مرکزی صفحہ / بلاگ / دھرتی کی بیٹی، عاصمہ جہانگیر

دھرتی کی بیٹی، عاصمہ جہانگیر

انور عباس انور

مشرق میں عورت کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنانا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور عورت کو صنفِ نازک قرار دے کر مردانگی کی دھاک بٹھانا فخر مانا جاتا ہے۔ مشرقی عورت کو غلام، خادمہ یا ملازمہ کا سٹیٹس دے کر مرد اپنی برتری قائم رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں عورت کو پاؤں کی جوتی یا زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے والی مشین سے تصور خیال کیا جاتا ہو، اس معاشرے میں عورت کا اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا کسی انہونی کے مترادف خیال کیا جانا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہوتی۔

اس گھٹن زدہ معاشرے میں جہاں ایک دوسرے کی بات، سوچ اورنکتہ نظر کو برداشت کرنے کا رواج نہ ہو وہاں اپنے لیے، اپنے دیس کی محکوم و مجبور خواتین کے حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا، بھٹہ مالکان کے ہاتھوں زنجیروں میں جکڑ ے مزدوروں کو آزادی دلوانے کے لیے مافیاز کے خلاف عدالتوں اور عدالتوں سے باہر لڑنا وہ بھی ایک نہتی عورت کا عاصمہ جہانگیر کا ہی کام ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے صرف بھٹہ مالکان اور خواتین کے حقوق کے لیے ہی آواز بلند نہیں کی، اس نے تو بندوقوں اور سنگینوں سے مسلح فوجی آمروں کو بھی للکارا ہے۔ ہر آمر کے عوامی حقوق پر شب خون مارنے کے اقدام کے آگے عاصمہ جہانگیر سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑی ہوگئی۔ جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کو عاصمہ جہانگیر نے اس وقت چیلنج کیا جب اس کی عمر محض 20 سال تھی۔ یحییٰ خان نے ان کے والد ملک غلام جیلانی کو مارشل لا ضابطے کے تحت گرفتار کیا تھا۔

پاکستان کی تاریخ میں ہماری عدالتوں میں تشریف فرما بہادر ججز نے اگر کسی فوجی جنرل کے مارشل لا لگانے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے تو وہ جنرل یحییٰ خان کا مارشل لا ہے۔ اور اسے سپریم کورٹ میں عاصمہ جہانگیر نے ہی چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے یہ تاریخی فیصلہ یحییٰ خان کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد سنایا تھا۔

عاصمہ جہانگیر نے آمروں سمیت ہر ظلم کے خلاف لڑنا اپنے والد سے سیکھا تھا کیونکہ اس کے والد ملک غلام جیلانی بھی ملک میں ہونے والی ہر ناانصافی کے خلاف میدان میں نکل آتے تھے۔ اگرلوگوں نے ان کا ساتھ نہیں بھی دیا تو وہ اکیلے ہی لاہور اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر احتجاج کرتے دیکھے گئے۔ ایسے باپ کی آغوش میں پرورش پانے والی عاصمہ جہانگیر بھلا کیسے ظلم و زیادتی کے خلاف خاموش تماشائی بن سکتی تھی۔

عاصمہ بی بی کا ذکر کرتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کا تذکرہ نہ کیا جائے تو یہ انصاف نہیں ناانصافی کے زمرے میں آئے گا۔ عاصمہ جہانگیر کا سایہ بن کر اس کے ساتھ جڑی رہنے والی کوئی غیر نہیں اس کی سگی بہن حنا جیلانی ہے۔ اللہ اس کو ہمارے لیے، اس قوم کے لیے اور دنیا کے ہر مظلوم کے لیے کھڑا ہونے، آواز بلند کرنے( کھڑی تو وہ پہلے بھی ہے اور آواز بھی بلند کرتی ہے) ہمت، جرآت اور طاقت دگنی چگنی عطا کرے اور وہ محکوموں ، مجبوروں اور بے سہاروں کو عاصمہ کی کمی محسوس نہ ہونے دے۔ حنا جیلانی کے روپ میں جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق پر شب خون مارنے والے آمروں کو عاصمہ جہانگیر ہی دکھائی دے۔

عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی کے ساتھ میری ابتدائی ملاقات ضیائی مارشل لا کے ان ایام میں لاہور ہائی کورٹ میں ہوئی جب بھٹو صاحب کی درخواست ضمانت جسٹس کے ایم اے صمدانی کی عدالت میں زیرِسماعت تھی۔ دونوں بہنیں ایک ساتھ لاہور ہائی کورٹ میں پہنچتیں، ہر وقت ان کے چہروں پر مسکراہٹ رقصاں ہوتی، ہر ایک سے ہنس ہنس کر بات کرتیں۔ ان دونوں بہنوں نے اپنے پروفیشنل دوستوں، صحافیوں اور عوام الناس کے دلوں میں بسنے مقام حاصل کیا۔ ایم آرڈی کی بحالی جمہوریت کی تحریک میں بھی ان دونوں بہنوں نے لافانی کردار ادا کیا۔

ضیا الحق کے دور میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جلاوطنی ختم کر کے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کیا تو لاہور ایئرپورٹ سے لے کر مینارِ پاکستان تک عوام کے سمندر میں بھی دونوں بہنیں موجود تھیں۔ گویا انہوں نے دخترِ مشرق بے نظیر بھٹو کو ’’جی آیاں نوں‘‘ کہنا، گھر بیٹھنے سے ضروری خیال کیا۔ چونکہ میں دوسرے صحافیوں کے ہمراہ ٹرک پر سوار تھا اس لیے ساری موومنٹ کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ دونوں بہنیں اپنے ساتھ کامریڈ نقی کے ساتھ مینارِ پاکستان تک موجود رہیں۔ اور چپ چاپ نہیں بلکہ ضیاالحق کے خلاف اپنے روایتی انداز میں نعرے لگاتیں۔

عاصمہ جہانگیر آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن وہ اپنی آئین اور قانون کی سربلندی، جمہوریت کی بحالی و استحکام اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ حناجیلانی، عاصمہ کا ہی روپ ہے۔ عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی ایسے ہی ہیں جیسے لکشمی کانت پیارے لال، اور بخشی وزیر کام دونوں مل کر کرتے تھے لیکن نام سے لگتا تھا کہ ایک ہی فرد ہے۔ ایسے ہی عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی کام ملک جل کر کرتی تھیں لیکن چہرہ عاصمہ جہانگیر کا ہوتا تھا۔

حنا جیلانی، ہمت نہیں ہارنی ۔۔۔ عاصمہ کی جدائی اور غم کو کمزوری نہیں بنانا بلکہ بقول بے نظیر بھٹو، غم اور دکھ کو ہم نے اپنی طاقت بنانا ہے۔

Facebook Comments
(Visited 18 times, 1 visits today)

متعلق انور عباس انور

khas.loag@gmail.com