مرکزی صفحہ / بلاگ / وزیرِاعلیٰ، گوادر شاہی بازار میں
SANYO DIGITAL CAMERA

وزیرِاعلیٰ، گوادر شاہی بازار میں

جاوید حیات

یہاں کئی سالوں سے ڈیلیگیشن ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آتے ہیں اور ٹرین کی طرح گزر جاتے ہیں۔ صبح اخبار میں پتہ چلتا ہے کہ فلاں
ملک کے سرمایہ دار اور سفارت کار آئے تھے۔ دن کے کسی بھی پہر آنے والے مہمانوں کی سیکیورٹی پہ بجنے والا سائرن سماعتوں میں
محفوظ ہو کر رہ گیا ہے۔ سڑک پار کرنے والا ہر راہگیر یہ آواز سُن کر میل کے پتھر جیسا ٹھہر جاتا ہے۔

اِس شہر کو اگر باتیل کے پہاڑی پر موجود فائیو اسٹار ہوٹل کی کھڑکیوں سے دیکھا جائے تو وہاں کوئی مسئلہ نہیں دِکھتا، وہاں سے ہر چیز یوں نظر آتی ہے جیسے بارش میں دُھل گئی ہو۔ لیکن جب نیچے آ کر دیکھو گے تو یہ شہر ایک جنگ زدہ علاقے کے ٹوٹے ہوئے مقبرے کی طرح دِکھتا ہے۔

چند سالوں سے یہاں باہر سے آئے مہمان عوام سے ملنے نہیں آتے، صرف کیک کھانے آتے ہیں۔ مجھے اِس بات کی بیحد خوشی ہوئی کہ مدتوں بعد اِس بیکری میں کوئی کیک کھانے نہیں درد بانٹنے آیا ہے۔

ایکسپو 2018ء سے ایک دن پہلے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے گوادر آمد کے موقع پر سی ایم ہاؤس میں ایک کُھلی کچہری کا اہتمام کِیا۔ جہاں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وہاں لوگ شہری مسائل کا ڈھول پیٹنے کے ساتھ اپنے دُکھوں کا ہارمونیم بھی بجانے لگے۔ اِس جمگھٹے میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہوئے جو اپنی بیماری اور مجبوریوں کا بہانہ بنا کر ہر بڑے آدمی سے پیسے بٹورتے ہیں۔

اِس موقع پر وزیرِاعلیٰ کے مشیر کہدہ بابر نے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اِن کی اِس بُری عادت میں ہمارے اپنے گھروں کے بزرگوں کا ہاتھ شامل ہے۔ بھیک مانگنے کے کلچر نے سارے شہر کو پیداگیر بنا دیا۔

گوادر کی تاریخ میں آج سے پہلے ایسی روایت نہیں ملتی کہ کسی وزیرِ اعلیٰ نے عوام کے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری لگائی ہو۔ سی ایم بلوچستان کا یہ اقدام مثبت اور نتیجہ خیز عمل ہے۔ اُن کی یہ خواہش ہے کہ وہ یہ کچہری کوئٹہ سمیت ہر ضلعے میں رکھیں گے جہاں ضلعے کے ڈپٹی کمشنر باقاعدگی سے اِس کا اہتمام کریں گے۔

شام کو وزیرِ اعلیٰ نے بغیر پروٹوکول کے گوادر کی گلیوں اور بازار کا دورہ کِیا۔ جب وہ ملّا فاضل چوک پہنچے تو جیسے ایک بڑے جلسے میں شرکت کے لیے آئے ہوں۔ وہاں پُرانا بس اِسٹاپ دیکھا جہاں سیاست دانوں کے سچے جھوٹے ناٹک سجتے رہتے ہیں۔ الیاس کار پینٹر کی
دکان کے سامنے یکمشت گدھا گاڑی یونین کے بچے ہوئے آخری گدھے پر بھی نظر پڑی جو سواری کا انتظار کرتے کرتے گھر جانے کی
تیاری کر رہا تھا۔ اِس قافلے کے ہمراہ کچھ لوگ نائی کی دکان میں گُھس گئے اور کچھ حلیم کھانے میں اِس قدر مصروف ہوگئے کہ جیسے وہ
حلیم کھانے کے لیے ہی آئے تھے۔

تھوڑی دیر بعد وہ گھڑی چوک کی موبائل منڈی سے ہوتے ہُوئے شاہی بازار کی تنگ گلیوں کی طرف نکل پڑے جہاں دُھندلائے ہوئے
سائے اپنے گھائل کندھوں پرچراغ اُٹھائے نامعلوم منزلوں کی سمت جا رہے تھے۔ جہاں اُس نے کولگری وارڈ، کماڑی وارڈ، ڈوریہ میں
ماسی زلی کے گھر کے سامنے کا جوار بھاٹا بھی دیکھا، جہاں میلے کچیلے کپڑوں میں دوڑتے بچے اپنی قسمت کا ٹائر گھماتے ہوئے کنارے
پہ کھیل رہے تھے۔ وہاں جالوں میں اُلجھی زرد آنکھوں کی مری ہوئی کہانیاں بکھری پڑی تھیں۔ وہ سارا لاوا مچھیروں کی اپنی زبانی
سمندر کی اوپری سطح تک آ گیا جو آج سے پہلے زیرِ زمین میلوں پانی کے نیچے تھا۔

تنگ گلیوں میں مٹی کے اینٹوں کی دیواروں کی بکھری ریت ہر قدم پر اپنا دُکھڑا سُنا رہی تھی، اِن مچھیروں کے گھروں میں رسیّوں پہ لٹکتی
سوکھی مچھلیاں گہرے پانیوں کا عذاب جھیل رہی تھیں۔ بازار کی بند دکانوں کے سامنے اُڑتے ابابیل حاجی بنگالی کی دکان کے جلتے لُبان کی مہک کوکتی رہیں۔ اور وہاں چرسی لنگڑے نے عمانی قلات کے سامنے دوڑتے سپاہی کی بندوق چھین لی۔

کریمک کے ہوٹل کے سماور سے چائے کے بھرے پیالوں میں راتوں کو شکار کرنے والے مچھیروں کی تھکاوٹ چھلک رہی تھی۔

کچھ مچھیرے تاش کے پتوں کی جیت کا جشن اِس خاموشی سے منا رہے تھے جیسے وہ اپنی کشتیوں کے ساتھ کنارہ بھی ہار چکے ہوں۔

بائیسکوپ اور دُوربین سے صرف جراثیم دِکھتے ہیں، انسانوں کا دُکھ دیکھنے کے لیے ان کی بستی میں آنا پڑتا ہے۔ اِس سے نہ صرف مسائل کی
درست نشان دہی ہوگی بلکہ اُن کا ٹھوس حل بھی نکلے گا۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ایک نئی روایت رقم کر دی جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

اِس مختصر دورے میں وزیرِ اعلیٰ نے گوادر کی ترقی کسی گیراج میں پڑے پُرانے جیپ کے پُرزوں کی طرح دیکھی ہے۔ یقیناً اُنہوں نے اِس دورے سے پہلے اُن ترقیاتی پراجیکٹ کا جائزہ لیا ہو گا جو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سر پرستی میں کئی سالوں سے چل
رہے ہیں۔ اِن منصوبوں پر اربوں روپے لاگت آ رہی ہے اور وہاں کام کا معیار بیحد ناقص اور غیر تسلی بخش ہے۔ پدی زر کی میرین
ڈرائیو ہو یا کرکٹ اِسٹیڈیم کے اند ر بننے والا ٹریٹمنٹ پلانٹ شہر کو کینسر میں مبتلا کر دے گا۔ نکاسی آب کے جدید سسٹم نے سارے شہر کی کُھدائی کر کے ہر گلی اور راستے کو کھنڈر بنا دیا۔

یہ پراجیکٹس اب مسئلوں کا حل نہیں بلکہ خود گھمبیر مسئلے بن چکے ہیں۔ میرین ڈرائیو اور ماہیگیر گودی کے نام پر ہم انوائرمنٹ کے علاوہ تین بڑی قیمتی چیزیں ضائع کر رہے ہیں۔ پہلا ہمارا کنارہ بیچ، دوسرا کوہِ باتیل کے قیمتی پتھر جو بے دریغ پانی میں پھینکے جا رہے ہیں، تیسرا سمندر کا قدرتی ماحول تباہ ہو رہا ہے۔

پوری دنیا میں کنارے پہ تعمیراتی کام پر پابندی ہے، کوئی سڑک جب بنتی ہے تو پہلے اُس کا روڈ میپ بنتا ہے، سڑک بنانے والا انجنیئر
فش ہاربر تو نہیں بنا سکتا، اور یہ ایسی سڑک ہے جسے خود پتہ نہیں کہ وہ کدھر جا رہی ہے اور اِس کے سامنے ہزار سالہ تاریخ دفن ہو رہی ہے۔

ہر چھ مہینے بعد پانی کا بحران جنم لیتا ہے، کوئی ادارہ اِس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہی نہیں ہے۔ اُنہیں ڈر ہے کہ اگر یہ مسئلہ حل ہُوا تو ٹینکر مافیا کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ سب سے ضروری کام یہ ہے کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہر حال میں میرانی ڈیم تک پائپ لائن بچھانی چاہیے، کیوں کہ بلوچستان حکومت ٹینکروں کا بھاری بوجھ برداشت نہیں کر پائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے علم میں ایک چھوٹی سی بات لانا چاہتا ہُوں؛ گوادر میں جن علاقوں کا آپ نے دورہ کِیا وہ سب دیمی زر ایکسپریس
وے کے زیرِ عتاب ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کو کیسے تحفظ دیا جائے گا؟ سڑک کے بننے سے اُن کی زندگیاں ختم تو نہیں ہوں گی، وہ کہاں رہیں گے؟ جب سمندر پہ باڑ بنے گا، اُن مچھیروں کا ذریعہ معاش کیا ہوگا؟۔ ڈوبنے والوں کو مانجھی سے چھوٹی سی اُمید ہے کہ اِن مچھیروں کا کنارہ
اک ایسے سیارے پہ نہ بسایا جائے جہاں آکسیجن سلینڈر کے بغیر کوئی سانس نہ لے سکے۔

Facebook Comments
(Visited 55 times, 1 visits today)

متعلق جاوید حیات

جاوید حیات گوادر میں مقیم قلم کار ہیں۔ مقامی اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔ javedhayat42@gmail.com