مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / جن کو کوئی نہ پوچھتا تھا، وہ عاصمہ کا پتا پوچھتے تھے!

جن کو کوئی نہ پوچھتا تھا، وہ عاصمہ کا پتا پوچھتے تھے!

محمد خان داؤد

اب لاہور میں
وہ لوگ دیوانہ وار اس کا پتا پوچھتے پھریں گے
وہ سوسائٹی!
وہ گلی!
وہ گھر!
اور اس گھر کا در
پر وہ نہیں مل پائے گی
وہ منتظر ہے
اپنی بیٹی کی
کہ وہ آئے
اور یہ یاد بن جائے
یاد میں آنسو بن جائے
اپنوں کو یاد رہ جائے
اُن سے بھول جائے
جو اس پر الزام دھرتے تھے
جو اسے گالی دیتے تھے
جو اسے مذہب کے نام پر بدنام کرتے تھے
جو اسے قادیانی کہتے تھے

وہ بس آج تک ہے
وہ بھی لاہور کے گھر میں نہیں
سرد خانے میں
عاصمہ کے نام سے بھی نہیں
باڈی نمبر ۲۱
بوڑھے جوانوں کے لیڈر وہ جا چکی
انصار عباسی، وہ جا چکی
الطاف حسین، وہ جا چکی
مولیوں وہ جا چکی
اسلامی بھائیوں وہ جا چکی
پر اب ان کا کیا ہوگا
جنہیں کوئی نہیں پوچھتا تھا
اور وہ لاہور میں عاصمہ کا پتا پوچھتے تھے!!

Facebook Comments
(Visited 14 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com