مرکزی صفحہ / بلاگ / بات تو سچ ہے، مگر…

بات تو سچ ہے، مگر…

صادق صبا

آج اس کی خوشی دیدنی تھی، اس کے چہرے پر ایک عجب سا نور تھا۔ ایک عجیب سی مسکراہٹ جو کئی سالوں کے بعد اس کے چہرے کی زینت بنی تھی۔

میرے چہرے پر استفسار کے بادل دیکھتے ہی اس نے یہ عقدہ حل کرنا چاہا، اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا، "صبا صاحب، آپ جانتے ہیں میں نے بچپن میں بہت کرکٹ کھیلی لیکن حسرت یہ تھی کہ میں کبھی ایک ففٹی بھی نہیں بنا سکا، مگر آج میں نے میدان مار لیا۔”

مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے طنزیہ پوچھا، "یہ کون سے بچوں کی ٹیم تھی جس کے سامنے لگتا ہے آپ نے سنچری بنائی ہے جو مسکراہٹیں تھمنے کا نام نہیں لیتیں۔”

میرے استفسار پہ اس نے کہا، "نہیں میرے بھائی آج میں نے کسی اور میدان میں ففٹی کی ہے، میں نے پچاسويں بار نوکری کے لیے اپلائی کیا ہے اور مجھے ایڈوانس میں کہا گیا، "آپ کے پاس ڈانڈا پاچ ہے؟” میں نے ایمپائر کی طرح انگلی پوا میں اوپر اٹھائی تو اس نے اپنا جام ٹیبل کے نیچے سے نکالا اور ایک ہلکا سا گھونٹ لے کر کہا کہ جناب تھوک سے پکوڑے نہیں تلتے، تو میں مایوس ہو کر اپنی پچاسويں ناکامی کو سلیبریٹ کر رہا ہوں۔

لوگ کہتے ہیں آپ بے روزگار ہیں، یار یہ روز روز کام کرنے کی بدن توڑ مزدوری کون کرتا ہے اور میرے بھولے صاحب آپ کو پتہ ہے میں ایک اور کام کرتا ہوں اور وہ بھی بچپن سے۔ میں نے بیزاری سے پوچھا، "کیا؟”

تو مخاطب ہوا کہ میں جلاد ہوں، میں روز خواب دیکھتا ہوں اور روز ان کو تختہ دار پہ لٹکاتا ہوں۔ جناب اب میں سیاست دان بننے کا خواب دیکھ رہا ہوں، کیوں کہ میری ناکامیاں آیات مبین ہیں کہ میں ایک کامیاب سیاست دان بن سکتا ہوں اور انشااللہ میں آئین پاکستان میں ایک آدھ ترمیم کا اضافہ کروں گا، وہ یہ کہ بااثر کے لیے سفارش کو آئینی حق قرار دون گا اور غریب کے لیے خودکشی کو۔

پھر بولا، غریب سے یاد آیا یار یہ غریب لوگ بڑے گندے ہوتے ہیں، ڈاکو ہوتے ہیں، بے ایمان چور ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا تھا کہ ہمارے پیارے دبئی، سوری جناب گوادر میں رات کو دو ٹب پانی چرایا گیا تھا، اف اللہ قیامت ہے بھائی قیامت، آئین میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے۔ پانی چورورں میرا مطلب ہے بے ایمان چوروں کے ہاتھ، پاؤں، کان سب کاٹنا چاہیے، ہو سکے تو سر بھی کاٹنا ہوگا۔ بھائی، ہم مسلمان ہیں، یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ہمارے گھر کے سامنے سے ایمان چوری کر کے لے جائے اور وہ بھی ہمارے گوادر سے، یہ چوری نہیں سی پیک کے خلاف کھلی سازش ہے۔

ایک اور ترمیم بھی وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر احتجاج کرنے والا دہشت گرد ہے، کیوں کہ پاکستان کے زیادہ تر نوجوان آوارہ گرد ہیں، دہشت گرد اور آوارہ گرد کچھ تو مناسبت ہے ناں؟
کچھ تبدیلیاں ہمارے نصاب میں بھی ناگزیر ہیں۔ جیسے کہ کرپشن کا ایک سبجیکٹ ہونا چاہیے، کیونکہ سب سے زیادہ ضرورت ہمیں اسی کی پڑتی ہے جو مزید برآں مشکل نہیں ہوگی اور کچھ جملے ہیں ان کو ہمارے ہاں یوں ہونا چاہیے تھا، جیسے ”کرپشن نصف ایمان ہے“ دوسرا ”جو امیروں کی سفارش نہیں کرے گا کل کوئی اس کی سفارش نہیں کرے گا۔“

اس کی ان بے سروپا باتوں سے مجھے سردرد سا ہونے لگا، تو میں نے اس سے کہا، "بھائی، ناامیدی کفر ہے….”

تو وہ منہ پھاڑ کے مجھ پہ ہنسنے لگا اور طنزیہ کہا، "مولانا صادق صبا صاحب! جب آپ کی امیدوں کے چمنستان کو پانی ملنا بند ہوگا ناں تب آپ کو یہ چمنستان بھی قبرستان لگے گا اور یہ ساری امیدیں قبروں میں ایسی سوئی ہوں گی کہ کوئی صور پھونکے یا حشر بپا ہو ان کو کوئی نہیں جگا سکے گا۔ خیر سلام سر….!!”

یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا اور میں دل ہی دل میں اسے کوستا رہا۔

Facebook Comments
(Visited 119 times, 1 visits today)

متعلق صادق صبا

صادق صبا
صادق صبا کا تعلق مکران کے ساحلی علاقہ پسنی سے ہے۔ نوجوان طالب علم ہیں۔ حصولِ علم کے ساتھ ساتھ ایک نجی سکول میں پڑھاتے بھی ہیں۔ علاقائی سماجی معاملات پہ لکھنے کا ذوق رکھتے ہیں۔ zavia500@gmail.com