مرکزی صفحہ / خصوصی حال / بلوچی کامیڈی کی دُنیا کا ایک بڑا نام دُر محمد افریقی (حصہ اول)

بلوچی کامیڈی کی دُنیا کا ایک بڑا نام دُر محمد افریقی (حصہ اول)

تحقیق و تحریر : دانش بلوچ

بلوچی مزاح کی دُنیا میں اور بلوچی زبان سمجھنے اور بولنے والوں کے لیے دُرمحمد افریقی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ بلوچی زبان کے وہ پہلے مزاحیہ فن کار تھے کہ جنھوں نے پہلی بار اسٹیج پر کھڑے ہو کر اپنے چٹ پٹے چُٹکلوں، مزاحیہ مکالموں، طنز و مزاح سے بھرپور گانوں اور دلفریب حرکتوں سے لوگوں کو ہنسانا شروع کیا۔ ان کے لطیفے اور مزاحیہ آئٹم کتابی ہرگز نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ ارد گرد کے ماحول سے مزاحیہ چُٹکلے تخلیق کرتے اور خاص طور سے اپنے ساتھ گزرنے والے واقعات یا مشاہدات کو وہ کچھ اس طرح مزاحیہ انداز میں سُناتے کہ لوگوں کا ہنس ہنس کر بُرا حال ہو جاتا تھا۔

ویسے تو ان کی زندگی میں بھی بہت سی مشکلات آئیں مگر اس کے باوجود انہوں نے ان تمام پریشان کُن حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک مسکراہٹ سی طاری رہتی۔ یہی وجہ تھی لوگ ان کی پرفارمنس سے پہلے ہی ان کا چہرہ دیکھ کر مسکرانے لگتے۔ لوگ جب یہ سنتے کہ دُر محمد افریقی کسی تقریب یا ورائٹی پروگرام میں آ رہے ہیں تو وہ ساری رات صرف دُرمحمد افریقی کے مزاحیہ آئٹمز سُننے کے لیے بے قرار رہتے اور ساتھ ساتھ فرمائشیں بھی کرتے کہ فلاں آئٹم سناؤ یا فلاں لطیفہ دوبارہ سُناؤ۔

مزے کی بات تویہ تھی کہ دُر محمد افریقی جس محفل میں موجود ہوتے اور جب تک بیٹھے رہتے اس وقت تک وہاں موجود لوگوں کا کبھی بھی اُٹھنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ ایک مقناطیسی شخصیت تھی جس سے لوگ خود بخود ان کی طرف کھنچے چلے آتے۔

انہوں نے نہ صرف اسٹیج پر کامیڈی کر کے لوگوں کو ہنسایا بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ کمپئرنگ بھی کرتے اور مزاحیہ گانے بھی گاتے، بسا اوقات تو وہ ان گانوں کی شاعری بھی خود ہی لکھا کرتے تھے۔

جب بلوچی زبان میں ویڈیو فلمیں بنانے کا آغاز ہوا تو دُرمحمد افریقی نے ان فلموں میں بھی اپنی مزاحیہ اداکاری سے لوگوں کے دل موہ لیے۔ دُر محمد افریقی کو ان کے قریبی لوگ اور دوست یار تقریباٌ سب ہی لوگ پیار سے "انکل” کہہ کر مخاطب کرتے تھے، اور ان کو انکل کہہ کر مخاطب کرنا خود بھی اچھا لگتا تھا، بجائے اس کے کہ لوگ ان کا پورا نام لے کر مخاطب کریں۔

دُر محمد افریقی 1945 ء میں لیاری کراچی کے علاقے شاہ بیگ لین میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام نورمحمد تھا مگر لوگ انہیں بجائے نورمحمد کے "آغا” کہہ کر بلاتے تھے یا پھر وہ ہمیشہ آغا نورمحمد کے نام سے ہی جانے جانے لگے۔ جب کہ دُرمحمد افریقی کا اصل نام "دُر محمد” ہی ہے اور افریقی انہوں نے خود ہی اپنا تخلص رکھ لیا۔ وجہ یہ تھی کہ بقول دُرمحمد افریقی کے اُن کے آباو اجداد صومالیہ
(افریقہ) سے ہجرت کرتے ہوئے بغداد کی طرف آئے اور پھر چند سالوں بعد وہاں سے بادبانی کشتیوں کے ذریعے سفر کر کے کراچی کے ساحل تک پہنچے اور چونکہ لیاری ساحلِ سمندر کے نزدیک تھا لہٰذا ان کے آباواجداد نے لیاری میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔

