مرکزی صفحہ / بلاگ / نوائے جرس کی خاموشی

نوائے جرس کی خاموشی

عابدہ رحمان

جاتی سردیوں کی بارش..شال تو نکھر گیا.. بارش؛ جو ہر پتے،گل ،بوٹے کو نم کرکے فضا میں سبزے کی خوشبو ہر سو بکھیر دیتی ہے…ایسے ہی وہ بہت سوں کے اندر کو بھی نم کر دیتی ہے..ٹپ ٹپ کرتی بارش کی وہ جل تھل کہ کہیں پناہ نہ ملے…پیڑوں سے گرتے بارش کے موٹے موٹے قطرے… غریب کی چھت سے اک ژوں کر کے مہا بارش… جھونپڑی کی چھت کے نیچے کہیں بالٹی…تو کہیں دیگچی … ٹپ ٹپ کی آواز کے ساتھ برستی بارش. …سانسوں کی ہمواری میں اک رکاوٹ. .دل کی دھڑکن اپنی رفتار سے گھبرا کر،ماحول سے خوف زدہ ہو کر بے قابو ہو جائے اور ڈاںواڈول ہو کر زمین کی طرف آ رہے…

پریشان ہو گئی…ایسا کیا ہوا…؟ یہ حالت کیوں؟ ؟بارش تو زندگی ہے…آبادی ہے…خوشی ہے…

بے دلی کے ساتھ جو موبائل اٹھایا تو میسج آیا تھا؛ "محترمہ عاصمہ جہانگیر اب ہم میں نہ رہیں”.

تو یہ وجہ تھی دل کی بے چینی کی…غریب کی، استحصال شدہ لوگوں کی، دکھی افراد کے گھر کی چھت کا پرنالہ ٹوٹ گیا…استحصال زدوں کی آواز، بے آواز ہو گئی..گونگوں کی آواز گھٹ کر رہ گئی…

عورتوں کے حقوق کا عَلم اٹھانے والی، عاصمہ جہانگیر بہادری، سچائی، ایمانداری کا عَلم دوسروں کو سونپ کر راہِ عدم کو چلی…

وقت کی مٹھی میں جمع کیے گئے چند جگنو جو محکوموں، مظلوموں کا کل اثاثہ ہیں، ایسے میں اک جگنو جو یوں اڑ جائے تو ہم جیسے لوگ تو بے اماں ہی رہ جائیں …

میں یہ بتانا ضروری نہیں سمجھتی کہ وہ کتنی تعلیم یافتہ تھیں… یا وہ…کہاں کہاں سے ڈگری یافتہ تھیں کہ ہمارے اردگرد تو ان یافتوں کے لاؤ لشکرکی دوڑ تو نامعلوم منزل کی طرف رواں دواں ہے…عاصمہ جہانگیر تو نامعلوم منزل کی مسافر ہر گز نہ تھیں…

وہ انسانیت کے قافلے کی، عورتوں کے قافلے کی مضبوط مسافر تھیں …کہ ان کے قافلے کی نوائے جرس سے تو محکوم و مظلوم طبقہ سمت پاتا تھا… بالکل ویسے… کہ جس طرح گئے وقتوں میں،گم گشتہ سمتوں کا تعین ، مسافر ستاروں سے کرتے تھے….

اک ایسا ہی روشن اتارا تھیں عاصمہ جہانگیر…. کمزور آ واز کے ڈھانچے میں محبتوں کے گارے میں گندھی امید کی بنیادی اینٹ تھیں عاصمہ جو توازن دیے ہوتا ہے…

قراۃ العین طاہرہ،گل بی بی کی جدوجہد کا تسلسل تھیں عاصمہ جہانگیر….

کیسے مانوں کہ عاصمہ جہانگیر اب نہیں رہیں؟!

سمو راج کے لیے تو وہ Source of Inspiration ہیں اور رہیں گی….!

Facebook Comments
(Visited 33 times, 1 visits today)

متعلق عابدہ رحمان

عابدہ رحمان کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ بنیادی طور پر فکشن نگار ہیں۔ ان کا پہلا ناول "صرف ایک پُل" 2016 میں شائع ہوا ہے۔ ماہنامہ "سنگت" میں افسانے اور مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مطالعہ اور موسیقی سے انہیں خاص لگاؤ ہے۔ Email:ento_abida@hotmail.com