مرکزی صفحہ / اسپیشل ایڈیشن / عبداللہ جان جمالدینی / ماما جمالدینی: ایک امر انسان

ماما جمالدینی: ایک امر انسان

ڈاکٹرعطااللہ بزنجو

شیکسپیئر نے کہا ہے زندگی ایک اسٹیج ہے ہر کوئی آ کر اپنا کردار ادا کرتاہے اور چلا جاتا ہے…. اور ماماجمالدینی نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ زندگی کے اس کٹھن سفر میں نشیب و فراز آتے رہے مگر وہ بغیر تھکے ہارے زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

ماما جمالدینی کی زندگی کے کئی پہلو ہیں؛ ادب، صحافت، سیاست، سب میں اُن کا حصّہ شامل ہے۔ رنگ، نسل، مذہب سے بالاتر سوچ تھی ان کی۔ بائیں بازو کی تحریکوں میں صفِ اول کا کردار ادا کرتے رہے۔ کمیونسٹ نظریات کے حامل رہے۔ ”لٹ خانے کا لٹ“ ہرجگہ اپنے علمی، ادبی و سیاسی نقوش چھوڑگئے…. کئی زبانوں پر عبور حاصل کرنے والا یہ شخص اسلامیہ ہائی اسکول سے ہی متحرک چاک و چوبند انسان رہا، جہاں اُنہیں کمال خان شیرانی جیسے دوست ملے۔ خدائیدادخان، انجم قزلباش جیسے یاروں سے وابستہ رہے۔ کسے معلوم تھا کہ پشین ہائی اسکول اسلامیہ کے یہ بچے آگے چل کر سخت کٹھن دور کا مقابلہ اس طرح زندہ دلی اور ثابت قدمی سے کریں گے۔ مصائب و تکالیف کا بھرپور مقابلہ کریں گے، سخت دور میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

مطالعہ کرنا، ملنساری اور اُن کے نرم رویے نے کئی مکتبہ ِ فکر کے لوگوں کو متاثرکیا۔ پڑھے لکھے لوگوں کا حلقہ اُن کے اردگرد ہمیشہ موجود رہا۔ بچپن لڑکپن کے یہ دن انتہائی کٹھن اور مالی حوالے سے سخت تھے۔ اس کے بعد ماماجمالدینی اور کمال خان شیرانی کا ساتھ اسلامیہ کالج پشاور میں بھی رہا۔ یہاں آ کر ان کی ذہنی نشوونما، اور ترقی پسندانہ خیالات کو مزید پروان چڑھنے کا موقع ملا۔ گویا زندگی میں اس درسگاہ سے حاصل کئی گئی علمی دولت کو آگے چل کر وہ کس طرح سانچے میں ڈھالیں گے، یہیں سے مستقبل کا فیصلہ ہوچکا تھا، جنہیں آگے چل کر عملی جامعہ پہنانے کی ضرورت تھی۔ ماماجمالدینی اور کمال خان شیرانی کی تربیت اور روشن خیالی میں اس درسگاہ کے اساتذہ کا اہم کردار رہا۔

نظریاتی فکر اور ترقی پسندانہ سوچ کو پروان چڑھانے میں ماماجمالدینی نے اپنی کاوشوں اور صلاحیتوں کو ہمہ وقت بروکار لاتے ہوئے علمی و ادبی جدوجہد میں اپنا بھرپورکردار ادا کیا۔ تین نسلوں میں اُنہوں نے اس فکری شعور کو منتقل کیا۔ شعور و آگہی کے اس عمل میں ہم اُس تیسری نسل میں شامل ہیں۔ یہ فکری، عملی جدوجہد اس طرح نسل در نسل چلتی رہے گی بشرطیکہ قلم ہمارا ہتھیار ہو۔

