مرکزی صفحہ / خصوصی حال / لیاری پہ منفی رپورٹنگ: کے ایل ایف میں خصوصی ڈاکیومنٹری سیشن

لیاری پہ منفی رپورٹنگ: کے ایل ایف میں خصوصی ڈاکیومنٹری سیشن

شبیر رخشانی

لوکل میڈیا نے لیاری پر کیا اثرات چھوڑے؟ اس پر ڈاکٹر ندا کرمانی کو ڈاکومنٹری بنانے کا خیال آیا۔ وہ کہتی ہیں کہ روزنامہ جانباز وہ واحد اخبار ہے جو لیاری میں زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ لوگ اس لیے یہ اخبار پڑھتے ہیں کہ اس میں لیاری سے متعلق ہی خبریں ملتی ہیں۔ لیکن کون سی خبریں۔۔۔ وہ جو لیاری کی شناخت کو مسخ کر رہی ہیں۔ تو ہم نے سوچا کیوں نہ اس پر کام کیا جائے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ میں نے جب فلم میکر دوستین بلوچ سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس موضوع پر ڈاکومنٹری کرنے کی حامی بھر لی۔ یوں ہم نے اس پر کام کرنا شروع کیا۔

ان دنوں کراچی میں نواں کراچی لٹریچر فیسٹیول جاری ہے۔ فیسٹول کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ یہ ایونٹ ہر سال کامیابی سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ کراچی لٹریچر فیسٹول میں نہ صرف کتابوں کے اسٹال لگتے ہیں بلکہ تین روزہ تقریبات میں مختلف موضوعات پہ سیشن رکھے جاتے ہیں۔ میلے میں اپنا حصہ ڈالنے ملک بھر سے ادیب و دانش ور کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ حالیہ فیسٹول میں ایک سیشن "Don Akbar’: Documentary screening and Discussion on Lyari’s Local Media پہ بھی رکھا گیا۔

اس سیشن کی موڈریٹر محقق و اسسٹنٹ پروفیسر سوشیالوجی لمز یونیورسٹی ڈاکٹر نداکرمانی تھیں۔ پینالسٹ میں شاعر وحید نور، فلم میکر دوستین بلوچ اور صحافی ضیاالرحمان شامل تھے۔ ایک گھنٹے کا سیشن بیچ لگژری ہوٹل، سوسائٹی ہال میں رکھا گیا تھا۔ شرکا کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ جگہ نہ ملنے کے باعث شرکا کی کثیر تعداد ہال سے باہر ہی ٹی وی اسکرین پر سیشن دیکھنے پر مجبور ہوئی۔

سیشن کا آغاز ڈاکومنٹری فلم نمائش سے کیا گیا۔ 14 منٹ کی اس ڈاکومنٹری فلم میں لیاری سے متعلق روزنامہ جانباز کے منفی کردار پر لیاری کے صحافیوں، سماجی ورکرز، گھریلو خواتین، طلبا اور طالبات کی آرا شامل کی گئی تھیں۔ سب کا کہنا تھا کہ لیاری کے حوالے سے جانباز اخبار کا کردار بہت منفی رہا ہے۔ اخبار نے حالات کے برعکس لیاری کی شناخت کو شدید متاثر کیا۔ متبادل کے طور پر ایک اخبار جو لیاری کی مثبت امیج لوگوں کے سامنے لاتا، نہ ہونے کی وجہ سے لیاری کے لوگ جانباز اخبار خریدنے اور پڑھنے پہ مجبور ہوئے۔

ڈاکومنٹری میں جانباز اخبار میں شائع ہونے والی خبروں اور تصاویر کے اسکرین شاٹس دکھائے گئے۔ بتایا گیا کہ زیادہ تر خبریں وہ ہیں جو گھڑی جاتی ہیں۔ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ خون سے لت پت تصویریں اخبار کی زیب و زینت بنی رہتی تھے۔ اخبار کی قیمت پانچ روپے اور فوکس لیاری تھا۔ یہ سارا کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا تھا۔

دوستین بلوچ نے کہا، ’’جانباز اخبار کی منفی صحافیانہ سرگرمیوں سے متعلق آگاہ تو سب تھے لیکن اس اخبار سے متعلق لب کشائی کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا۔ لوگ اس موضوع پر گفتگو کرنے سے خوف محسوس کرتے تھے۔ اور بہت سے لوگ جو اس پر بات کرنا چاہتے تھے ہم نے ان کے انٹرویو لیے۔ ہماری کوشش رہی کہ اخبار انتظامیہ کا مؤقف سامنے لے آتے۔ لیکن ہمیں ان تک رسائی حاصل نہیں ہوئی‘‘۔

صحافی ضیاالرحمان نے جانباز اخبار کی وجہِ مقبولیت اور لیاری پر اس کے منفی اثرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہ، ’’سوسائٹی میں سنسنی پھیلانے اور انہیں باخبر رکھنے کے نام سے شام کے اخبارات کا سلسلہ شروع کیا گیا تو روزنامہ ’ قومی اخبار‘ اور’عوام‘ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ پھر جانباز آ گیا۔ ایک مقابلے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 2005 میں جب لیاری میں حالات نے کروٹ لی۔ گینگ وار لیاری پہ غالب آ گیا تو اخبار نے گینگ وار کی خبروں کو لیڈنگ اسٹوریز کا درجہ دیا۔ جس سے اخبار کو بوسٹ ملا۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ قومی اخبارات نے لیاری کی مثبت سرگرمیوں پہ رپورٹنگ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ جانباز اخبار کو موقع ملا۔ اخبار کا فوکس مکمل لیاری پہ تھا تو یہ اخباری لیاری والوں کی مجبوری بن گیا کہ وہ اس کا مطالعہ کرتے‘‘۔

وحید نور نے کہا، ’’ مذکورہ اخبار نے لیاری کی سماجی اور معاشرتی اقدار کو پامال کیا۔ اخبار لیاری کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے میں مصروفِ عمل رہا۔ لیاری میں گینگ وار کو پروجیکٹ کرنے میں اسی اخبار کا کردار رہا۔ خبروں کے نام پہ بلیک میلنگ کرتے تھے اور لیاری کا ایک بھیاناک چہرہ دکھاتے تھے۔ جس کی وجہ سے لیاری کے نوجوانوں کو تاحال ملازمت کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دوستوں نے اخبار کے انہی اقدامات کے خلاف اداروں سے رجوع کیا۔ لیکن کہیں بھی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں‌ نے اس بات پہ زور دیا کہ مذکورہ اخبار پہ مکمل پابندی لگنی چاہیے.

پروگرام کے اگلے حصے میں سوال و جواب کا سیشن رکھا گیا۔ شرکا کی جانب سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈاکیومنڑی میں انتظامیہ اور اخبار مالک کا مؤقف بھی سامنے لانا چاہیے تھا۔ مارکیٹ میں ایک اور اخبار سامنے آ جانا چاہیے جو لیاری کا مثبت چہرہ پوری دنیا کو دکھا سکے۔

Facebook Comments
(Visited 86 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani