مرکزی صفحہ / خصوصی حال / ریڈیو پاکستان کراچی کی بلوچی نشریات

ریڈیو پاکستان کراچی کی بلوچی نشریات

شبیر رخشانی

یہ منگل کی صبح تھی۔ میں ریڈیو پاکستان کراچی ایف ایم 93 اسٹیشن کے ڈیوٹی روم میں بیٹھا ہوا تھا۔ ڈیوٹی آفیسر پہلے سے وہاں براجمان تھا۔ مذکورہ آفیسر رجسٹر پر لوگوں کی آمد اور روانگی کو انٹری کرنے میں مصروفِ عمل تھا۔ قریب ہی رکھے سانیو ریڈیو ٹرانزسٹر پر دس بجے کی خبری نشریات چل رہی تھیں۔ پانچ منٹ کی نشریات ختم ہوتے ہی بلوچی ساز و زیمل کا پروگرام شروع ہوا۔ مذکورہ آفیسر چہرے پر مسکان لاتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئے، ’’آپ کا بلوچی پروگرام اب شروع ہو چکا ہے‘‘۔ میں نے بھی مسکان کا جواب مسکان میں دیا اور پروگرام کی طرف متوجہ ہوا۔

ایف ایم 93 کا یہ بلوچی پروگرام "آدینک” ہر منگل کو صبح دس بجے نشر کیا جاتا ہے۔ پروگرام کے میزبان سرور رحیم ہیں۔ جب انہوں نے جرنلزم کا کورس مکمل کیا تو انٹرن شپ کے لیے انہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی کا انتخاب کیا۔ وہ گزشتہ چار سالوں سے ریڈیو پاکستان کی بلوچی نشریات سے وابسطہ ہیں۔

شروعات میں یہ پروگرام روزانہ ہوا کرتا تھا۔ بعد میں گھٹا کر ایک گھنٹہ کر دیا گیا۔ پروگرام کی پروڈیوسر ایسیان سلیم بلوچ اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہتی ہیں ’’اِس وقت ریڈیو پاکستان کراچی ایک بحرانی صورت حال سے دوچار ہے۔ ریڈیو کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہوتا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر نشر ہونے والے پروگراموں کے لیے فنڈ مختص کرے۔ دوسرا اہم مسئلہ ٹرانسمیشن کا ہے جس کی فریکوینسی دور دور تک کام نہیں‌ کرتی‘‘۔

قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی نے جب اپنی نشریات کا باقاعدہ آغاز کیا تو اس میں تین زبانوں اردو، سندھی اور گجراتی میں پروگرام ہوا کرتے تھے۔ بلوچوں کی ایک کثیر آبادی کو نظرانداز کیا گیا۔ کامریڈ واحد بلوچ کہتے ہیں کہ اہلیانِ لیاری کو جب اس بات کا احساس ہوا کہ ان کی زبان میں پروگرام نشر نہیں کیے جا رہے ہیں تو لیاری کا ایک وفد ولی محمد (دلی پرنٹنگ پریس)، مولانا خیر محمد ندوی، عبدللطیف حقگو، مولوی محمد حسین عاجز کی سربراہی میں ریڈیو پاکستان کراچی کے ڈائریکٹر زیڈ کے بخاری سے ملنے گیا اور مطالبہ کیا کہ کراچی میں بلوچوں کی ایک بڑی آبادی کو مدِنظر رکھتے ہوئے بلوچی نشریات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ تب زیڈ کے بخاری نے ان کے سامنے سوال رکھا کہ ریڈیو پروگرامز کے لیے باقاعدہ مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو بلوچی زبان میں نہ ہونے کے برابر ہے، کیا وہ پروگرام کی ضروریات کو پوراکر سکتے ہیں۔

یہ ایک بہانہ تھا یا کچھ اور، خیر محمد ندوی اور محمد حسین عاجز نے بلوچی رسالہ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ بلوچی رسالہ ’’اومان ‘‘ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ رسالے نے اشاعت پاتے ہی اسے زیڈ کے بخاری کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی سے باقاعدہ بلوچی نشریات کے آغاز کی منظوری دے دی۔

