مرکزی صفحہ / خصوصی حال / کارل مارکس کی جینی

کارل مارکس کی جینی

عینی نیازی

ٹوکس گینوے کہتا ہے، ”اب کم ازکم اس با ت کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ جب مرد کارہائے نمایاں انجام دے رہے تھے ادارو ں کی تعمیر، تہذیب و ثقا فت اور اشیا پیدا کر رہے تھے، لوگوں پر حکومت کر رہے تھے، علم و دانش اور افکار کے موتی پرو رہے تھے یعنی وہ سب کر رہے تھے جو تاریخ کا حصہ ہیں تو اس وقت بھی عورتیں کچھ نہ کچھ ضرور کر رہی تھیں؛ یعنی عورتیں زیادہ سے زیادہ لڑکیاں پیدا کر رہی تھیں تا کہ زیادہ سے زیادہ مرد پیدا ہوں۔،،

یہ اس زما نے کی بات ہے جب صنعتی انقلاب کی چاپ سنا ئی دینے لگی تھی۔ یور پی معاشرے کی عورت گھر کی چار دیوای میں مقید تھی۔ انھیں ابھی سماج میں برابری کی حثیت حا صل ہونے میں ایک مدت درکار تھی۔ یورپ ترقی یافتہ نہ ہوا تھا اور ہمارے سماج کے کامیاب مردوں کے پیچھے خاموش جدوجہد کرنے والی عورت مغرب میں بھی موجود تھی۔ جس پر گھر اور بچوں کی ذمہ داری تھی۔

یہ اٹھارویں صدی کا دور تھا۔ ہم پڑھتے ہیں کہ اس دوران یورپ میں بہترین درس گاہیں وجود میں آئیں۔ جن سے نکلنے والے طالب علموں نے دنیا کو ایک نئے جہاں سے آشنا کیا۔ تہذیب وترقی کی نئی دنیائیں دریافت کیں۔

لیکن! …. کیا یہ سب کسی ایک اکیلے انسان کے بس کی بات تھی یا پھر انھوں نے جس گہوارے میں آنکھ کھولی ہو گی ان کی تربیت، توجہ اور قربانیوں کا ثمر ہے، جس نے ایسا ماحول فراہم کیا کہ وہ یکسو ہو کر نئی دنیا فتح کر سکیں، کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ سکیں۔ یقینا ایسا ایک عورت کے ایثار کے بغیر کہاں ممکن تھا۔ وہ عورت کسی بھی حیثیت سے کامیاب مرد کی زندگی میں شامل ہو سکتی ہے؛ ایک ماں، بہن یا پھر بیوی کوئی بھی کردار ہو سکتا ہے۔

انہی میں ایک کہانی جینی کارل مارکس کی ہے۔ کارل مارکس جو اٹھارویں صدی کا اعلیٰ تعلیم یافتہ سوشلسٹ انقلابی جس نے پرولتاریہ مقاصد کے لیے اپنی جان وقف کر دی تھی۔ انقلاب کے خار زار پر ساری زندگی اس کے قدم ہی لہولہان نہیں ہو ئے تھے، خود اس کی محبو بہ، پیاری بیوی بھی آبلہ پا ئی کا شکار ہوئی۔

جینی جو اپنے شہر کی خوب صورت ترین لڑکیوں میں شمار تھی، ا پنے کردار میں بھی اعلیٰ صفات رکھتی تھی۔ اس کے والدین کا شمار امرا کے طبقے میں ہوتا تھا۔ والد، حکومتِ پروشیا کی جانب سے ٹرائے میں ایک بڑے عہدے پر فائز تھا۔ جینی کی ماں اسکاٹ لینڈ کے نواب کی بیٹی تھیں۔ بھائی جرمنی کا وزیر داخلہ تھا۔ کارل مارکس اور جینی آپس میں پڑوسی تھے۔ دونوں کے والدین بھی اچھے دوست تھے۔ جینی کے والد کا تعلق امرا طبقے سے ہونے کے باوجود کارل کے متوسط طبقے والے والدین سے ان کا تعلق میں گرم جوشی برقرار رہی۔

تعلیمی مدارج میں بہترین کامیابیاں سمیٹتے کارل مارکس اور جینی نے بچپن سے جوانی کا دور ساتھ گزارا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ جینی ایک رئیس زادی تھی۔ اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے شہر بھر کے امیر زادے خواہش مند تھے۔ مگر اس نے اپنی محبت کی خاطر دنیاوی عیش و آرام کو ٹھکرا دیا۔ دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا تو والدین نے کوئی اعراض نہ کیا لیکن صرف ایک شرط رکھی اور کارل کو مزید تعلیم کی شرط ماننی پڑی۔

