مرکزی صفحہ / سیاسی حال / تربت میں‌جمعیت کی کانفرنس، مرکزی رہنماؤں کا خطاب

تربت میں‌جمعیت کی کانفرنس، مرکزی رہنماؤں کا خطاب

اسد بلوچ

جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے تربت میں جے یو آئی کیچ کے زیر اہتمام نویدِ انقلاب کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم پرستی کے نام پر بلوچ عوام کو دھوکہ دے کر ان کے ووٹ لینے والوں نے کرپشن ، لوٹ مار اور اقربا پروری کی نئی تاریخ رقم کی۔ بلوچ عوام کو لوٹ کر جعلی نعروں کے سہارے اقتدار لینے والوں کے دور میں ہر گھر ماتم کدہ بنا رہا، قوم پرستوں نے خود کو مسیحا بنا کر عوام کو استعمال کیا اور اقتدار میں آنے کے بعد اپنے نعرے اور وعدے بھول گئے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے جن حصوں میں جے یوآئی نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی وہاں تمام اجتماعی مسئلے حل ہوئے ہیں ہمارے نمائندے اب انفرادی مسائل پر توجہ دیے ہوئے ہیں، اگر جے یوآئی کو ووٹ دے کر کامیاب کیاگیا تو بلوچستان کا نقشہ بدل دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت بلوچستان کے راستے ملک میں انتشار اور انارکی پیدا کر رہا ہے۔ انڈین جاسوس کی گرفتاری کے بعد ان کا یہ چہرہ آشکار ہوگیا ہے۔ جو لوگ باہر بیٹھے افراد کی غداری کے سبب ملک کے خلاف سازشوں میں شامل ہیں، ناکامی ان کا مقدر ہے۔ چند قوتیں باہر بیٹھ کر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مگر وطن کی محبت ہمارا ایمان ہے ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارے 26 جوانوں نے اپنا خون دے کر وطن سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے، یہ قربانیاں دراصل ان قوتوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ مستقبل میں ان کے لیے یہ سرزمین غیر محفوظ ہے۔ عالمی قوتیں چاہیں بھی ہمارا ایمان متزلزل نہیں کر سکتی ہیں۔ مجھ سے بڑا محب وطن اور جے یوآئی سے زیادہ وطن پرست کوئی جماعت نہیں ہے۔ یہ بات مقتدر قوتیں ذہن نشین کر لیں کہ آئندہ 2018 کے الیکشن میں کسی کو 2013 کی طرح ووٹ چوری کرنے اور جعلی نمائندوں کو اقتدار دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ہر چھ ماہ بعد وزیراعلیٰ تبدیل کر دیا جاتا ہے دعا ہے کہ یہ تین مہینے خیریت سے گزر جائیں اور اللہ نہ کرے چوتھا وزیر اعلیٰ بھی آ جائے۔ انہوں نے کہاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد بلوچستان خود مختار ہوگیا ہے لیکن افسوس ہے کہ صوبائی بجٹ اور وسائل کو عوام کی فلاح کے لیے خرچ کرنے کے بجائے چند افراد کی فلاح پر خرچ کیا گیا۔

آج تربت جس پوزیشن پر ہے اسے سب دیکھتے ہیں حالانکہ ایک وزیر اعلیٰ بھی یہاں سے منتخب ہوا تھا لیکن صحت، اسکولز، امن و امان کی صورت حال ہمارے سامنے ہے۔ ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ بجٹ کہاں پہ خرچ کیاگیا، عوام کو کیا سہولتیں دی گئیں، ہسپتالوں میں کیا تبدیلیاں لائی گئیں۔

انہوں نے جے یو آئی کیچ کے کارکنوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ تربت میں اس طرح کی کامیاب کانفرنس کا انعقاد کر کے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ جے یوآئی اس ملک کا مستقبل ہے اور عوام جعلی قوم پرستوں، چوروں اور ٹھگوں سے تنگ آ چکے ہیں،نوید انقلاب کانفرنس تربت سمیت مکران میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہے، اس میں بلوچستان بھر سے رہنماؤں کی شرکت اسے بلوچستان کی نمائندہ کانفرنس ثابت کرتی ہے اور آئندہ الیکشن میں یہ کانفرنس جے آئی کی کامیابی کی نوید ہے۔

Facebook Comments
(Visited 12 times, 1 visits today)

متعلق اسد بلوچ

اسد بلوچ
تربت میں مقیم اسد بلوچ صحافت اور انسانی حقوق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کمیشن کے ضلعی نمایندہ بھی ہیں، اور بیک وقت مختلف صحافتی اداروں کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ علاقائی مسائل پہ تبصرہ اور تجزیہ ان خاص میدان ہیں۔