مرکزی صفحہ / خصوصی حال / خضدار کے شہید صحافی اعجاز مینگل کی چوتھی برسی

خضدار کے شہید صحافی اعجاز مینگل کی چوتھی برسی

ریاض مینگل

پاکستان کے پسماندہ صوبے بلوچستان میں سن 2000 سے لے کر اب تک 40 سے زیادہ صحافیوں کو ٹارگٹ کر کے اور بم دھاکوں کے ذریعے شہید کیا گیا ہے۔ شہدا کے قاتل آج بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ قاتلوں کو کب قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا؟۔

بلوچستان کے علاقہ خضدار سے تعلق رکھنے والے شہید صحافی اعجاز مینگل کی آج 14 فروری کو چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ آج بھی اعجاز مینگل کے لواحقین کے انصاف کے منتظر ہیں۔ اعجاز مینگل کو آج سے چار سال قبل 14 فروری 2014 کو خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے ٹارگٹ کر کے شہید کیا تھا۔ چار سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

صحافی اعجاز مینگل خضدار پریس کلب کے سابق صدر، سینیئر صحافی ریاض مینگل کے چھوٹے بھائی تھے۔ ریاض مینگل کو 2007 میں ایک خبر شائع کرنے بعد، خبر کی تردید کرنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں، انکار پر انہیں اغوا کیا گیا۔ تقریبآ چھپن دن بعد ریاض مینگل اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

انہوں نے اپنے اغوا کے واقعے کے خلاف قانونی عدالتی جنگ لڑی اور کہیں بھی کسی بھی صحافی کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آیا تو اس پر انہوں نے بھر پور آواز بلند کی۔ جس پر انہیں ہراساں و پریشاں کیا گیا تاکہ وہ اس سے دست بردار ہوں۔

ریاض مینگل کو تو تاحال انصاف نہ مل سکا بلکہ ان کے ساتھی صحافیوں خضدار پریس کلب کے صدر محمد خان ساسولی، منیر شاکر کو مختلف اوقات میں ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا۔ ان واقعات کے خلاف بھر پور احتجاج کرنے اور آواز بلند کرنے پر پھر ریاض مینگل کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور ان کو قتل کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔

ریاض مینگل نے مجبور ہو کر خضدار بلوچستان سے بیوی بچوں سمیت نقل مکانی کی۔ قبل ازیں اور بعد ازاں خضدار میں ہی مختلف اوقات میں صحافیوں وصی احمد قریشی، فیض الدین ساسولی، عبدالحق بلوچ اور خضدار پریس کلب کے صدر ندیم گرناڑی کے بیٹوں سراج احمد گرناڑی اور منظور گرناڑی کو بھی مختلف اوقات میں ٹارگٹ کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیا گیا۔

اعجاز مینگل کو شہید کرنے کے بعد خضدار میں ان کی میت کو دفن کرنے بھی نہیں دیا گیا، لواحقین کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر یہاں تدفین کی کوشش کی گئی تو حملہ کیا جائے گا۔ بعدازاں اعجاز مینگل کی تدفین اندرونِ سندھ میں کی گئی اور تعزیت بھی ورثا نے سندھ میں ہی وصول کی۔

چار سال گزرنے کے بعد اعجاز مینگل کے قاتل آج بھی آزاد ہیں اور ورثا کو انصاف نہ مل سکا۔ انصاف کی فراہمی اور قاتلوں کی گرفتاری یا تحفظ فراہم کرنا اپنی جگہ لیکن ریاض مینگل اور ان کے خاندان کو مختلف طریقوں سے ہراساں و پریشان کر کے جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا اور وہ آج بھی در پدری، عدم تحفظ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 14 times, 1 visits today)

متعلق ریاض مینگل

ریاض مینگل
ریاض مینگل کل وقتی صحافی ہیں۔ بنیادی تعلق خضدار سے ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف میڈیا ہاؤسز کے لیے علاقائی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ riazmengal007@yahoo.com