مرکزی صفحہ / خصوصی حال / وزیرِاعلیٰ بلوچستان کے نام دو خط

وزیرِاعلیٰ بلوچستان کے نام دو خط

جاوید حیات

السلام و علیکم!
31 جنوری 2018ء

سب سے پہلے آپ کی کامیابی اور سلامتی کے لیے دعا گو!

جب آپ کو بلوچستان کی حکومت سونپی گئی تو آپ کے لبوں پر ایک شکوے کی گونج سُنائی دی کہ وزیرِاعظم پاکستان نے مجھے ابھی تک مبارک باد نہیں دی۔ لیکن وہ جب آپ سب کو کو ئٹہ میں منانے کے لیے آئے تھے تو آپ تمام ممبران کے موبائل آف تھے۔ وہ کس منہ سے آپ کو مبارک کہیں، وہ پہلے سپاہی آپ تھے جس کے ایک ہی وار سے بلوچستان میں مسلم لیگ ن کا سارا شیرازہ بکھر گیا۔

آپ کی کارکردگی اور قابلیت میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، آپ کا تعلق آواران سے ہے، یہ بہت اہم ہے۔ آواران زندہ باد!!

پچھلے دنوں گوادر ایکسپو اور فری زون کی افتتاحی تقریب میں آپ کی تقریر سُننے کا موقع ملا، پہلے آپ کی تقریرکی اچھی باتیں کیپچر کرتے ہیں؛

’’سی پیک کے توسط سے دوست ملک کی طرف سے ہمیں خوب صورت تحفہ ملا ہے۔ یہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ بلوچستان اہم ہے لیکن اِس کے لوگ زیادہ اہم ہیں۔ ہم ایسی سرمایہ کاری نہیں چاہتے جس سے صرف چار تاجروں کی ترقی ہو۔‘‘

گوادر کی پُرانی آبادی کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے آپ نے وزیرِاعظم سے بڑے ٹھوس اور معقول مطالبے کیے۔

گوادر شہر کو پانی اور بجلی کی فراہمی کو نیشنل گریڈ سے منسلک کرنا اورگوادر کے ترقیاتی کاموں کے لیے نواز شریف کے ایک ارب کے
اعلان کی یاد دہانی کے ساتھ شہر کے ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید دو ارب روپے کی ڈیمانڈ بالکل جائز تھی۔

وزیرِاعظم نے دور اندیشی سے کام نہیں لیا، صرف اپنے غصّے کا اظہار کیا۔ یہ نہیں دیکھا کہ پیچھے سارا شہر کھڑا یہ سلوک دیکھ رہا ہے۔

وزیرِاعظم کا یہ مذاق بھی ہمارے منہ پر طمانچے کی طرح گونجا کہ بلوچستان کا مستقبل وہاں کی لیڈر شپ کے ہاتھ میں ہے۔ بلوچستان اُن کا گھر ہے، وہ اپنے گھر کی حفاظت خود کریں تاکہ بلوچستان کے خزانوں پر کوئی ڈاکہ نہ پڑے۔

اب وفاق کو یہ بات کون جا کر سمجھائے کہ بلوچستان کو لُوٹا کس نے ہے!!۔

بہرکیف، آپ کے تقریر رائیٹر نے شاید شہر کے مطالعے کے بغیر تقریر لکھی تھی۔ آپ کی آواز اور لہجہ نہایت شاندار ہے مگر اندازِ بیاں میں کچھ لرزش آئی تھی۔

اِس کی وجہ یہ ہے کہ تقریر آپ نے اپنے ہاتھ سے خود نہیں لکھی۔ تقریر میں زبان اہمیت نہیں رکھتی، صرف اپنے مسائل کو اثرمندی
سے پیش کرنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔

آخر میں بس یہی کہوں گا کہ مجھے وزیرِاعلیٰ بلوچستان کی وہ تصویر پسند نہیں آئی، جس میں آپ زرداری کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
**********

دوسراخط
محترم وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدّوس بزنجو صا حب

السلام وعلیکم!
01 فروری 2018ء

سب سے پہلے آپ کی کامیابی اور سلامتی کے لیے دعا گو!

ٹھیک ایک دن کے وقفے کے بعد آپ کو دوسرا خط لکھ رہا ہُوں۔

کل شام ٹی وی پر ایک اچھی خبر سُننے کو ملی کہ وزیرِاعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو صاحب نے اسلام آباد میں وزیرِاعظم سے ملاقات کی۔ ٹھیک دو دن بعد آپ دونو ں کی یہ دوسری ملاقات تھی۔ پہلی ملاقات 29 جنوری کوگوادر فری زون اور ایکسپو 2018ء کی افتتاحی تقریب میں ہوئی تھی۔

یقیناً اِس مکالمے میں بلوچستان کی صورت حال اور موجودہ ترقیاتی منصوبوں کی تکیل کے حوالے سے طویل بحث ومباحثہ ہُوا ہو گا۔

آپ نے اِس ملاقات میں بھی شایدگزارشات کی فہرست دی ہوگی، مگر وہ بھی شاید آپ کے پچھلے دنوں کے مطالبات کی طرح نظرانداز کر دیے
گئے ہوں۔ کوئی مانے یانہ مانے، آپ کے وزیرِ اعلیٰ بننے سے وزیرِاعظم کو بہت بڑا صدمہ ہُوا ہے۔

آپ کا صوبہ پنجاب سے زیادہ امیر ہے، منصوبوں کوشفاف بنانے کے لیے قانون سازی کریں۔ اور صوبے کے اختیارات میں بلوچستان کا ایجنڈا اوّل درجے پر رکھیں۔ ہم اُن سے کیا اُمید باندھیں جو گوادر کا سارا کِریم کھا گئے اور عوام کو پیاس کے کالاباغ میں چھوڑ دیا۔

آپ صرف گوادر کو زوم کریں، وفاق سے فنڈ مانگنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ا یسے اقدامات اُٹھائیں جس سے صوبے کو فائدہ ملے۔

آپ کے پاس چار مہینے ہیں، اِنہیں اپنے چھوٹے سے ہوائی جہاز کے اندر وٹس ایپ اور فیس بک پر ضائع مت کریں۔

گوادر میں منشیات پر قابو پانے کے لیے آپ نے سخت ایکشن تو لیا لیکن ابھی تک اِس کی روک تھام میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔
آپ کی حکومت کے دوسرے ہفتے آپ کا یہ اقدام سارے مکران کے دل کی آواز ثابت ہوا۔

مند، تمپ اور دشت جیسے پسماندہ دیہات کو ملا کر ایک نئے ضلعے کا اضافہ کِیا، ضلع گوادر رقبے کے لحاظ سے بہت بڑے علاقے تک پھیلا ہے، اور اس کی آبادی بھی دُگنی ہوگئی ہے، لہٰذا پسنی اور اورماڑہ کو بھی ضلعے کا درجہ ملنا چاہیے۔

وزیرِاعلیٰ بننے کے فوراً بعد آپ نے میڈیامیں صرف ایک شکایت کی تھی کہ مجھے ابھی تک وزیرِاعظم نے مبارک باد پیش نہیں کی۔ اِس لاقات کے بعد بھی مجھے یہ لگتا ہے وہ آپ کو مبارک باد دینا بھول گئے۔

ہماری طرف سے آپ کو وزیرِاعلیٰ بننے پر دلی مبارک باد!

اگلے خط تک آپ سے وداع چاہتا ہُوں، اور دل چاہتا ہے کہ اُس خط میں شکایتوں کی بجائے پھولوں کا ایک گُلدستہ رکھ دُوں، جس میں بولان کی خوشبو مہکتی رہے۔

والسلام

قلمکار
جاوید حیات

Facebook Comments
(Visited 26 times, 1 visits today)

متعلق جاوید حیات

جاوید حیات گوادر میں مقیم قلم کار ہیں۔ مقامی اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔ javedhayat42@gmail.com