مرکزی صفحہ / خصوصی حال / بلوچی کامیڈی کی دُنیا کا ایک بڑا نام دُر محمد افریقی (حصہ دوم)

بلوچی کامیڈی کی دُنیا کا ایک بڑا نام دُر محمد افریقی (حصہ دوم)

تحقیق و تحریر : دانش بلوچ

1985ء میں جب خاکوں اور گانوں پر مبنی پہلا بلوچی ویڈیو پروگرام "طنز گِر” کے خالق نعیم نثار اس کی تیاریاں کر رہے تھے تو انہوں‌ نے دُرمحمد افریقی کی سب سے زیادہ مقبول مزاحیہ گانا ( نہَ وَد نو روپیہ کُکڑ پشیءَ بُرتا وارتا ) کو مزاحیہ انداز سے پکچرائز کرنے کا سوچا، تو اس کے لیے دُرمحمد افریقی سے بات کی گئی۔ جب اس نے ان نوجوانوں کا جذبہ دیکھا تو راضی ہوگئے اور اس کاوش کے لیے خود اپنی خدمات بھی پیش کیں، لہٰذا یہ گانا ان پر پکچرائز کیا گیا، اس گانے میں دُرمحمد افریقی کے علاوہ مشہور ڈانسر ابراہیم ڈاڈا اپنے گروپ کے ساتھ، نعیم نثار خود اور ان کے بہت سے دوسرے ساتھیوں نے حصہ لیا۔

1986ء میں جب یہ پروگرام ریلیز ہوا تو اس پروگرام کے مزاحیہ خاکوں کے ساتھ ساتھ دُرمحمد افریقی کے اس گانے نے دھوم مچادی۔ اس پروگرام کی مقبولیت کے بعد کچھ اور نوجوانوں نے بھی ہمت کر کے اس قسم کے مزاحیہ پروگراموں‌ پہ کام کرنا شروع کیا، مگر دلچسپ امر یہ تھا کہ ان سب پروگراموں کا محور یا مرکزی کردار دُرمحمد افریقی ہی تھے۔

"طنز گِر” کے بعد 1987ء میں انور عیسیٰ کی ہدایات میں "وَش مَلًے” ، 1988ء میں شریف سربازی کی ہدایات میں "آدینک” ، اور پھر اسی سال دانش بلوچ کی ہدایات میں دو پروگرامز "وَش کَند” اور "رنگ ہی رنگ”، نعیم نثار کی ہدایات میں دو پروگرامز "طنزگِر پارٹ 2” اور "طنز گِر پارٹ 3” ، 1989ء میں ولی رئیس کی ہدایات میں "کَندگ نہ لُوٹی” اور پھر 1996ء میں ایک مکمل بلوچی فلم "کراچی مارا نہ ساچی”، ان سب میں دُرمحمد افریقی کے اہم رول ہوا کرتے تھے اور وہ اس کے حقدار بھی تھے۔

بلوچی فلموں کے وجود میں آنے سے پہلے کے معروف اور ہر دلعزیز فن کار تھے، اس کے بعد تو اُن کے پاس بلوچی فلموں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جن میں واجہءِ غلام ، کروک زندگ اِنت، ٹلوجان، کولنجیں چُک، مہ تُرس وقار، کِلکِلی، دل مانگ، نوکیں ہمسائیگ، پگھار کُج اِنت وقار، یاد کئیت دبئی، اور نصیب وتی وتی شامل ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دُرمحمد افریقی نے 100 کے قریب بلوچی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سندھی ویڈیو فلم "گھونگھٹ” میں انہوں نے جعلی پیر کا بھی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 2 اسٹیج ڈرامے "ماموں چالباز” (اردو)، اور "نفسیاتی کلینک” (بلوچی) میں بھی مزاحیہ کردار ادا کیے۔

2009ء میں جب پہلا بلوچی چینل "وَش نیوز” معرض وجود میں آیا تو دُرمحمد افریقی وہ پہلے مزاحیہ فن کار تھے جنھوں نے بلوچی زبان کی خاطر اس چینل کے لیے اپنی خدمات وقف کر دیں اور اس کے آن ایئر ہونے سے پہلے اس کے لیے 14 مزاحیہ پروگرامز ایک ساتھ ریکارڈ کروا دیے۔ ان کے ہمراہ معاون مزاحیہ فن کار کے طور پر زبیر ٹھاکر بھی ہوتے تھے۔

پھر انہوں نے انہی کے ساتھ پیئر میں 2010 ء سے 2012ء تک دانش بلوچ کی ہدایات اور ان کے لکھے ہوئے طنز و مزاح سے بھرپور پروگرام "وَش کند” ریکارڈ کروائے۔ اس پروگرام نے وش نیوز کے ناظرین میں کافی مقبولیت حاصل کی۔ پھر 2013 ء سے 2016ء تک زبیر ٹھاکر کا تحریر کردہ ان کا ایک اور مزاحیہ پروگرام ٌ وَش مَلًے کلینک ٌ نشر ہوتا رہا، جس میں دُرمحمد افریقی ڈاکٹر دو شنبے کا کردار ادا کیا کرتے تھے، اس پروگرام کو بھی لوگ ازحد پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

