مرکزی صفحہ / بلاگ / بے روزگار انجینئرز ذہنی مریض بن گئے!

بے روزگار انجینئرز ذہنی مریض بن گئے!

محبت خان مری

بلوچستان میں ایک انتہائی قابل اور تعلیم یافتہ طبقہ (انجینئرز) کا احساسِ کمتری بلوچستان کے اُن لوگوں سے حد درجہ زیادہ ہے، جو دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔

تاریخ کے اوراق کو پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تہذیب و ترقی کا سر انجینئرز کے سر رہا ہے۔ کیون کہ پوسٹ ماڈرن دور سائنس و ٹیکنالوجیکل ترقی کا مرہونِ منت ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی، ٹیکنیکل ایجوکیشن کا دوسرا نام ہے، جس میں شعبہ طب اولین ترجیح رکھتا ہے۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ "جان ہے تو جہان ہے”۔

پھر اگر غور کیا جائے تو انجنیئرز ہی تو ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا۔ انجینئرز جیسی ماہر و ہنریافتہ طبقے کو بروئے کار لا کر ہی کسی بھی معاشرے، ریاست کی ترقی کو جدید راہوں پہ استوار کیا جا سکتا ہے جو معاشرے، ریاستیں ٹیکنیکل قوتوں سے محروم ہیں وہ اس جدید دنیا میں ایک کارخانے کے اُس مظلوم مزدور کی طرح ہیں جو کہ سو کلو گرام کے آٹے کی بوری تو اٹھا سکتے ہیں پر خرید نہیں سکتے۔

عین اِسی طرح بلوچستان کے قدرتی وسائل سے مالا مال دھرتی سیندک، ریکوڈک، سوئی کے ذخائر جب انڈسٹریز کرومائیٹ، کوئلہ کے ذخائر اور سب سے بڑھ کر گوادر بندرگاہ کی صورت نیشنل و انٹرنیشنل اکانومی کو بوسٹ اَپ کرنے کی صلاحیت تو رکھتی ہے پر قرب و جوار کے لوگوں کے لیے روزگار مہیا کرنے سے قاصر ہیں۔ وہاں کے باسی پانی کی بوند اور دو وقت کی خشک روٹی کو ترستے ہیں اور ڈھول یہ رچایا جاتا ہے کہ یہ لوگ نان ٹیکنیکل ہیں۔ جب کہ حقیقت کا پیمانہ یہ ہے کہ ڈپلومہ ہولڈرز کے علاوہ بلوچستان کے دو ہزار سے زائد بیچلرز اور ماسٹر آف انجینئرنگ ہولڈرز بے روزگار ہیں اور ہر چھ ماہ کے بعد نئے انجنیئرز فارغ و التحصیل ہو رہے ہیں۔

مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایک تو ایک طرف اس صوبے کی تنزلی کا رونا رویا جاتا ہے تو دوسری طرف ذہین ترین، مثبت سوچ اور روشن خیال و انتہائی مہارت یافتہ افرادی قوت جنہوں نے یہ ڈگری جھونپڑیوں اور پہاڑی سنگلاخوں سے نکل کر حاصل کی پھر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انجینئرنگ جیسی ڈگری ہاتھ میں ہونے کے باوجود وہ در در کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہیں۔

جب کہ ایسا کوئی شعبہ زندگی نہیں جہاں انجینئرز کی ضرورت نہیں اور ان کے لیے آسامیاں خالی نہ ہوں، ایک اور انتہائی دکھ دینے والا عمل جو دیکھا گیا ہے وہ یہ کہ تمام محکمے شاذ و نادر اگر کوئی انجنئیرنگ کی آ سامی پیدا کرتے ہیں، اور بھی وہ BPS-17 کی بجائے BPS-11 کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

اگر ایسا ہے تو پھر ڈاکٹروں کی بجائے میڈیکل ٹیکنیشن کی پوسٹوں پر MBBS تعین کر کے ترقی دے کر پھر انہیں فزیشن اور سرجن بنایا جائے اور بیورکریٹ بننے کے لیے کلرک اور پھر تجربے کی بنیاد پر انہیں ترقی دی جائے اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پروفیسرز/ لیکچررز کی بجائے JVT بھرتی کیے جائیں اور پھر انہیں ترقی دی جائے۔ معذرت کے ساتھ یہ درجہ بالا باقی تمام شعبے اور ان میں اپنی صلاحیتیں سرانجام دینے والے قابلِ قدر ہیں اور ان سے کوئی گلہ نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام محکموں میں انجنیئرز کو ان کی تعلیمی قابلیت کے حوالے سے BPS-17 کی آسامیوں پر خدمات سرانجام دینے کا موقع دیا جائے۔ سب انجنیئرنگ BPS-11 کی بجائے BPS-16 کر دیا جائے۔ اس میں سب کی اور سب سے بڑھ کر سرکار کی مشینری ہی کا فائدہ ہے، کیوں کہ ایک نوجوان کے انجنیئر بننے پر والدین اور حکومت کا کم از کم پندرہ لاکھ سے زیادہ خرچ ہوتا ہے مگر فارغ التحصیل ہونے کے بعد ان کی ذہانت کو زنگ لگ جاتا ہے اور پھر وہ پہاڑوں کا رخ کر کے بھیڑ بکری چراتے ہیں، کہیں ایرانی تیل بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں، تو کہیں وہ کلرک بھرتی ہیں اور یوں ذہانت سے معاشی بے ضابطگی جنم لیتی ہے۔

شاید اس قدر دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا تب ممکن ہو جب حکومتِ بلوچستان، بلوچستان میں موجود تمام سرکاری و نیم سرکاری محکموں میں انجنیئرز کی باوقار (BPS-17) کی آسامیاں جو کہ متعلقہ شعبے کی ضرورت و ترقی میں معاون ہوں، یقینی بنائے اور بلوچستان میں موجود سیندک، ریکوڈک، بولان مائینز انٹر پرایئزر، ماڑی گیس کمپنی، OGDCL،PPL،SSGC، کول مائینز اور ٹیلی کمینیکیشن کمپنیوں سمیت سیکڑوں دیگر کمپنیوں میں بلوچستان کے انجنیئرز کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کا موقع دیا جائے۔

اسی طرح شاید حکومتِ پاکستان تمام دوسرے صوبوں بشمول اسلام آباد میں کام کر نے والے گھریلو، نیشنل اور انٹرنیشنل کمپنیوں میں بلوچستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی ذہین طبقہ کی مایوسی میں کمی آئے اور وہ ذہنی مریض بننے کی بجائے دنیا کی جدید صفوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یقیناً اِن کی وجہ سے پیدا ہونے والے بوجھ سے نہ صرف ان کے والدین ، معاشرہ اور صوبے کو تکلیف ہوگی بلکہ پورے ملک پر انتہائی منفی اثرات پڑیں گے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سے گزارش ہے کہ وہ بلوچستان کے انجینئرز کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کریں اور ایک کمیٹی تشکیل دیں جو ملک بھر میں بلوچستان کے بے روزگار انجینئرز کے لیےspace بنائے۔

Facebook Comments
(Visited 15 times, 1 visits today)

متعلق محبت خان مری

محبت خان مری
محبت خان مری کا بنیادی تعلق کوہلو سے ہے۔ انجینئرنگ کے طالب علم ہیں۔ فکشن کے علاوہ سماجی معاملات پہ لکھنے کا ذوق رکھتے ہیں۔ mohbatoptimist@gmail.com