دُرمحمد افریقی یہیں لیاری میں ہی پیدا ہوئے، اور یہاں کے عام سرکاری اسکول میں مڈل پاس کرنے کے بعد عالم شباب میں GLAXO لیبارٹری جیسے اچھے ادارے میں ملازمت اختیار کی۔ چند سالوں بعد وہ بہتر معاش کے سلسلے میں قطر اور پھر مسقط چلے گئے۔ آٹھ سال بعد واپس آ کر لیاری جنرل ہسپتال میں ملازمت اختیار کی اور آخر عمر تک اسی ہسپتال میں خدمات انجام دیتے رہے۔

دُرمحمد افریقی کو لڑکپن سے ہی ڈانس کا بہت زیادہ شوق تھا اور وہ مختلف شادی بیاہ کے پروگراموں میں اپنے ایک ہم عصر لالو کے ساتھ رقص کیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں ایک "چارلی گروپ” کا نام تھا، جس میں شریف چارلی غلام حسین چارلی اور ملنگ چارلی تھے جو کہ کافی مقبول تھے، دُرمحمد افریقی ان کے مزاحیہ ڈانس آئٹم سے بہت متاثر ہوتے تھے اور پھرملنگ چارلی نے انہیں اپنی شاگردی میں لے کر گروپ میں شامل کر لیا۔

ملنگ چارلی چونکہ کراچی کی فلم انڈسٹری میں بطور ڈانسر اور ڈانس ڈائریکٹر کے فلموں میں ڈانس آئٹم پیش کرتے تھے، اس لیے وہ کچھ عرصہ ڈانس کی تربیت دینے کے بعد انہیں فلموں میں گروپ ڈانسروں کے ساتھ لے گئے، جہاں دُرمحمد افریقی نے ملنگ چارلی گروپ ڈانسروں کے ساتھ فلمسٹار سید کمال کی ایک اُردو فلم "روپ بہروپ” میں گلوکارہ رونا لیلیٰ اور گلوکار سلیم شہزاد کی آواز میں ایک کورس گیت ٌاو گاوٗ گیت گاوٗ پیار کے، ہو جمالو ٌ میں بہترین ڈانس پرفارمنس دی، جس کی وجہ سے انہیں اور بھی بہت سی فلموں میں گروپ ڈانس پیش کرنے کا موقع ملا۔

بقول دُر محمد افریقی کے کہ 1972 ء میں انہوں نے PTV پر بھی گروپ ڈانسر کے طور پر ڈانس ڈرامہ پیش کیا تھا، لیکن ان کی منزل کچھ اور تھی۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ وہ ڈانس کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ وہ اس کے علاوہ بھی کچھ نیا کرنا چاہتے تھے۔ ذہین تو وہ بچپن ہی سے تھے اس لیے وہ اپنا ٹیلنٹ ڈانس میں ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ لوگوں کو اپنی باتوں سے ہنسانا چاہتے تھے۔

اس زمانے میں لیاری میں صرف ایک فنکشن آرگنائزر تھے اور وہ تھے؛ "رمیش آرٹ سرکل”۔ دُر محمد افریقی نے رمیش آرٹ سرکل جوائن کر لیا اور اس آرٹ سرکل کے بینر تلے انہوں نے بحیثیت کمپیئرر اور کامیڈی آرٹسٹ کے بے شمار پروگرامز کیے۔ پھر انہوں نے اس سرکل کے علاوہ مشہور بلوچی گلوکار عبداللہ اڈو، جاڑوک ، کادُک ، عُمر جمالی، بھورل قصر قندی ، شریفہ سوتی اور آمنہ طوطی کے ساتھ بھی بہت سے ورائٹی اور فنکشن پروگرامز میں کمپیئرنگ کے ساتھ ساتھ مزاحیہ خاکے بھی پیش کیے۔ اس طرح آہستہ آہستہ فنکشن اور ورائٹی پروگراموں میں بحیثیت کامیڈی فنکار ان کی شناخت ہونے لگی۔

