مرکزی صفحہ / علمی حال / ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا غفور حیدری کا تربت یونیورسٹی کا دورہ

ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا غفور حیدری کا تربت یونیورسٹی کا دورہ

حال حوال

مکران جیسے دوردراز علاقے میں یونیورسٹی آف تربت جیسے ادارے کو کم وقت میں پھلتا پھولتادیکھ کر مجھے بے حدخوشی محسوس ہو رہی ہے۔ تربت یونیورسٹی نے اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھ کر ایک مثال قائم کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین مولاناعبدالغفورحیدری نے تربت یونیورسٹی کے دورہ کے موقع پروائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعبدالرزاق صابرسے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔

تربت یونیورسٹی آمد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعبدالرزاق صابر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر رجسٹرار تربت یونیورسٹی ڈاکٹر حنیف الرحمان، ڈین فیکلٹی آف منیجمنٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر منیر احمد گچکی ، ڈین فیکلٹی آف آرٹس ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ، ڈین سکول آف لا پروفیسرڈاکٹرگل حسن ،اور ڈائریکٹر پلاننگ محمد حیات کے علاوہ اساتذہ کرام اور انتظامی افسران بھی موجود تھے۔

سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین مولاناعبدالغفورحیدری نے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹرعبدالرزاق صابرکی قیادت میں تربت یونیورسٹی کی چار سالہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں کے طالب علموں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا بے پناہ جذبہ موجود ہے ان کو چاہیے کہ ہر میدان میں مقابلے کے لیے خود کو تیار رکھیں کیوں کہ آج کل ملک وقوم کی ترقی تعلیم سے وابستہ ہے۔

اپنے مختصر استقبالی خطاب میں تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعبدالرزاق صابر نے یونیورسٹی کا مختصرتعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ نامساعد حالات کے باوجود تربت یونیورسٹی نے چار سال کے قلیل مدت میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ملکی سطح پر اپنی پہچان قائم کی ہے جس کے لیے اساتذہ کرام اور انتظامی افسران کی محنت کے علاوہ ہائرایجوکیشن کمیشن، گورنربلوچستان محمد خان اچکزئی،سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور وفاقی وصوبائی حکومتوں کی سرپرستی اور تعاون حاصل رہاہے۔

اس موقع پرتربت یونیورسٹی کے لیے خلیل بلیدی نے ایک لاکھ روپے کی کتابیں اور خالد ولیدسیفی نے پچاس ہزار روپے کی کتابیں دینے کا اعلان کیا۔

Facebook Comments
(Visited 11 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