مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / آج محبت کا دن ہے!

آج محبت کا دن ہے!

محمد خان داؤد

آج محبت کا دن ہے!!

محبت بھی وہ جو ماری جا رہی ہے، جو کاری کی جا رہی ہے، جو الزاموں کی زد میں ہے، جو جرگوں کی نذر ہو رہی ہے۔ محبت پہ جرگے کیے جا رہے ہیں، جرگوں میں بھاری رقمیں رکھی جا رہی ہیں۔ محبت کو رقم سے تولا جا رہا ہے۔ جو وٹے سٹے کی بھینٹ چڑھ رہی ہے، جو پنپ نہیں رہی، جو کچلی جا رہی ہے، جو اغوا ہو رہی ہے۔ محبت کا لباس تار تار ہو رہا ہے۔ جس سے اس کا سانولا جسم دِکھ رہا ہے۔ جو ریپ کی جا رہی ہے۔ جسے قصوروار ٹھہرا کر اس کے سینے میں گولیاں اتار دی جا تی ہیں۔ محبت کو مارا جا رہا ہے۔ محبت کی اداس لاش پر اجرک ڈالی جا رہی ہے اور اجر ک سوالیہ نشان بن جاتی ہے(؟)۔

وہ محبت جس کے سامنے بہت اونچی دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ محبت کی آواز ان دیواروں سے باہر ہی نہیں آتی۔ جسے سنگ سار کیا جاتا رہا ہے، جسے ونی کیا جاتا رہا ہے۔ جس کے حسین چہرے پر تیزاب پھینکا جا رہا ہے۔ وہ محبت جسے حسین ہونے کی سزا ملتی رہی ہے۔

وہ محبت جو ہر بار سولی پر چڑھی ہے، جسے اظہار کی کوئی آزادی نہیں، جو کہنا چاہتی ہے پر جس نے کبھی نہیں کہا۔ محبت کے لب سلے ہوئے ہیں، جو کبھی یہ نہیں کہتی کہ، "تم کتنے حسین ہو!”
ہر بار اسے ہی کہا گیا ہے، "تم کتنی حسین ہو!”
اور اس نے ان جھوٹے جملوں پر اعتبار کیا ہے۔!!

محبت کو یہ اختیار ہی نہیں دیا گیا کہ وہ کسی کو چومے۔ ہر بار اسے ہی چوماگیا ہے۔ جسے نہیں چوما گیا، اسے جلا دیا گیا ہے، مٹا دیا گیا ہے۔ اسے سنگ سار کر دیا گیا۔ اسے ان کھیتوں میں رسی سے لٹکا دیا گیا۔ جو کھیت ایسے قتلوں کے بعد ویران ہو جاتے ہیں۔ ان کھیتوں میں پھول نہیں کھلتے۔ ان کھیتوں میں محبت کرنے والے پنچھی نہیں اترتے، ایسے دیس میں جہاں محبت جرم ہو،گالی ہو۔ پھر بھی محبت کٹی ہوئی فصل کے گلوں کی طرح پھر اُگ آتی ہے، پھر کاٹی جاتی ہے۔ پھر اُگ آتی ہے اور یہ اُگنے، کٹنے کا سلسلہ نہیں رکتا!

آج محبت کا دن ہے۔ محبت میں چومنے کا دن ہے۔ محبت میں اظہار کا دن ہے۔
آج محبت کے جسم پر سرخ پھولوں کے اُگ آنے کا دن ہے۔
ان سرخ پھولوں کو ہاتھوں سے چننے کا دن ہے۔
آج محبت کے جسم کو چومنے کا دن ہے۔
آج محبت کے جسم پرخوشبو مَلنے کا دن ہے۔
آج رنگوں میں نہانے اور دل پر محبت کا رنگ چڑھانے کا دن ہے۔
آج محبت کے جسم کی وادیوں میں اتر جانے کا دن ہے۔
آج کتابیں پڑھنے کا دن نہیں، آج تو محبت بھرے گیت گانے کا دن ہے۔
وہ پھول جو سراسر محبت ہوتے ہیں، جنہیں دیکھ کر دل مسرور ہوتا ہے اور جھوم جاتا ہے اور اتنا مجبور ہوتا ہے کہ کہہ ہی اُٹھتا ہے کہ
، "تم کتنی حسین ہو، مجھے تم سے محبت ہے!”

