مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / ٰٰٰٓالوداع، اے زندہ ضمیر الوداع!

ٰٰٰٓالوداع، اے زندہ ضمیر الوداع!

محمد خان داؤد

ان بدمعاشوں سے کہہ دو وہ چلی گئی، جو بد معاش اسے ڈراتے رہتے تھے؛ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی بے ہودگی کے نام پر، کبھی دہشت کے نام پر، کبھی وحشت کے نام پر، کبھی وردی کے نام پر، کبھی لانگ شوز کے نام پر، کبھی اسلام کے نام پر، کبھی خواتین کے نام پر، کبھی آزادی کے نام پر، کبھی آزادی نسواں کے نام پر!

جس کی آڑ میں خفیہ ادارے چھپ کر چلتے رہتے تھے، اسے پھر بھی بھنک پڑ جاتی تھی۔ اور وہ بے دھڑک عالمی نشریاتی اداروں کے سامنے اس بات کا اقرار کرتی تھی کہ، "مجھے میرے ملک کے خفیہ ادارے مارنا چاہتے ہیں، پر میں ان سے نہیں ڈرتی، میں بھلا حق بات کہنے سے کیسے ڈر جاؤں؟!”

حالانکہ ان اداروں کو ایک بوڑھی ہوتی عورت کا رستے سے ہٹانے میں کیا رکاوٹ تھی؟

رکاوٹ تھی۔۔۔ اور وہ یہ کہ عاصمہ جھانگیر کے قتل سے وہ ادارے ایسے بدنام ہوتے کہ اس ایک قتل کا داغ زمانہ بھی نہیں دھو پاتا۔ ان اداروں کو مبارک دے دو۔ وہ عاصمہ جہانگیر چلی گئی اور ان اداروں پر بدنمائی کا کوئی داغ بھی نہیں لگا۔

وہ جو اس سے خائف رہتے تھے۔ وہ جو اس کی تقریر اور اس کی تحریر سے ڈرتے تھے۔

وہ بالکل نہتی تھی۔ اس کے پاس کوئی بندوق نہیں تھی۔ اس کے پاس بس باتیں تھیں، جنہیں کبھی وہ لکھ لیتی، کبھی بول لیتی تھی۔ پھر بھی اس سے ایک زمانہ خائف تھا۔ خائف کیا تھا، زمانہ اس کا دشمن تھا۔

وہ جو حق کی بات کرتی تھی تواس کی زبان کھینچنے کی باتیں ہوتی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر کا دل کرتا تھا کہ وہ بھی گیتوں پر رقص کرے تو فوراً فتویٰ آ جاتا تھا اور اس کے قتل پر انعام رکھا جاتا تھا۔ ان مذہب پرستوں سے کہہ دو وہ چلی گئی۔ جو ایک وکیل تھی پر وکیل بھی ایسی کہ جیسے آرٹسٹ!

وہ آرٹسٹ دل کے ساتھ وکیل تھی۔ کیوں کہ وہ شیما کرمانی جی کی دوست تھی۔ وہ وکیل بعد میں تھی وہ تو آرٹسٹ قبیلے کی فرد تھی۔
وہ اپنے دل سے شاعرہ تھی پر جس کی کوئی کتاب لکھی ہوئی نہیں۔ جو زمانے کی بُری باتوں سے تنگ آ کر شاعری میں پناہ لیتی تھی۔ جسے شاعری بہت پسند تھی۔ وہ جو فیض کی مداح اور جالب کی دوست تھی۔

وہ جو ادیبہ تھی۔ جس کی امینہ سید دوست تھی جو اسے بار بار یہ کہتی تھی کہ اپنی زندگی پر کتاب لکھو۔ وہ ہر دفعہ امینہ سید کے سوال کو ایک اور سوال میں ٹال دیتی کہ، "اس کتاب کو پڑھے گا کون؟!”

جب یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہی تھی کہ عاصمہ جھانگیر جی جا چکی ہیں تو کراچی میں ادبی میلہ جاری تھا۔ جہاں وہ اکثر دیکھی جاتی تھی۔ پر اب وہ وہاں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔ وہ ادیب جو اپنی نجی حلقوں میں یہ باتیں کرتے تھے کہ عاصمہ جہانگیر کوئی ادیب بھی نہیں پھر ان ادبی پروگراموں میں کیوں بلائی جاتی ہے؟ ان سستی شہرت کے بھوکے ادیبوں کو کہہ دو وہ ادیب نہیں تھی، وہ تو دانش ور تھی۔ جس کے لیے تمہارے ہاتھ وہ دروازہ پیٹ پیٹ کر زخمی ہوگئے ہیں۔ پر تم پر وہ دانش کے دروازے نہیں کھلتے۔

اے موسیقی کے دشمنوں، اے رقص کے قاتلوں، اے رقص گاہوں کے مجرموں، وہ جو رقص سے محبت کرتی تھی، جسے گیت اچھے لگتے تھے۔ وہ جو اپنے دیوانے دل سے دیوانی اور اپنے عقل سے عالمہ تھی۔ وہ جو عیار نہ تھی، وہ جو مکار نہ تھی، تم جو اس پر رقص کے فتوے لگاتے تھے۔ تم جو اسے گیتوں سے روکتے تھے۔۔۔ اب سب فتوے بیکار ہیں۔ وہ جا چکی ہے۔ تمہیں سازش کرتے کرتے دیر ہو چلی ہے۔ اب تم اُٹھ جاؤ!

وہ جو اس اسلامی ملک میں سب کی وکیل تھی؛ بچوں کی، بڑوں کی، مظلوم لڑکیوں کی، جوان بوڑھی عورتوں کی، غریبوں کی، اقلیتوں کی، سازوں کی، آوازوں کی، فلموں کی، تھیٹروں کی، رقص کی، گیتوں کی، آلاپوں کی، وہ جو جیلوں میں ہیں ان کی، وہ جو غائب ہیں ان کی، انسانوں کی، انسانوں کے حقوق کی، جانوروں کی، جانوروں کے حقوق کی، جمہوریت کی، جمہوری اداروں کی، ان ایوانوں کی جن ایوانوں نے عاصمہ جہانگیر کے لیے نئے نئے القاب بنائے۔ ان مولیوں کی جن مولیوں نے اس کے خلاف فتوے دیے۔

وہ اپنی مختصر زندگی میں اس جہاں کی وکیل تھی۔ وہ زندگی تھی، وہ زندگی کی وکیل تھی۔ وہ کتاب تھی، وہ تحریر کی وکیل تھی۔ وہ لہجہ تھی اور الفاظ کی وکیل تھی۔ وہ باتیں تھی اور باتوں کی وکیل تھی۔وہ سچ تھی، وہ حق تھی، وہ مظلوم تھی، وہ مظلوموں کی وکیل تھی۔ وہ طالبِ علموں کی وکیل تھی۔ وہ درس گاہوں کی وکیل تھی۔ وہ جوان تھی، وہ جوانی کی وکیل تھی۔ وہ بوڑھی ہوتی بچی! علم کی وکیل تھی جس علم کو اس ملک میں ریپ کیا جاتا ہے۔
وہ ریپ زدہ علم، اور ریپ زدہ بچیوں کی وکیل تھی۔

اب وہ زندگی لاہور میں کئی سلوں کے نیچے دفن ہوگئی اور وہ کتاب کبھی تحریر نہیں ہو پائے گی جسے امینہ سید اپنے ادارے سے شائع کرتی۔

اس کا یوں چلے جانا بھلے پاکستان کا نقصان نہ ہو، پر ان لاکھوں غریب لوگوں کا نقصان ہے جن کی وہ امید تھی، جن کا وہ جلتا دیا تھی۔ جن کے وہ منہ کی بات بھی عاصمہ جہانگیر ہی کہتی تھی، جو لوگ سب کچھ کہنا چاہتے ہیں پر کہہ نہیں سکتے۔ وہ لوگ جو اس ملک میں رہتے ہیں، پر یہ ملک انہیں اپنا شہری نہیں سمجھتا۔ وہ لوگ جو اسی ملک کے باسی ہیں پر ڈرے ڈرے رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو بلوچستان سے لے کر پشاور تک بستے ہیں پر بہت ڈرتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں کبھی تو ودری والے رات کی تاریکی میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، کبھی ان لوگوں کے سینوں میں گولیاں اتاری جاتی ہیں اور کبھی کوئی ٹرک ان کی آبادیوں، ان کے عبادت خانوں، ان کی مارکیٹوں میں گھس جاتا ہے اور ان جگہوں کو لہو رنگ سے بھر دیتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر ان سب کے لیے بولتی زباں تھی، جو اب خاموش ہو چکی۔

اب ان کے لیے کون بات کرے گا؟ ان کی تڑپ پر کون لبیک کہے گا۔ ان کا نوحہ کون لکھے گا؟ ان کا مرثیہ کون پڑھے گا؟۔ جب وہ سیکڑوں لاشیں روڈ پر رکھے ماتم کر رہے ہوتے تو ایسا کون ہوتا جو ان کے پاس جاتا، ان کا پروسہ کرتا، انہیں دلاسہ دیتا، اور انہیں کہتا کہ، "میں تمہارے ساتھ ہوں!”

وہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ تھیں۔ جن کا دھڑکتا، رکتا دھڑکتا اور رکتا دل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رک گیا۔ اور اس کے پُرانے ساتھی اسے یاد کر کے اپنی آنکھوں سے اشک بہا رہے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر جی! معاف کرنا، یہ پورا ملک ہی تمہیں ڈراتا رہا ہے۔ بس شکلیں، نام اور کام مختلف تھے۔ ڈرانے والوں میں شامل وہ لوگ وہ ادارے ہی نہیں پر یہ ملک بھی شاملِ حال رہا ہے۔

اے رکتے دل! تجھے سلام
اے بہادر بیٹی! تجھے سلام
اے بوڑھی بچی! تجھے سلام
اے بے باک دل، اے با شعور دل! تجھے سلام
اے حق کی زباں
اے حق کی بات
تجھے سلام! سلام!
الوداع ! اے زندہ ضمیر الوداع!!

Facebook Comments
(Visited 27 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com