مرکزی صفحہ / بلاگ / اُردو میں ایک شیکسپیئر پیدا کریں…!

اُردو میں ایک شیکسپیئر پیدا کریں…!

چراگ سحری

” اُردو میں ایک شیکسپیئر پیدا کریں ” ، یہ کمنٹ تھا ایک محترمہ کا جو بیچ لگژری ہوٹل کی ائیرکنڈیشن روم (ٹیولپ) میں تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کے آخری روز ” آج کا اُردو ادب” کے عنوان سے ہو رہا تھا، میں کیا گیا.

یہ بہت ہی عمدہ اور بہترین سوال یا پھر تجویز تھی جو وہاں پر بیٹھے ان تمام افراد کو متاثر کن لگی یا نہیں لیکن مجھے اس بات نے سوچنے پر مجبور کر دیا یا یوں کہہ لیں کہ مجھے کافی حد تک پریشان کر دیا اور یہ شاید اسی پریشانی کا باعث ہے کہ میں یہ تحریر قلم بند کرنے پر آمادہ ہوا.

"آج کا اردو ادب” جو کہ عنوان تھا اس سیشن کا، آغاز میں ابتدائی کلمات میں انگریزی بول کر اردو کو شرمسار کیا گیا. ہال میں موجود ایک آدھ لوگوں نے احتجاجاً اس کے خلاف آواز بلند کی تو ذرا سا معذرت خواہ ہو کر نظامت کرنے والی خاتون نے پروگرام کے میزبان اور مہمانوں کے نام اردو میں لیے، وہ بھی جو کہ نام ہی اردو کے تھے سو لے لیے اور پھر سے انگریزی میں بات شروع کرتے ہوئے مہمانوں کو اسٹیج پر بلا کر خود وہاں سے چلتی بنیں.

خیر، پروگرام کی میزبانی کے فرائض اردو کی مشہور و معروف شاعرہ کشور ناہید صاحبہ کو انجام دینے تھے مگر کچھ ضروری کام کی وجہ سے وہ شرکت نہ کرسکیں اور اس پروگرام میں آئے ہوئے دونوں مہمانوں جناب اصغر ندیم سید اور جناب انوار احمد نے بخوبی ایک ساتھ دونوں فرائض انجام دیے.

دونوں حضرات نے اردو ادب اور بالخصوص آج کے ادب پر سیر حاصل گفتگو کی. مگر شاید کچھ مسنگ تھا جو کہ وہاں موجود مجھ جیسے بہت سے لوگوں نے محسوس کیا ہوگا… وہاں ادب پر تو بات ہو رہی تھی مگر اردو جیسی چاشنی وہاں موجود نہ تھی… وہاں شیکسپیئر اور ایلیٹ کی روح تھی مگر انشا اور انتظار کی روحیں پرواز کر چکی تھیں. ڈرامہ، فکشن، نثر، نظم کے ٹرینڈ پر بات ہو رہی تھی مگر تخلیق کاری اور نیا طرزِ فن چپ تھا.

بات تو ہو رہی تھی مگر جیسے اس میں اپنائیت نہ تھی جو پہلے زمانے کے ادیبوں کی باتوں میں ہوا کرتی تھی. شاید وہ عوام میں ہمہ وقت موجود ہوتے تھے، آج کے ادیبوں اور عوام کے بیچ ایک خلا جو ہے، اسی کی کارستانی ہے کہ لوگ ادب سے دُور دُور اور ادب ادیبوں سے…

بالآخر روایت کی پاسداری کرتے ہوئے جب پروگرام میں سوالات و جوابات کا سیشن شروع ہوا تو کسی نے ہمارے ہاں آج کل اچھے ڈرامے نہ بننے کا شکوہ کیا تو کسی نے ادب سے بیزار نئی جنریشن کی طرف توجہ مبذول کروائی. لیکن ایک خاتون نے شاید اس ایک گھنٹہ کے پروگرام میں ساری بات ایک جملہ میں سمیٹ دی کہ، ” آپ لوگ ایسا کریں اُردو میں ایک شیکسپیئر پیدا کر لیں.”

پھر پروگرام ختم ہوا تو اپنی اپنی نشستوں سے اٹھ کر کوئی باہر جا رہا تھا تو کوئی معزز مہمانوں کے ساتھ سیلفی لے رہا تھا اور میں پروگرام کے عنوان (آج کا اردو ادب) کو تکتا رہا÷

Facebook Comments
(Visited 34 times, 1 visits today)

متعلق چراگ سحری

چراگ سحری کا تعلق لیاری سے ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ قلمی نام سے بلوچی، اردو میں شاعری اور مضامین لکھتے ہیں۔ Email: bunnybaloch7@gmail.com