25 دسمبر 1949 کو گبول پارک میں بلوچی نشریات کی افتتاحی تقریب رکھی گئی، جس کی صدارت جعفر خان جمالی نے کی۔ وہیں سے بلوچی نشریات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جو ایک گھنٹے پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ اس پروگرام کی ذمہ داری ولی محمد کو دی گئی۔ انہوں نے مصروفیات کے باعث یہ کام خیر محمد ندوی کے سپرد کر دیا۔ اس پروگرام کے لیے مراد آوارانی، احمد جگر، اسحاق شمیم، مولوی حسین عاجز، مولانا خیر محمد ندوی اور دیگر نے اپنی خدمات پیش کیں۔

یوں اہلیانِ کراچی کو اہلیانِ لیاری کی کوششوں سے بلوچی پروگرام سننے کا موقع ملا۔ جہاں بلوچی دیوان، گانے، خبریں اور انٹرویو نشر کیے جانے لگے۔ بعد میں یہ پروگرام خیر محمد ندوی کی زیرنگرانی سے ظہور شاہ ہاشمی اور ظہور شاہ ہاشمی سے بشیر بلوچ کے حصے میں چلا گیا۔ 1956 کو جب کوئٹہ میں ریڈیو اسٹیشن کا باقاعدہ آغاز ہوا تو بجائے کراچی کے بلوچی نشریاتی پروگرام کو جاری رکھا جاتا، نشریات کو کوئٹہ اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔ یوں کراچی سے بلوچی نشریات کا سلسلہ منقطع ہو کر رہ گیا اور کراچی کی ایک بڑی آبادی جو بلوچوں پر مشتمل تھی، بلوچی پروگراموں سے محروم ہوگئی۔

سن 2008 میں جب اسماعیل بلوچ ریڈیو پاکستان کراچی کے ڈائریکٹر بنے تو انہوں نے ایف ایم کراچی سے بلوچی نشریات کا دوبارہ آغاز کیا۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا، ’’ میری شروع سے خواہش رہی ہے کہ ریڈیو پاکستان کراچی سے بلوچی نشریات کا باقاعدہ آغاز کیا جائے۔ جب مجھے کراچی اسٹیشن کا ڈائریکٹر بنایا گیا تو میں نے پہلی فرصت میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بلوچی زبان کی نشریات کی منظوری دے دی۔ جس کی مخالفت بھی ہوئی۔ مرتضیٰ سولنگی جو اس وقت منیجنگ ڈائریکٹر تھے، نے میرے اس اقدام کو سراہا۔ پھر ایک وقت آیا کہ میرے پاس بلوچی پروگرام کو شروع کرنے کے لیے افرادی قوت نہ تھی تب میں نے خود پروگرم کے لیے بطور میزبان اپنی خدمات پیش کیں۔ یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔‘‘

یقیناً اسماعیل بلوچ کی کوششوں کی سراہنا ہوگا کہ انہوں نے کراچی کی چالیس لاکھ کی آبادی کو بلوچی نشریات سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔ جب بلوچی نشریات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا تو یہ روزانہ ایک گھنٹے کا پروگرام ہوا کرتا تھا۔ پروگراموں کی میزبانی آر جے سمل بلوچ، شکیلہ بلوچ، شے منظور، آصف گوہر، سلیم بلوچ، نعیم جان کیا کرتے تھے۔ لیکن پروگرام میں لائیو ٹیلی فون کال نہ ہونے اور نشریات کی محدود ٹرانسمیشن نے میزبانوں کو بددل کر دیا۔ وہ ایک ایک کر کے ریڈیو پروگراموں سے جدا ہو گئے۔ ان کے چلے جانے سے یہ پروگرام ہفتہ وار سے ایک روزہ ہوا۔ تب یہ پروگرام، بلوچ آرٹسٹ دانش بلوچ نے اپنے کندھوں پہ لے لیا۔ جب وہ بول نیوز سے وابستہ ہوگئے تو انہوں نے نئے نوجوانوں کو چانس دینے کے لیے یہ پوزیشن خالی کر دی۔ یہ ذمہ داری اب سرور رحیم ادا کر رہے ہیں۔

سرور رحیم کا کہنا ہے، ’’ مجھے اس پروگرام سے مالی حوالے سے اتنی مدد تو نہیں ملتی لیکن بلوچی زبان کی خدمت اور اس سے محبت مجھے اس پروگرام سے جوڑے رکھتی ہے۔ میں یہی سوچ کے پروگرام کرتا ہوں کہ اگر میں یہ پروگرام چھوڑ کر چلا جاؤں تو اس کا زیادہ نقصان بلوچی زبان ہوگا‘‘۔

ایسیان سلیم بلوچ کہتی ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ مختلف موضوعات پہ پروگرام رکھے جائیں۔ فیچرز و تحقیقی پروگراموں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ لیکن وہ اس لیے شروع نہیں کر پاتے کہ ان پروگراموں کے لیے ایک خطیر بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ادارے کے پاس نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایف ایم 93 کی بلوچی نشریات کو کتنا سنا جاتا ہے، اس کے لیے ریڈیو پاکستان کے پاس کوئی پیمانہ موجود نہیں۔ بنیادی وجہ ٹرانسمیشن کی خرابی، ٹیلی فون کال کی عدم دستیابی اور خطوط کا تبادلہ جو کسی زمانے میں ہوا کرتا تھا، قرار دیا جاتا ہے۔ جب کہ ریڈیو پاکستان کراچی ہی سے نشر ہونے والی FM 101 کی نشریات سامعین تک آسانی سے پہنچ جاتی ہیں۔ نشریات کی درستگی کی بنیادی وجہ اس کا کمرشلائز ہونا ہے۔ اردو کے علاوہ دیگر چار زبانوں بلوچی، سندھی، پنجابی اور پشتو زبان میں پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ بلوچی پروگرام کا آغاز اسماعیل بلوچ ہی کے دور میں ہوا۔ ایک ایک گھنٹے کی نشریات ہفتے میں دو بار نشر کی جاتی ہیں۔ بولان کے نام سے نشر ہونے والے اس پروگرام کے کمپیئر رحیم بخش بلوچ ہیں۔ جہاں مختلف موضوعات پہ پروگرام رکھے جاتے ہیں۔

پروگرام کو دو دن کے بجائے ہفتہ وار کیوں نہیں رکھا جاتا؟ اس کی وجوہات پروگرام منیجر ربیعہ اکرم وہی بتاتی ہیں جو ایسیان سلیم بلوچ نے بیان کیں؛’’بجٹ کا نہ ہونا‘‘۔ بلوچی نشریات میں کن کن موضوعات پہ پروگرام رکھا جاتا ہے؟ اس پر وہ کہتی ہیں، ’’ یہاں مختلف موضوعات پر پروگرام رکھے جاتے ہیں۔ پروگرام میں ریسرچرز، رائیٹرز، آرٹسٹوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کا ادب و ثقافت زیرِغور آتے ہیں۔ آج کل سی پیک پہ بھی اظہارِ خیال کیا جاتا ہے۔‘‘

ایف ایم 93 کے برعکس ایف ایم 101 کے پروگرام معیاری ہوتے ہیں۔ جس میں سامعین کی کالز اور میسیجز شامل کیے جاتے ہیں۔ جس سے سامعین کی دلچسپی میں اضافہ ہو تا ہے۔

کسی بھی زبان کی دیمروی کے لیے ریڈیو کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی موجودگی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد اب بھی ریڈیو سے وابستہ ہے۔ ریڈیو اب بھی سنا جاتا ہے۔ ریڈیو پاکستان کراچی کی بلوچی نشریات کو محدود کرنے کے بجائے کراچی کی بلوچ علاقوں تک پھیلانا چاہیے۔ اس حوالے سے فوری اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments
(Visited 54 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani