مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / ادھوری کتابوں کے خالق کہاں ہو؟!

ادھوری کتابوں کے خالق کہاں ہو؟!

محمد خان داؤد

وہ ننگر چنا جو نصیر آباد میں اپنی ماں، اپنی جیون ساتھی اور بچوں کے ساتھ مقیم تھا۔ جو لکھنے پڑھنے کا بہت شوقین تھا۔ جو اس لیے نہیں لکھتا تھا کہ لوگ اسے جانیں، وہ اس لیے لکھتا تھا کہ لکھنا اس کی زندگی تھی۔ وہ بیک وقت کئی کئی کتابیں پڑھتا رہتا تھا۔ وہ شاعر تھا پر دیکھنے میں کوئی فلاسفر معلوم ہوتا تھا۔ مگر پیشے کے لحاظ سے وہ استاد تھا۔ وہ بچوں کو سچ کا سبق پڑھا کر واپس پھر ان کتابوں کی گلیوں میں کھو سا جاتا تھا۔ جن کتابوں کی گلیوں میں کوئی نہیں جاتا۔ اگر کوئی جاتا ہے تو واپس نہیں آتا۔ ننگر چنا وہ شخص تھا۔ جو کتابوں کی گلیوں میں کھو سا گیا تھا۔ اسے وہ سیاست بھی ان گلیوں سے واپس نہیں لائی جو سیاست پورے سندھ اور بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھتی ہے۔

اور آدھے علم والی سیاست ان نوجوانوں کو ریاست کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ جس کے بعد اندھی قبریں ان کا مقدر ٹھہرتی ہیں۔ جن قبروں پر کوئی پھول بھی نہیں ڈالتا، کوئی اگر بتی نہیں جلتی۔ جن کے لیے کوئی موم بتی بھی نہیں جلتی۔ جن قبروں پر ماؤں کے آنسو اور چاند کا دھیما سا سایا رہتا ہے، اور بس!

پر ننگر چنا سیاست کا آدمی ہی نہیں تھا۔ اسے جی ایم سید سے زیادہ اس شیخ ایاز سے محبت تھی، جس نے لکھا تھا؛
گاؤ!گاؤ! انقلاب گاؤ!

وہ انقلاب کے گیت گاتا۔ پر سمجھتا تھا کہ ایسے معاشرے میں انقلاب کا آ جانا معجزہ ہی ہوگا۔

وہ تو کتابیں ہی اس لیے پڑھتا تھا کہ سیاست کو سمجھا جائے اور کتابیں ہی اس کا قصور ٹھہری ہیں۔ اب نہ تو وہ ماں جانتی ہے کہ ننگر چنا کہاں ہے؟ نہ وہ جیون ساتھی اور نہ ہی وہ بچے جو اپنے بابا سے بہت ضد کرتے تھے کہ کہیں لے چلو۔ پر وہ کتابوں کا آدمی کتابوں سے ہی نہیں نکلتا تھا تو ان بچوں کو کہاں لے جائے اور کیسے لے جائے؟!

وہ ننگر چنا جو بیک وقت کئی کتابیں پڑھتا، تو بیک وقت کئی چیزیں بھی لکھتا رہتا۔ وہ لکھتے لکھتے کراچی میں موجود کامریڈ مشتاق شان کو فون کرتا اور کہتا، کامریڈ پشتو میں ماں کو مور کیوں کہتے ہیں؟!!

اور اسی وقت کوئٹہ میں موجود عابدمیر کو فون کر کے معلوم کرتا کہ، "عابد اس وقت ڈاکٹر شاہ محمد مری کون سی کتاب کو ترجمہ کر رہے ہیں؟!” عابد میر جواب دیتا تو ننگر چنا گویا ہوتا، "ارے یار یہی کتاب تو آدھے سے زائد میں ترجمہ کر چکا ہوں۔” پھر وہ کوئی کہانی لکھنے بیٹھ جاتا۔ کہانی وہیں رہ جاتی۔ وہ کالم لکھنے بیٹھ جاتا۔ پھر کسی سندھی روزنامے میں موجود اپنے کسی ساتھ کو فون کرتا اور اسے کہتا یار اپنا ذرا ای میل تو دینا میں نے کچھ لکھا ہے تمہیں بھیج رہا ہوں، دیکھ لینا۔

وہ ننگر چنا کتابوں کی وادیوں میں گم رہتا۔اس کے آس پاس کئی صفحات الٹ سلٹ موجود رہتے جس میں ناول کا ترجمہ، کہانیاں، آدھی نظمیں۔ وہ نظمیں کب اپنی تکمیل کو پہنچیں گی، کوئی نہیں جانتا کیوں کہ وہ شاعر ہی نامعلوم سا ہوگیا۔ نہیں معلوم وہ کہاں ہے۔ آخری بار وہ اپنے گھر میں دیکھا گیا تھا۔ جہاں سے اسے رینجرز والے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ پھر وہ لوٹ کر نہیں آیا۔ اب تو اخبارات بھی اس کی گمشدگی کی خبریں نہیں دیتا۔