ماماجمالدینی نے صحافت اور ادب کی جتنی خدمت کی ہے، اُتنا ہی سیاست میں اُن کا کردار رہا ہے۔ بائیں بازو کی قوتوں کے ساتھ مل کر اُنہوں نے بھرپور سیاست کی۔ مشتاق علی شان کہتے ہیں؛ ”ماماجمالدینی ایک خاموش سپاہی تھے، اُنہوں نے صرف ادب کی کاکلیں ہی نہیں سنواریں بلکہ وہ بابائے بلوچستان میرغوث بخش بزنجو کے کارواں کا حصہ رہے جنہوں نے ون یونٹ کے خلاف جدوجہد میں اپنا بھرپور حصّہ ڈالا اور سرداری نظام کی اصولی مخالفت کی۔“

بلوچستان یونیورسٹی کالونی میں رہائش پذیرماما جمالدینی پروفیسرنادرجان قمبرانی، پروفیسر بہادر خان رودینی، میرعاقل خان مینگل، پروفیسر برکت علی، پروفیسر عبدالرحمان فکر، پروفیسرعابدشاہ عابد و دیگر کیا شخصیات تھے جنہوں نے اپنے ابتدائی دورِ زندگی میں بلوچستان یونیورسٹی کو کہاں سے کہاں تک پہنچایا۔ فکری، علمی، ادبی ہر سطح پر وہ طالب علموں کے درمیان رہے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں ایسی بنیادیں رکھیں، جنہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ موجودہ تعلیمی حالتِ زار کو دیکھ کر ہمیں اپنے اُن اکابرین پر فخر ہوتا ہے، جن کی دن اور رات کی محنت سے یہ ادارہ بدستور علمی روشنی بکھیرتا رہا ہے۔ جو بیج اُنہوں نے بوئے تھے، آج پھل دار درخت بن چکے ہیں۔ کئی نسلیں فیض یاب ہوچکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔

”لٹ خانہ“ 1950ء کی دہائی میں، جس کی بنیاد پڑی یہ ادبی اور سیاسی محفلوں کی آماج گاہ بن گیا۔ یہیں سے عملی طور پر ماماجمالدینی اور ان کے دوستوں کی سیاسی اور ادبی محفلوں کا دور شروع ہوتا ہے۔ جہاں تنگ دستی کا عالم تھا مگر وہ سب سوچ و فکر اور اپنی شعوری آگہی کو پختہ ارادے کے ساتھ احسن طریقے سے نبھاتے رہے۔

1993ء میں ماماجمالدینی پر فالج کا حملہ ہوا۔ ہم اُن دنوں BMC میں 4th year کے طالب علم تھے۔ پتہ چلا ماماجمالدینی کو سول ہسپتال کے اسپیشل کمرے میں داخل کیاگیا ہے۔ کئی دنوں تک وہ ہسپتال میں اس کیفیت کا مقابلہ کرتے رہے۔ اس کے بعد اُنہیں سیاسی ادبی پروگراموں میں جانے سے ڈاکٹروں نے منع کیا۔ لیکن ایسا کہاں ممکن تھا۔ پھر ہر جمعے کو اُن کے گھر پڑھے لکھے و عام لوگوں کا آنا جانا رہا۔ بعد میں اتوار پارٹی (Sunday Party) کے نام سے فورم بنا اور ان کی زندگی کے آخری ایام تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ جہاں سیاسی ادبی ملکی و غیرملکی حوالوں سے بحث و مباحثے ہوتے رہے ہیں۔

فالج کا حملہ ہونے کے بعد جب ماماجمالدینی بلوچستان یونیورسٹی کالونی میں رہائش پذیر تھے، میں اور ڈاکٹر جنید، ایوب گچکی اُن کے پاس گئے۔ اُنہیں کہا ہم ”بابابزنجو“ کی برسی کے سلسلے میں بولان میڈیکل کالج میں پروگرام کر رہے ہیں، کاش آپ آ سکتے، لیکن آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں، ڈاکٹروں نے سیاسی پروگراموں میں جانے سے منع کیا ہے، تو ماماجمالدینی فوراً بولے میں ضرور آؤں گا ورنہ یہ زندگی کس کام کی ہے۔ فالج کے حملے کے بعد ماماجمالدینی کا یہ پہلا پروگرام تھا۔ ہم انہیں BMC لے کرگئے۔ وہاں انہوں نے دل کھول کر سیاسی و فکری گفتگو کی اور پورے حال کو رلایا۔

