مرکزی صفحہ / مباحث / قول و فعل میں‌ متضاد ہمارے سیاست دان

قول و فعل میں‌ متضاد ہمارے سیاست دان

انور عباس انور

ہم سب بحثیت قوم ایک جیسے ہیں۔ خواہ کوئی صاحبِ منبر ہے یا ممبر پارلیمان ہے، خوانچہ فروش ہے یا سرکاری ملازم۔ سب دیکھنے میں کچھ اور دکھتے ہیں اور عملی طور پر دوہری شخصیت کے مالک نظر آتے ہیں۔ ہم ہر ایک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ پاک باز ہو، اس کے قول و فعل میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہ ہو لیکن اپنے متعلق ایسا نہیں سوچتے بلکہ ان خیالات کے برعکس مؤقف رکھتے ہیں۔

مسجد اور مدارس کے علما و خطیب دینی تبلیغ کرتے ہوئے اسلامی قوانین کے عدم نفاذ کو معاشرے میں موجود تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں قتل، زنا، زنا بالجبر، اغوا، اغوا برائے تاوان، ڈاکوؤں کو سرعام لٹکایا جائے تو باقی خود بخود اپنا قبلہ درست کر لیں گے۔ ان کے مؤقف میں بہت وزن ہوتا ہے، اگر یہ سزائیں بلا تفریق رنگ و نسل، بلا امتیاز مذہب و ملت و جنس اور پیشے کے ہر جرم کرنے والے کو دی جائیں۔

لیکن جب جرم ہمارے لختِ جگروں، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نورالعینوں سے سرزد ہو جائے تو ہم بلا کسی جھجک، شرم و حیا ان کے قانون کے شکنجے سے گلوخلاصی کے لیے ہر صاحبِ اربابِ اقتدار کے در پر دستک دیتے ہیں اور اس کے لیے اس بات کو بھی ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے کہ اس سے ان کی عزت، شہرت داغ دار ہو جائے گی۔ اس وقت ہمارا مقصد صرف اور صرف اپنے پیاروں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے اور سزا سے بچانا ہوتا ہے۔ آئین و قانون اور ہماری دینی تعلیمات کو ہم اپنے ذاتی مفادات کی الماری میں محفوظ رکھ دیتے ہیں۔

قوموں کی برادری میں باعزت قوم وہیں تصور ہوتی ہیں جن کے قول و فعل میں یکسانیت ہوتی ہے۔ جس قوم کے راہنماؤں میں یہ جوہر ناپید ہوتا ہے، وہ قوموں کی برادری میں ناقابلِ اعتماد اور ناقابلِ بھروسہ سمجھی جاتی ہے۔ اس صفت کی حامل قوم سے کوئی قوم نہ لین دین کرتی ہے اور نہ ہی اسے کسی قسم کی امداد کا مستحق خیال کیا جاتا ہے۔ قول و فعل میں تضاد رکھنے والے افرادکی گواہی کو ہمارا دین بھی قبول کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔

ہمارے ہادی برحق پیغمبر معظم نبی مکرم حضور علیہ السلامﷺ کی حیات مبارکہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے اسوہ حسنہ قرار دے کر اسے اپنانے کے احکامات اسی لیے جاری کیے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہری طور پر اعلانِ نبوت کرنے سے قبل چالیس سال تک اپنا قول و فعل اور کردار و عمل مکہ کے عوام کے سامنے پیش کیا۔ اور مشرکینِ مکہ کو دعوت اسلام دینے سے قبل ان سے اپنے قول و فعل اور کردار کی ان سے گواہی لی تو سب نے یک زبان ہو کر اقرار کیا کہ ہم نے آپ کو صادق اور امین پایا ہے۔ آپ جو کہیں گے سچ کہیں گے۔ لیکن نہ جانے ہم سچے پیغمبر کے پیروکار ہونے کے باوجود اپنے قول و فعل میں تضاد کیوں رکھتے ہیں؟

ہمارا معاشرہ تضادات سے بھرا پڑا ہے۔ ہم جو ظاہر میں نظر آتے ہیں، وہ اصل میں ہوتے نہیں۔ ہمارے اربابِ سیاست و اقتدار کو ہی لے لیں؛ 2013 کے انتخابات میں وعدے کیے، دعوے کیے کہ ہم برسراقتدار آ کر ملکی خزانے سے لوٹی گئی قومی دولت ان کے پیٹ پھاڑ کر نکالیں گے۔ انہیں لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کی سڑکوں پر گھیسٹا جائے گا اور لاہور کے بھاٹی چوک میں الٹا لٹکایا جائے گا۔

