقیں کراوئی تھیں ۔ قاعدہ بغدادی پڑھاتے تو گردن میں کوئی بھی ہلکی چیز رکھوادیتے، خود سبز چائے پینے بیٹھ جاتے ، ہمیں پنڈولم کی طرح آگے اور پیچھے (To and Fro) حرکت کرتے ہوئے سبق یاد کرنے کی تلقین کرتے۔ ادھر گردن سے چیز گر جاتی ادھر گردن دبوچنے کی گھڑی آن پہنچتی۔ اور تو اور امام اور ماسٹر کے درمیان جو نظریاتی تفاوت فٹبال کے کھیل کے جائز اور ناجائز شرعی معاملے پر موجود تھی، یہاں پہنچ کر وہ بھی ایک ہوجاتی۔ جبر اور سیکھنے کی مساوات کا حاصل جمع مطلق تابعداری اور خاموشی ہے نکل سکتا ہے۔

سائنس کالج کے دنوں میں خود پر وہی جبر روا رکھا جس کی رَٹ ہر کس و ناکس نے لگا رکھی تھی اور رِٹ گاؤں کے امام صاحب، سکول ماسٹر اور خاندان کے بڑوں نے دائر کر رکھی تھی۔ لیکن یہاں پر جبر کے اس مساوات کے سارے ہندسے زنجیر کے داہنوں کی مانند ایک ایک ہوکر کُھُلنے لگے۔ گردن میں زبردستی رکھوائی گئی چیز (object) کی طرح نصاب کی کتب کو ہٹایا، ہٹ کر پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ علم و دانش کےاس کاروان کے سرخیل تو کہیں دور جاکر سقراط اور ان کے فکری لواحقین ہیں۔ سوچ و فکر کےنخل تو فضا میں پھوٹتے ہیں جہاں پر سوال کرنے کو بغاوت کی بجاے زندگی سمجھا جاتا ہو۔

جب میں نے اپنے گرد و پیش میں سوال اٹھانے، سوچنے اور غور وفکر کرنے کی روایت کو دیکھنے کی کوشش کی تو دور کہیں گھپ اندھیرے میں لٹ خانہ میں فکرِ جدید کی لو دکھائی دینے لگی۔ بھلا ہو ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب کا جنہوں نے متعدد دفع فکرِ نو کے اس مشال کی روشنی پہچاننے میں ہم جیسوں کی مدد کی۔ آج بھی کئی لکھے پڑھے ذہن لٹ خانے کے بے ساخت، غیر رسمی، بلا تکلف، علمی و فکری خدوخال پر سوال اُٹھاتے ہیں؛ سائیں کمال خان، ڈاکٹر خدائیداد، ماما عبداللہ جان جمالدینی اور ان کے دیگر رفقا کار کی اس اپروچ پر شک کرتے ہیں جو انہوں نے نوکری ترک کر کے اپنائی۔

لیکن کوئٹہ کی علمی تاریخ لٹ خانہ کے ان علما اور دانش وروں کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہوگی، جنہوں نے آزادی فکر اور تنقیدی شعور رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ مکالمے اور مطالعے کے کلچر کو پروان چڑھایا۔ آدرش پسند لوگوں کے ساتھ مشکل یہی ہوتی ہے کہ جز وقتی وہ سُود و زیان کے بجائے تاریخی عمل کے تسلسل میں زندگی کو دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لٹ خانہ نے جدید اشتراکی فکر کی داغ بیل ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی اشتراکیت پسند دانش ور تھے جن کی تعلیمات نے قوم پرست سیاست کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ مذکورہ مثالیت پسند اور آدرش کے مینارِ وقت گزرنے کے باوجود بھی پشتون ۔بلوچ کی تقسیم پر نالاں رہے، انہوں نے نسلی و لسانی بل میں گھسنے کے بجائے خطے کے عمومی اور کلی تصویر کو دیکھنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ اس لیے اس مکتب سے تعلق رکھنے والے دانش ور اپنی نوعیت کی منفرد تنقیدی سوچ رکھتے ہیں جو سیاسی اتحاد کے مظہر پر سب سے سادہ سوال یہی اٹھاتے ہیں کہ اتحادی کے ساتھ کون سی قدر مشترک منسلک رہی ہے یا رہ سکتی ہے۔

لٹ خانہ ان لوگوں کے لیے واقعی ایک بے سود اور بے معنی جگہ تھی جو کاروبار، پیٹ پوجا اور اور سرکاری دفاتر میں بابوؤں سے راہ و رسم بڑھانے کی تاک میں رہتے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ لوگ یہاں پر رہنے والوں کو لٹ کہتے تھے، لٹ پشتو میں (اور بلوچی میں بھی) بے پرواہ، اور لااُبالی شخص کو کہا جاتا ہے، اور سماج میں ایسے لوگوں کو لٹ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے جو آفیسری اور کرسی کی خواہش ترک کر کے لکھنے، پڑھنے، تجزیہ کرنے اور نوجوانوں کی ذہنوں میں سوالات پیدا کرنے اور طوفان برپا کرنے کے کارِ بےسود میں لگے ہوئے تھے۔ جو سماجی انصاف اور معاشی برابری کے سوال کو محض چائے کی پیالی میں برپا طوفان نہیں کہتے تھے اور نہ ہی اس تقسیم اور ترتیب کو قدرتی مانتے تھے۔ ان کا کہنا بس یہی تھا کہ موجودہ استبدادی حقیقتیں انسانوں کی پیدا کردہ ہیں اور انسان ہی اسے دوبارہ اپنے حق میں تبدیل کروا سکتے ہیں، جب تک محکوم گروہ منظم ہو کر استحصالی قوتوں کے سامنے صف آرا نہیں ہو جاتے ان کا استحصال یوں ہی ہوتا رہے گا۔

جب مجھے "ہوش” آیا تو جعفر اچکزئی اور ماما عبداللہ جان جمالدینی شدید علیل تھے، ڈاکٹر خدائیداد دیارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے، اور سائیں کمال خان اپنے گاؤں جاکر بس گئے تھے، ہاتھ سے محنت کر کے روٹی اگانے کی مشقت میں آخر تک جتے رہ گئے۔ خطے کے سیاسی بیڑے کے بادبان پہلے سے سمت اور منزل کے بجائے ہوا کے رخ میں جانے کا فیصلہ کر چکے تھے، اور پھرانہیں بھی لٹ خانے کی ضرورت نہ رہی، اور ظاہر ہے یہ سارے کردار ان کی نظر میں بھی لٹ کہلائے جانے لگے، برملا اظہار سے قاصر رہتے کہ بزرگوں کے بارے میں روایات، رکھ رکھاؤ اور تکلف برتنے کا درس دیتے ہیں۔ سوال اُٹھانے، سوالات کے جواب ڈھونڈنے، کہی اور سنی جانے والی گفتگو سے تحریر اور قرات کی طرف رہنمائی کرنے والے لٹوں نے تو اپنی گزار دی۔ ماما عبداللہ جان جمالدینی اس علمی و فکری روایت کے آخری سفیر تھے جو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے قرب و جوار میں پھیلے ہوئے بلوچوں اور پشتونوں کے مابین مٹی اور لوگوں سے محبت، بےلوث کامریڈ شپ، علمی مجاہدے اور فکری آزادی کی آخری علامت تھے۔

Facebook Comments
(Visited 255 times, 1 visits today)

متعلق ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