مرکزی صفحہ / بیادِ لالہ صدیق بلوچ / لالا صدیق بلوچ کی یادیں

لالا صدیق بلوچ کی یادیں

ظریف بلوچ

یہ چھ فروری کی صبح تھی کہ میں آج معمول سے پہلے نیند کی آغوش سے بیدار ہو چکا تھا۔ حسبِ معمول میں موبائل کو آن کرنے کے بعد ایک درجن کے قریب وٹس ایپ گروپ سے آنے والے میسجز پر سرسری نگاہ دوڑاتا رہا۔ پہلی نظر ”ساربان“ گروپ کے ایک میسج پر پڑی جہاں لالہ صدیق کی ناگہانی موت کی خبر دیکھ کر افسردگی ہوئی۔

اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا مگر پھر افسردہ چہرے کے ساتھ اس خبر کو تصدیق کرنا پڑی کہ یہ لالہ کے بیٹے عارف بلوچ کی پوسٹ تھی۔ میں معمول کی چیزوں سے ہٹ کر افسردہ نگاہوں سے اپنے باقی میسجز کی طرف بڑھ رہا تھا کہ لالہ کے بھائی اسلم جنگیان صاحب کی جانب سے بھیجی گئی اس افسردہ خبر پر ایک بار پھر نظر پڑی۔

میں اپنی دنیا سے کافی دور تھا اور پریشانی کے عالم میں لالہ اور طارق بلوچ کے وٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغامات پر نظر دوڑاتا رہا۔ اب مجھے معلوم ہو رہا تھا کہ طارق مجھ سے پسنی آنے کا وعدہ کر کے کیوں پسنی نہ آنے کا خاموش ارادہ کر رہا تھا۔ پھر کسی اور دنیا میں مگن تھا، لالہ سے متعلق آنے والے وٹس اپ پیغامات کا بغور جائزہ لے رہا تھا اور اسی سوچ میں مگن ہو گیا کہ میں کہاں اور کتنی عظیم ہستی مجھ سے رابطے میں تھی۔

مجھے سریاب روڑ کے گلی میں موجود روزنامہ آزادی کا دفتر پھر یاد آ رہا تھا اور لالہ سے فون پر ہونے والی گفتگو جو مجھے ہر وقت حوصلہ دیتی تھی۔ اس لیے نہیں کہ میں ان کے صاحبزادے طارق بلوچ کا دوست تھا بلکہ میں لڑکپن سے روزنامہ آزادی کا ایک ادنیٰ سا رپورٹر تھا۔ بلکہ اس لیے بھی کہ لالہ اپنے ہر رپورٹر سے رابطے میں ہوتا تھا۔

مجھے وہ رات اب بھی یاد آتی ہے جب میں اپنے شہر میں ہونی والے ایک بڑے جلسے کی خبر فیکس کرنے کے بعد اخبار کا آفس کا نمبر ڈائل کر چکا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم خبر فیکس کرتے تھے۔ دوسری طرف آنے والی آواز کسی اور کی نہیں تھی بلکہ لالہ بول رہا تھا ۔ میں نے کہا پسنی سے بات کر رہا ہوں۔ اپنا نام بتانے سے پہلے لالہ مجھے پہچان چکے تھے اور خبر ملنے کی تصدیق بھی۔

اگلے دو دن بعد جب گوادر سے روزنامہ آزادی اور بلوچستان ایکسپریس کی کاپی مجھ تک پہنچی تو بلوچستان ایکسپریس میں مین پیج پر میرے نام کے ساتھ لگنے والی اس خبر نے مجھے آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ اب چونکہ انٹرنیٹ کی دنیا کے بعد روزنامہ آزادی اور بلوچستان ایکسپریس صبح اٹھنے کے بعد مجھے پڑھنے کو ملتے ہیں اور اب بھی میں صبح اٹھنے کے فورا بعد اپنا اخبار روزنامہ آزادی اور بلوچستان ایکسپریس کو ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھ کر سکون کا سانس لیتا ہوں ۔ اس لیے کہ مجھے لالہ کے اخبار نے بچپن سے لکھنے کا ہنر سکھایا۔ مجھے حوصلہ دیا، مجھے جینے کا سلیقہ دیا۔