اب تو اسے اس کے دوست بھی یاد نہیں کرتے۔اب تو عابد بھی اس کے لیے کوئی نظم نہیں لکھتا۔ نظم کیا کوئی اسٹیٹس نہیں لکھتا۔ اب تو کراچی میں موجود مشتاق شان اس کے لیے لوگوں کو جمع کر کے کوئی مظاہرہ نہیں کرتا۔ اب تو سندھی ادبی سنگت بھی اسے بھول بیٹھی ہے۔ اب تو اسے اس کے محلے والے بھی یاد نہیں کرتے۔ اب تو اسے وہ بچے بھی یاد نہیں کرتے جن بچوں کو وہ صبح صبح سلام کر کے شاہ جو کلام پڑھاتا تھا، بچے جھومتے تھے اور ننگر چنا روتا تھا۔ کیونکہ وہ کلام ہی اتنا تاثیر سے پڑھتا تھا کہ آنکھوں سے اشک رواں ہو ہی جاتے تھے۔

پر وہ نصیر آباد کہتا ہے ان لوگوں سے جو ننگر چنا کو بھول بیٹھے ہیں کہ کیا وہ اتنا بے نام تھا کہ اب اسے کوئی یاد ہی نہ کرے؟!!
وہ ننگر چنا جو اپنی آنکھوں میں علم کا بار اور اپنی دل میں دووستی کا بار لیے گھوما کرتا تھا، اب کسی کو یاد نہیں!
وہ ننگر چنا جس کے بال سفید ہو رہے تھے پر اس کا دل بچوں جیسا تھا، اسے اب کوئی یاد نہیں کرتا۔
وہ ننگر چنا جو کوئٹہ میں اپنے ساتھوں سے ملتا اور ان سے علمی کچھری کر کے واپس ہوتا، اب وہ ان کوئٹہ والوں سے بھی بھول گیا ہے۔

وہ ننگر چنا جو سیاست میں علم کے دخل کو لازمی سمجھتا تھا۔ اسے ان پڑھے سیاسی کارکن اگر بھول جائیں تو کوئی بات نہیں پر اسے دانشور سیاسی کارکن بھی بھول بیٹھے ہیں جن سیاسی دانشوروں کو سگریٹ کے پاکٹ سے لے کر کتابوں کے کور پیج تک سب لال رنگ پسند ہوتا تھا وہ بھی اس ننگر چنا کو بھول بیٹھے ہیں۔

وہ اخباری کالم نگار جن کے کالم پڑھ کر ان کے رابطے نمبر تلاش کر کے ننگر چنا ان بس فون پر یہ کہتا تھا کہ، "سائیں اوھان تمام سٹھو لکھیو آھے!” وہ بڑے نام بھی اس چھوٹے سے نام والے ننگر چنا کو یاد نہیں کرتے۔
وہ اخبار جن اخباروں میں دیے کی روشنی میں کالم لکھے، پھر وہاں پہنچائے جہاں سے اخبار پبلش ہوتا ہے۔ وہ اخبار بھی ننگر چنا کو بھول بیٹھے ہیں۔
وہ لکھنے والے بھی اسے بھول گئے جو اس کی بہت تعریف کرتے تھے۔
وہ سندھ بھی اسے بھولتا جا رہا ہے، جس کی بولی میں وہ لکھا کرتا تھا۔ اور وہ بلوچستان بھی اسے بھولتا جا رہا ہے جہاں سے اس کی کتابیں شائع ہوتی تھیں۔

کیا ننگر چنا ایسا ہی تھا کہ جسے بھلا دیا جائے؟!!

وہ پڑھنے والے بھی اسے بھول گئے جو اس کے لکھے کالم، اس کی کہانیاں، اس کے تراجم پڑھتے تھے اور اس سے جلتے تھے۔ وہ معصوم بچے کے دل جیسا ننگر چنا کہاں گیا؟ جس کا اگر کوئی نہ بھی پوچھے اور اس کے یوں گم ہو جانے سے کسی کے معمولاتِ زندگی نہ بھی رکیں پر وہ ماں اس کی روز راہ تکتی ہے، وہ جیون ساتھی اپنے ساتھی کی راہ تکتی ہے، وہ بچے اپنے بابا بن بہت اداس ہیں۔

اور وہ نظمیں، وہ کہانیاں، وہ کالم، وہ تراجم…
سب یہی صدا دیتے ہیں:
"ادھوری کتابوں کے خالق کہاں ہو؟!”

پر اس بارونق دنیا میں کون جانے کہ اس میلے میں کون کم ہے، کون گم ہے اور کتابیں کس کا پتہ پوچھتی ہیں؟!! اب وہ کراچی میں اور کوئٹہ میں موجود داستان گو اس ننگر چنا کے لیے کچھ نہیں لکھتے…!!

Facebook Comments
(Visited 17 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com