آج ان محبتوں کے مل جان کا دن ہے۔ محبت کے اذیت بھرے دنوں میں کئی سرخ پھول زرد ہوئے۔ آج پھر ان زرد پھولوں کا سرخ ہونے کا دن ہے۔ آج انتظار کی اذیت کا دن نہیں ہے۔ آج تو میلاپ کا دن ہے۔ آج دو جسموں اور دو دلوں کو مل جانے دو۔ آج خاموش رہنے کا دن نہیں ہے، آج دل کی باتیں زباں پر لانے اور سب کچھ کہہ دینے کا دن ہے۔ آج پھولوں کو ہاتھوں میں لیے بیٹھے رہنے کا دن ہے۔ آج تو پھول کو زلفوں میں سجانے کا دن ہے۔ محبت کو دیکھنے کا دن ہے۔ محبت سے نظر چرانے کا دن نہیں ہے۔ تمہیں دیکھنے کا دن ہے۔ تمہاری میٹھی باتیں سننے کا دن ہے۔ تمہارے ساتھ رہنے کا دن ہے۔

مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہیں مجھ سے کوئی محبت نہیں ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ محبت اپنے آپ آ جاتی ہے، جیسے مے کدے پہ شبنم کے قطرے رہ جاتے ہیں، سورج کی تمازت بھی انہیں وہاں سے غائب کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

محبت مہ کدے پہ شبنم کے وہ قطرے ہیں۔ تم چاہو یا نہ چاہو، وہ وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ تم چاہو تو بھی وہ نہیں برسیں گے۔ وہ اپنے آپ دلوں پر اور مے کدوں پر برستے ہیں اور اپنے آپ چلے جاتے ہیں۔ پر محبت بھرے نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ تم یقین جانو کسی لباس کی طرح میں نے وہ محبت کی اُوڑھنی نہیں اُوڑھ لی۔ پر وہ محبت تو اب دل میں دھڑکن کی طرح پوست ہو چکی ہے۔

میں بھی آج اپنے ہاتھوں میں پھول لیے تمہیں ڈونڈھ رہا ہوں۔اور وہ خوشبو تمہارے بدن پر مَلنا چاہتا ہوں جو محبت کی خوشبو ہے۔ اگر بہت نہیں بھی تو ایک بوسہ تو ضرور لینا چاہتا ہوں۔ ایسا بوسہ کہ جس کا ذائقہ کبھی نہ بھول پاؤں۔

ہاتھوں میں پھول، خوشبو اور دل میں محبت اور لبوں پہ بوسہ لیے کھڑا ہوں… پر جانم تم بہت دور ہو…
کہاں ہو تم؟! کہاں ہوں میں؟!!

پھول، خوشبو اور بوسہ امانت ہیں۔ میں انہیں سبنھالے رکھتا ہوں۔ تم بہت دور ہو تو دور ہونے پر آج تمہیں بائبل کا باب "گیتوں کے گیت” سناتا ہوں اور تمہاری نذر کرتا ہوں جو سراسر محبت ہے۔ جس کے سبھی الفاظ محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ انہیں محبت کے دن پر ہماری طرف سے قبول کرو۔

بھلے وہ اپنے منہ سے مجھے چومتی رہی، اس کی محبت شراب سے بہتر ہے!
میرا محبوب میرے لیے ایسا ہے کہ جیسے چھاتیوں کے درمیان پھولوں کا جھولتا ہار!
میرا محبوب میرے لیے ایسا ہے جیسے کہ مہندی کا کوئی پھول جس سے دلہنوں کے ہاتھ رنگے جاتے ہیں محبت میں!
دیکھو میری محبوبہ! تم بہت حسین ہو، بہت خوبصورت ہو، تمہاری آنکھیں کبوتر کے جیسی ہیں!
میری محبوبہ! تم بہت حسین ہو، مجھے بہت پسند ہو!
تم کسی وادی کا پھول ہو، اس پھول کی خوشبو ہو، وہ وادی اس خوشبو سے بھر جاتی ہے!
اے میری محبوبہ! جب تمہاری نظر مجھے گھورتی ہے تو میرے جسم پر محبت کے پھول کھل آتے ہیں!
تمہاری چھاتیوں کا لمس ایسا ہے کہ جیسے، جیسے صحرا میں ٹھنڈا پانی!
میں صحرا میں بھٹک جاتا اگر تمہاری محبت کا پرچم میرے اوپر نہ ہوتا!

اے میری محبت! تم ایسے محبت بھرے ہزاروں دن دیکھو اور صدا ہنستی مسکراتی رہو۔
آج تم اتنا ہنسو
جیسے کہ کوئی سیکڑوں قیدی پرندے آزاد کرے
جو آکاش کو اُڑ جائیں
یا بارش سمندر پر گرے رفتار سے
یا سورج نکل آئے بادلوں سے
بارش کے دنوں میں!!

Facebook Comments
(Visited 18 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com