اس کے بعد جشن ِ جمالدینی کا دو روزہ پروگرام جو سنگت اکیڈمی کی جانب سے تشکیل دیا گیا، اس میں اُنہوں نے شرکت کی۔ کہنے کا مقصد ہے کہ فالج جیسے بیماری کے باوجود یہ شخص ہمہ وقت جدوجہد کی کیفیت میں رہے ہیں۔ ”لٹ خانہ“ کتاب لکھ کر اُنہوں نے ثابت کردیا کہ اس بیماری کی حالت میں بھی اُن کے ارادے کتنے پختہ اور جوان ہیں۔ ”لٹ خانہ“ کتاب لکھنے کی ذمہ داری کمال خان شیرانی اور ڈاکٹر خدائیداد کو سونپی گئی تھی لیکن اُن کی خواہش تھی کی یہ کاماما جمالدینی سرانجام دیں۔ اور یہ ذمہ داری پروفیسر شاہ محمدمری کو دی گئی کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے ماما جمالدینی کو ”لٹ خانہ“ لکھنے پر قائل کریں۔

ماماجمالدینی لکھتے ہیں؛ ”ڈاکٹرشاہ محمد مری کی گرفت سے آج تک کون بچا ہے جو میں بھلا بچ پاؤں گا اور میری زندگی کا فلسفہ ہی محبت ہے تو میں کیسے ڈاکٹر شاہ محمد مری کو انکار کر سکتا تھا۔ تبھی جا کر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب یہ کام مجھے ہی کرنا ہے“۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کو ماماجمالدینی کی زندگی، صحافت، ادب و سیاست و کٹھن زندگی کا کسی کو مطالعہ کرنا ہے تو وہ ”لٹ خانہ“ کا ضرور مطالعہ کرے۔

وہ جو عطا شاد نے کہا تھا؛

بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو
یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو

ہزار امتحان یہاں، ہزار آزمائشیں
ہزار دُکھ، ہزار غم اُٹھا سکو تو ساتھ دو

آخر میں، میں یہ کہوں گا واقعی ماماجمالدینی زیر زمین ہوگئے ہیں۔ ایک باب ختم ہوگیا۔ لیکن مرجانے سے انسانوں کا نام و نشان مٹ جاتا ہے کیا۔ جسم مرجاتے ہیں، سوچ زندہ رہتی ہے۔ سو، باب ختم نہیں، شروع ہوا ہے۔ ماما جمالدینی امر ہوگئے ہیں اُس شعور و آگہی کے ساتھ جس کا پرچار وہ عمر بھر کرتے آئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں لٹ خانے کا لٹ اور لٹ ہوگیا ہے …. جو پختہ ارادہ اُنہوں نے دیا۔ زندگی میں اُن پر عمل پیرا ہونے کا نام ماماجمالدینی ہے۔ ایسے انسان کیا مرسکتے ہیں؟! ہرگز نہیں بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں، دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔

یہاں سب کچھ ختم نہیں ہوتا، اُن کی زندگی، صحافت، ادب و سیاست پر بہت کچھ لکھنا اور پڑھنا باقی ہے۔

Facebook Comments
(Visited 152 times, 1 visits today)

متعلق ڈاکٹر عطا اللہ بزنجو

ڈاکٹر عطا اللہ بزنجو
ڈاکٹر عطااللہ بزنجو زمانہ طالب علمی سے عملی نظریاتی سیاست میں متحرک رہے ہیں. ایک عمر اس دشت کی سیاحی میں بتانے کے بعد اب تحریر و تقریر کو مستقل مورچہ بنا لیا ہے، تمام تر نظریاتی لڑائی اب اسی محاذ سے لڑتے ہیں.