اس کے علاوہ انہوں نے وش نیوز کے لیے بہت سے مزاحیہ خاکے، مزاحیہ قوالیاں، مزاحیہ گانے او روش نیوز کے ڈائریکٹر دانش بلوچ کی تحریر و ہدایات میں چار مزاحیہ ڈراموں، پاچنءِ مہمانی ( اس میں لیاری کی ایم پی اے ثانیہ ناز نے پہلی بار اہم کردار ادا کیا) ، بے بریکیں پاچِن ، وانءِ نوانءِ ، اور دَپءَ سنبھال ، میں‌ اہم کردار ادا کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ہر سال بلوچ کلچر ڈے کو وش نیوز کے مرتب کردہ پروگراموں میں شریک ہو کر وہاں موجود ہزاروں لوگوں کو ہنسانے کا کام کرتے تھے۔

انہوں نے کراچی کے علاوہ اندرون سندھ ٹھٹھ، جاتی، حیدرآباد ، میرپورخاص، کُنری، ٹنڈوآدم، نواب شاہ ، لاڑکانہ اور بدین کے علاوہ بہت سے مضافاتی علاقوں میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اندرونِ بلوچستان حب چوکی، ساکران ، وندر ، اوتھل، آواران، تربت ، گوادر، پنجگور، پسنی، مند ، کلگ، حتیٰ کہ ایرانی بلوچستان میں بھی اپنا فن پیش کرتے رہے۔ گوادر میں مسلسل تین چار سال عید میلہ میں شرکت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ بیرونِ مُلک مسقط، دبئی اور قطر میں‌ بھی اپنے فن کا ظاہرہ کر چکے تھے۔

2007ء جب پہلی بار ان کو دل کا دورہ پڑا تو جناح ہسپتال کے کارڈیو میں ان کا بہترین علاج ہوا اور چند ہفتوں بعد وہ بھلے چنگے ہو کر دوبارہ ورائٹی اور میوزیکل پروگراموں میں لوگوں کو ہنسانے کے فرائض انجام دیتے رہے۔ 2011 ء میں انہیں پھر دل کی تکلیف ہوئی اور اب کی بار ڈاکٹروں نے انہیں آرام کرنے اور کام نہ کرنے کا مشورہ دیا، مگر جب ان کی صحت تھوڑی سی بہتر ہوئی تو وہ پھر اِسی کام میں جُت گئے جو وہ مسلسل ساری زندگی کرتے چلے آ رہے تھے۔ لوگوں کو ہنسانے کا فن ان کے خون میں رچ بس گیا تھا۔ وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔

دسمبر 2016 ء کو جب دُر محمد افریقی شکیل مُراد کی ہدایات میں ایک بلوچی فلم "دُنیائے رَنگ” کی شوٹنگ مکمل کر چکے تھے اور اس فلم کی ایڈیٹنگ کا کام جاری تھا اور 31 دسمبر کی شب کو جب سب لوگ نئے سال کی آمد پر خوشیاں منا رہے تھے، آسمان پر رنگا رنگ پُھلجڑیوں کی برسات ہو رہی تھی، اور پٹاخوں کی آواز سے کانوں کے پردے پھٹے جارہے تھے، اسی شب 12 بجے کے قریب دُر محمد افریقی کو دل کا تیسرا دورہ پڑا جو اِن کے لیے جان لیوا ثابت ہوا اور وہ سول ہسپتال پہنچتے پہنچتے اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔

اِنا لِلِہ وَ اِنا اِلیہ رَاجعون۔

دُرمحمد افریقی کے پسماندگان میں ان کی بیوہ اور 9بچے شامل ہیں ، جن میں 4 بیٹیاں اور 5 بیٹے ہیں.

دُر محمد افریقی کو بلوچی کے علاوہ اُردو، سندھی، اور عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا، تھوڑی بہت انگریزی بھی سمجھ لیتے تھے۔

دُرمحمد افریقی کی ناگہانی وفات سے بلوچی فن و ثقافت کو ایک بہت بڑا دھچکا لگا ہے اور بلوچی مزاح کا ایک سنہرا باب ختم ہوگیا.

انہوں نے بلوچی زبان میں مزاح کو ایک نیا اسلوب بخشا ، اور اس میدان خارزار میں انہوں نے اپنے لازوال فن کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، ان کا اس فانی دُنیا سے چلے جانے کے بعد بلوچی کامیڈی کی دُنیا میں جو خلاء پیدا ہوا وہ شاید اب کبھی پُر نہ ہوسکے۔

(ختم شد)


حصہ اول

Facebook Comments
(Visited 53 times, 1 visits today)

متعلق دانش بلوچ

دانش بلوچ