ان کا یہ ٹیلنٹ کے سامنے آنے کے بعد 1982ء میں ایک آڈیو کیسٹ ڈیلر ” کریم میوزک سینٹر” کے بانی واجہ کریم بلوچ نے انہیں اپنے گھر بُلا کر ٹیپ ریکارڈر پر دُرمحمد افریقی سے چند کامیڈی آئٹمز، گانے اور ایک جِنگل ( کریم کریم کریم میوزک سینٹر، اے وش تواریں کیسٹاں، اے ہر زبانءِ کیسٹاں) ریکارڈ کروائے، اور پھر اس کیسٹ کو "بلوچی گھبر سنگھ” کے نام سے ریلیز کر دیا۔

اس آڈیو کیسٹ میں ایک مزاحیہ گانا، (حَسنُک مَسنُک کلپورگءِ چُک ، چیءَ منی مرغءِ ٹانگے بُرت) ، زبان زد عام ہوگیا اور ہر طرف دُر محمد افریقی کے مزاحیہ آئٹمز ، اس گانے اور جِنگل کے چرچے ہونے لگے، جِنگل تو بچے بچے کی زبان پر آ گیا اور انہوں نے بلوچی حلقوں میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیے۔

ان کی اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 1984ء میں ایک اور آڈیو پروڈیوسر شریف سربازی بھی میدان میں آ گئے اور صدر میں واقع شاداب اسٹوڈیو میں پہلی بار ان کی کمرشل بنیادوں پرآڈیو کیسٹ ریکارڈ کروائی، جو کہ "ڈسکو مُرغ دُز” کے نام سے ریلیز ہوئی، اس کیسٹ میں ان کا ایک اور مزاحیہ گانا تھا: نَہ وَد نو روپیہ ءِ کُکڑ پشیءِ بُرتا وارتا، پشیءَ بُرتا وارتا کُچیکءَ گَنٹءِ پاتا، اس گانے نے تو مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کیسٹ کے اور اس کے بعد باقی تمام کیسٹوں کے میوزک کمپوزر اُستاد سعید نظر جیسے سینئر موسیقار تھے۔

بلوچی حلقوں میں نہ صرف اس گانے کو پسند کیا بلکہ ان کے مزاحیہ آئٹمز بھی بے حد پسند کیے گئے۔ اس کیسٹ کی مقبولیت سے ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا اور لوگ دُر محمد افریقی کو اپنے فنکشن ، ورائٹی پروگرامز اور خوشی کے مواقعوں پر بُلا کر فخر محسوس کرنے لگے۔

راقم کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ اگر دُر محمد افریقی کسی اور پروگرام میں بُک ہوتے تو بعد میں بُکنگ کے لیے آنے والے لوگ اپنے پروگرام کی تاریخ بدل دیتے کہ جب تک دُر محمد افریقی تاریخ نہ دیں گے اُس وقت تک پروگرام منسوخ رہے گا۔

آڈیو کیسٹ "ڈسکو مُرغ دُز” کی بے پناہ مقبولیت کے بعد تو جیسے دُر محمد افریقی پر شہرت کے دروازے کھل گئے۔

آڈیو ڈیلر صاحبان پیسے لے کر ان کے آگے پیچھے دوڑ رہے تھے، ہر آڈیو ڈیلر چاہتا تھا کہ دُرمحمد افریقی ان کی پروڈکشن کی آڈیو کیسٹ کرے مگر وہ اُس زمانے میں بھی بڑی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے تھے اور سال میں صرف ایک آڈیو کیسٹ ریکارڈ کرنے کے لیے معاہدے پہ سائن کرتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ ان کی بعد میں آنے والی مزاحیہ آڈیو کیسٹیں ہر بقر عید ( یعنی عیدالضحیٰ) پر ریلیز ہوتی تھیں۔

ڈسکو مُرغ دُز، کے علاوہ ان کی آڈیو کیسٹوں میں انکل مَکر باز ، انکل داہ نمبری ، سَر گُوٗزی گھوڑا ، دُزا پیر بِجاں، دلءَ مزن کن گوٗادری ، پٹھان قسط والا ، اور ، قلفی والا اتکگ ، کے نام شامل ہیں۔

(جاری ہے)

Facebook Comments
(Visited 40 times, 1 visits today)

متعلق دانش بلوچ

دانش بلوچ