اللہ نے یہ دعوے اور وعدے کرنے والے رہنماؤں کو کامیابی سے نوازا، ملک میں ان کی حکومتیں قائم ہوئیں مگر پورے پانچ سال کا وقت گزر گیا۔ کسی قومی لٹیرے کا پیٹ نہیں پھاڑا گیا، اور نہ ہی کسی کو لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کی سڑکوں پر گھیسٹنے کے مناظر پاکستان کے شہریوں کو دیکھنے نصیب ہوئے۔

ایسے قومی راہنما اپنے قول کو پورا کرنے میں ناکامی پر ندامت محسوس کرنے کی بجائے ایک بار پھر پاکستانی عوام سے وعدے کیے جا رہے ہیں کہ اگر انہیں منتخب کیا گیا تو ہم قومی دولت لوٹ کر بیرونِ ممالک جمع کرنے والوں سے پائی پائی واپس لیں گے۔

انہیں پاکستانی سیاست دانوں نے لاہور اور پنجاب کے عوام سے وعدے کیے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا اور ویسا نہ کیا تو میرا نام تبدیل کر دینا۔ نہ لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی اور نہ کسی نے اپنا نام تبدیل کیا۔ پچھلے تیس سالوں میں نہ جانے کتنی بار وعدے اور دعوے کیے گئے کہ پنجاب کے تھانوں کا کلچر تبدیل کردیا جائے گا ، پولیس تھانے خوف کی بجائے جائے امن بنا دئیے جائیں گے، کچہری کا نطام بدل جائے گا عدالتیں عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کریں گی لیکن یہ سب کچھ بڑھکوں سے آگے نہیں جا سکا۔

اب انتخابات دو ہزار اٹھارہ کی آمد آمد ہے بلکہ برسراقتدار تمام سیاسی پارٹیوں نے انتخابی مہم شروع کر رکھی ہے، جلسوں کی بہار لگی ہوئی ہے۔ بڑی بڑی رقوم خرچ کر کے جلسوں کو کامیاب بنایا جا رہا ہے۔ ان جلسوں میں سارا زور مخالفین پر الزام تراشیاں کرنے پر صرف ہو رہا ہے۔ کسی ایک جماعت کی جانب سے ان جلسوں میں اپنی جماعت کے آئندہ کے منشور پر اظہار خیال نہیں کیا گیا۔

عوام کو روٹی ، روزی، روزگار، مکان اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے وعدے نہیں کیے جا رہے۔ عوام کو یہ تسلی نہیں دی جا رہی کہ ان کے برسراقتدار آنے کے بعد کسی باپ کو اپنی بیٹی کی شادی کرنے کی فکر دامن گیر نہیں رہے گی۔ یہ وعدہ نہیں کیا جا رہا کہ بیٹی جانے اور ریاست جانے؛ غریب عوام کی بیٹیوں کی شادیاں ریاست کرے گی، جہیز ریاست دے گی۔ اس مقصد کے لیے غریبوں کو ریاست اور صاحبِ ثروت حضرات کے آگے دستِ سوال نہیں پھیلانا پڑے گا۔

یہ وعدہ بھی نہیں کیا جا رہا کہ ان کے اقتدار میں آتے ہی کوئی شخص علاج معالجے کی سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث نہیں مرے گا۔ ایسا ہوا تو حکومت ذمہ دار ہوگی۔ یہ وعدہ بھی نہیں کیا جا رہا کہ وہ برسراقتدار آنے کے ایک سال کے اندر اندر تمام بے گھر افراد کو اپنا گھر دیں گے۔

سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک وعدہ کیا تھا کہ ہر سرکاری ملازم کو ملازمت سے ریٹائرمنٹ پر پنشن کاغذات کے ہمراہ گھر کی چابیاں دی جائیں گی، مگر یہ وعدہ پورا کرنے کی سوچ ہی پیدا نہ ہوئی۔ ایسا خیال بھی سابق وزیراعظم کے قریب سے نہیں گزرا ہوگا۔

میرا سوال ہے اپنے سیاست دانوں سے کہ وہ ایسے وعدے اور دعوے کرتے ہی کیوں کرتے ہیں جنہیں پورا کرنے کی انہیں اجازت ہی نہ ہو!!۔

Facebook Comments
(Visited 19 times, 1 visits today)

متعلق انور عباس انور

khas.loag@gmail.com