مرکزی صفحہ / بلاگ / گوادر کے بخشی کی پھوٹی قسمت

گوادر کے بخشی کی پھوٹی قسمت

عبدالحلیم

گوادر ایکسپو کے موقع پر ملک کے مختلف میڈیا گروپ سے وابستہ صحافیوں کی بڑی تعداد کو ایونٹ کی کوریج کی دعوت دی گئی تھی۔ نہیں معلوم کہ صحافیوں نے ایکسپو کی ایستادہ بلند عمارت سے پھرے پھلنے اور پھولنے والی زندگی کو کس قدر توجہ دی ہے۔

مگر ملک کے معروف میڈیا گروپ سے وابستہ ایک صحافی نے چائنیز کی محنتِ شاقہ اور عظمت سے متاثر ہو کر ایک بلاگ لکھ ڈالا۔
اس بلاگ میں گوادر بندرگاہ کا انتظام چلانے والی کمپنی China overseas port & holding company کے روح رواں مسٹر ژنگ باؤ ژنگ کی کام سے لگن کی تعریف کے پُل باندھے گئے۔ مسٹر ژنگ کا گوادر کے ایک فرضی کردار بخشی سے موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مسٹر ژنگ کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ صبح کا تڑکا پڑتے ہی اپنے کام میں مگن ہوتا ہے لیکن اگلی صبح تک اس کے ماتھے پر شکن کے آثار نظر نہیں آتے۔ جب کہ گوادر کا بخشی تا دیر رات سونے اور صبح دیر سے اٹھنے کا عادی ہے۔

چینیوں کی عظمت اور محنت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیوں کہ 1949 سے قبل چینی ایک اور طاقت کے زیرِنگین تھے لیکن چینیوں کے عظیم لیڈر ماؤزے تنگ نے اپنی تدبیر اور بہترین حکمتِ عملی سے سوئی ہوئی چینی قوم کو اس قابل بنایا کہ وہ آج پوری دنیا پر اپنی معاشی برتری کی پہچان قائم کر چکے ہیں۔

اگر گوادر کے بخشی کی تاریخ کے اوراق کو پڑھا جائے تو اس میں ماؤزے تنگ کے طرز کا کوئی کردار نہیں مل پائے گا جو بخشی کو عظمت اور محنت کا عملی درس دے کر اس کو عظیم قوم بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

گوادر کے بخشی کو ایکسپو سے پھوٹنے والی برقی قمقموں کی روشنیاں اور آسمان پر آتش بازی کے رنگ بھی اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے۔

کیونکہ جس وقت رنگ اور روپ کا یہ جلوہ گوادر کے دیمی زر اور پدی زر کے نیلگوں پانی کے حسن کو دوبالا کر رہا تھا تو بخشی اپنی پیھکی آنکھوں کے ساتھ گھپ اندھیرے میں اپنے گھر کے آنگن کی خستہ حال چارپائی پر بیٹھ کر بجلی کے بلب کے جلنے اور پانی کے ٹینکر کا ہارن بجنے کے انتطار میں تھا۔

گوادر کے بخشی کے شہر کی اہمیت سے مسٹر ژنگ بخوبی واقف ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ چست اور چاک رہتا ہے۔

مگر بخشی کی قسمت بدلنے والے ژنگ شاید بخشی کے شہر کی اہمیت سے کماحقہ طورپر واقف نہ ہوں۔ اگر ہیں بھی تو ان کے پاس ژنگ جیسا جذبہ ناپید ہے؟

ہاں کیوں کہ جس وقت بخشی کی قسمت پر راج کرنے والے چینیوں کی محنت اور عظمت کو خراج پیش کر رہے تھے تو بخشی پریشانی کے عالم میں اپنے کم سن بیٹوں کے ہمراہ پی ایچ ای گوادر کے پبلک ٹینک پر پانی کی چند بوتلیں بھرنے میں مصروف تھا۔

گوادر کے بخشی کی زندگی دو گھونٹ پانی کی متلاشی بن گئی ہے، شاید یہ غم اس کو رات وقتی سونے نہیں دیتا اور پھر بخشی تھکان کی وجہ سے صبح دیر سے اٹھتاہوگا۔

رات تادیر سونا بخشی اور گوادر کے دیگر بخشیوں کی پھوٹی قسمت کا حصہ بن گیا ہے۔ پتہ نہیں یہ قسمت بخشی کی آئندہ نسل کا پیچھا چھوڑ پائے گی کہ نہیں۔

مسٹر ژنگ پر قسمت کی دیوی مہربان ہے لیکن اس مہربانی کے لیے ان کے قسمت بدلنے والوں کی نیک نیتی اور خلوص بھی شامل ہے۔

فی الحال بخشی، زندگی کی رمق سے محروم اپنی خستہ حال چارپائی پر قسمت کی دیوی کے مہربان ہونے کا طالبِ دعا ہو کر بیٹھا ہوا ہے۔

Facebook Comments
(Visited 33 times, 1 visits today)

متعلق عبدالحلیم

گوادر میں مقیم عبدالحلیم کل وقتی صحافی ہیں۔ مقامی مسائل کی کوریج میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ صحافت اور ادب کے امتزاج سے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ Email: haleemhayatan@gmail.com