اپنی محبوبہ سے دور کارل نے دوران تعلیم ”اپنی پیاری اور دلنواز جینی،، کے لیے عشقیہ نظمیں لکھیں۔ جینی اور کارل نے ایک سال بعد شادی کی۔ ان کی شادی پھولوں کی سیج نہ تھی، کارل مارکس ایک نئے نظام، نئے فلسفے کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا۔ اس نے امرا وقت اور حکومت سے ٹکر لی تھی، جس کے نتیجہ میں اس کی خا نگی زندگی ہمیشہ غربت و افلاس کا شکار رہی۔ جیسا کہ ایک فاقہ مست انقلابی کا خاندان زندگی گزارتا ہے۔

جینی کو مالی آسودگی کا ایک دن بھی نصیب نہ ہوا۔ اس نے فاقے کیے، قرض خواہوں کی باتیں سنیں، کبھی جہیز میں ملے برتن رہن رکھے تو کبھی گھر کا اثاثہ بیچا، جلاوطنی کی مصیبتیں سہیں مگر شوہر سے کبھی تنگ دستی کی شکایت نہ کی۔ مارکس کے پڑھنے لکھنے پر انقلابی سرگرمیوں میں کبھی دیوار حائل نہیں کی۔ جینی گھر آئے اس سے ملا قاتیوں سے ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتی۔ ان کی میزبانی کی حتیٰ الامکان کو شش کرتی۔ اس کے چار بچے بھوک اور بیماری کے سبب مر گئے مگر اس کے عزم و اسقلال میں کمی نہ آئی۔

افلاس وجلا وطنی کی زندگی گزارتی جینی کو اس کے وزیر بھائی نے لکھا تم لوگ میرے پاس آ کر رہو، میں تمھاری کفالت کروں گا۔ بہن نے بھائی کو شکریہ کاخط لکھ کر جواب بھیجا ”میں نے کارل اور اس کے انقلابی خیالات سے شادی کی ہے، جرمنی میں ان دونوں کی گنجائش نہیں تو مجھے ایسا جرمنی نہیں چاہیے۔،،

زندگی کے آخری ایام میں مارکس کو والدہ کی جا نب سے ملی ہوئی جا ئیداد سے کچھ آسودگی نصیب ہوئی لیکن جینی اب رخت سفر باندھ چکی تھی۔ جگر کے کینسر میں مبتلا ہو کر اس کا انتقال ہوا۔ ما رکس کے لیے یہ بہت بڑا دکھ تھا۔ اس کی دنیا تاریک ہو گئی تھی۔ وہ کبھی اس صدمے سے با ہر نہیں نکل سکا۔

جینی پینتالیس سال اس کی رفیقِ سفر رہی تھی۔ اس نے ہر مشکل گھڑی میں اس کا بڑے خلوص سے ساتھ دیا تھا۔ مار کس کی انقلابی جدوجہد میں ایک خاموش کار کن کی حیثیت سے وہ بھی حصہ دار تھی۔ اس کی بیوی، شریکِ غم، مہربان، ہمدم سب ہی کچھ بن کر رہی۔ جس کا احساس مارکس کو ہمیشہ رہا۔

مارکس کے فکر وخیال سے ہم آہنگ اور اس کے بہت قریبی دوست اور مفکر اینگلز نے جینی کے جنازے میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، "اس خاتون کے ذاتی اوصاف کے بارے میں کیا کہوں کہ اس کے دوست اس کی خوبیوں کو کبھی نہ بھول سکیں گے، اگر کوئی عورت ایسی تھی جو دو سروں کو خوش کر کے سب سے زیادہ خوش ہوتی تھی، وہ صرف جینی مارکس تھی۔”

Facebook Comments
(Visited 8 times, 1 visits today)

متعلق عینی نیازی

عینی نیازی
کراچی میں مقیم عینی نیازی بیک وقت استاد، کہانی کار، ڈرامہ نویس اور کالم نگار ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ بالخصوص تحقیقی کالم لکھنا اچھا لگتا ہے۔ مختلف ویب سا ئٹس اور اخبارات میں لکھتی ہیں۔ اس وقت ایکسپریس نیوز میں لکھ رہی ہیں۔ Email:ainee.niazi@gmail.com