مجھے اس بات پر بہت خوشی ہوتی ہے کہ بلوچستان کا واحد اخبار روزنامہ آزادی ہے جو میرے بلاگ کو ادارتی صفحہ پر جگہ دیتا ہے اور یہ نوجوان رائٹر کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔

لالہ صدیق بلوچستان کا نڈر اور سچ بولنے والا ایک صحافی اور دانش ور تھا۔ لالہ نے حکمرانِ وقت سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے بلوچستان کے مسائل کو اپنے اخبارات میں نمایاں شائع کرنے کو ترجیح دی۔ لالہ کی صحافتی زندگی پر لکھنا میرے لیے بہت مشکل ہے کیونکہ لالہ کی جانب سے بھیجے گئے وٹس ایپ پیغامات دیکھ کر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اتنے بڑے درجے کے مالک صحافی اور دانش ور ہوتے ہوئے ایک عام سے نامہ نگار کو وہ کتنا اہم مقام دیتے تھے۔ میرا لالہ سے بہت کم رابطہ ہوتا تھا مگر طارق بلوچ سے میں اکثر الجھ جاتا تھا کیونکہ وہ مجھے لالہ جیسا لگتا تھا۔

روزنامہ آزادی سے میری وابستگی، لالہ صدیق کے بیٹے اور اپنے بھائی نما دوست طارق بلوچ کی وجہ سے ہوئی۔

طارق بلوچ بھی میرے مزاج کا نکلا جس سے وقتا فوقتا رابطہ کا سلسلہ چلتا رہا۔

آج سے 11 سال پہلے جب سریاب روڈ کی ایک گلی میں روزنامہ آزادی کے دفتر میں جانا نصیب ہوا، جہاں لالہ سے تو ملاقات نہ ہوسکی مگر طارق بلوچ کی زبانی روزنامہ آزادی کے ابتدائی ادوار تک کا سفر سننا نصیب ہوا۔

طارق بلوچ سے میرا حال حوال پندرہ سال پہلے ہوا تھا۔ جب میں نے روزنامہ آزادی کے لیے کام شروع کیا۔ مجھے یاد ہے اس وقت کوئٹہ کے اخبار گوادر ڈسٹرکٹ میں بہت کم آتے تھے۔ مگر یہ لالہ اور طارق کی محبت تھا کہ ہم ان کے اخبار کے لیے رپورٹنگ کرتے تھے اور ہمیں اخبار بھی لیٹ ملتے تھے۔

یہ لالہ صدیق صاحب کی نوجوان دوستی کا ثبوت تھا کہ مجھ جیسے نوجوان کو انہوں نے اپنے اخبار کے لیے چنا اور لالہ کی صحافت دوستی کا اندازہ اس بات پر لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ہر وقت اپنے اخبار میں پسماندہ علاقوں کے خبروں کو ترجیح دی۔ جب روزنامہ آزادی اور بلوچستان ایکسپریس سے میں منسلک ہوا تو میں بہت کم عمر تھا مگر لالہ کی محبت اور طارق بلوچ کے خلوص اور پیار نے مجھے حوصلہ دیا۔

آج آزادی اور ایکسپریس میں کام کرنا ہر ایک کی خواہش ہے۔ مگر یہ پیار شاید بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے اور ان میں اپنے آپ کو ایک خوش نصیب تصور کرتا ہوں۔

Facebook Comments
(Visited 21 times, 1 visits today)

متعلق ظریف بلوچ

ظریف بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی سے تعلق رکھنے والا ظریف بلوچ گوادر کے ان موضوعات پر لکھنا پسند کرتا ہے جن پر لکھا نہیں گیا ہے۔۔