مرکزی صفحہ / بیادِ لالہ صدیق بلوچ / بلوچ صحافت کا گلِ لالہ، الوداع!

بلوچ صحافت کا گلِ لالہ، الوداع!

محمد اسلم خان

بلوچ سیاست و صحافت کا لالہ! لالہ صدیق بلوچ سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے۔ خبریں شائع کرنے والا خود خبر بن کر لحد میں اتر گیا، دل اداس کرگیا۔ آخری ملاقات، نہیں جناب ایک ہفتے پر محیط دورہ چین میں دن رات کا ساتھ رہا۔ اس کی یادیں ذہن کے پردہ سکرین پر ابھر کر کچوکے لگاتی رہیں۔ سی پی این ای کے زیراہتمام دورہ چین کے دوران خاموش طبع لالہ جی ہم جوانوں سے آگے آگے ہمیشہ صف اوّل میں رہے لیکن درجنوں بریفنگوں میں بالکل خاموش رہے کہ بھارتی اشاروں پر ناچنے والے گماشتے نے پاکستان مخالف سوالات کیے جس پر اس کالم گار نے شدید مزاحمت کر کے اسے ناکوں چنے چبوا دیے جس سے وفد کا عمومی ماحول بڑا مکدّر ہو گیا تھا۔

بلوچستان میں صحافت کی پہچان بن کر سورج کی تیز کرنوں کی طرح الفاظ بکھیرنے والا خود آج غروب ہوگیا۔ رائے پر ’اڑ‘ جانے والے شوریدہ سر بلوچ نے انگریزی زبان میں صحافت کی اور تادم آخر جنگ جاری رکھی۔ قلم کے مزدور نے صحافتی سیاست میں بھی اپنے کردار کا ڈنکا بے جگری سے بجایا۔ ادارے بنائے اور آگے بڑھائے۔ بلوچستان ایکسپریس کے نام سے کوئٹہ سے انگریزی اخبار شائع کیا۔ گارڈین کراچی اور اردو روزنامہ آزادی کے علاوہ ہفت روزہ ایکسپریس کوئٹہ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر آخری سانس تک سرگرم عمل رہے۔

دلچسپ اتفاق ہے کہ 10 فروری 1940 کو پیدا ہونے والے لالہ صدیق بلوچ کی تاریخ وفات 5 فروری 2018 لکھی گئی۔ صدیق بلوچ دانش ور اور مصنف کے طور پر بھی اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ لیکن ان کے ساتھ گفتگو کا مزہ بھی نرالا تھا۔ خیالات کے اس تبادلے، گرما گرمی، ملاقات کی پرکیف محافل میں موت کا پردہ حائل ہو چکا ہے۔ خیالات اور نظریات کی تلخی کتنی ہی کیوں نہ ہو، لیکن مخالفانہ رائے نہ ہو تو کیا مزہ، کون سا مذاکرہ اور کیا آزادی اظہار؟ نظریات کے پنکھ دلیل سے کاٹنے والے مخالف نہ ہوں تو مکالمہ بھی مرجاتا ہے۔

بلوچستان سے محبت کو زندگی بنانے والے صدیق بلوچ کی تدفین کراچی کے مقامی قبرستان میں ہوئی۔ ان کی پیدائش لیاری کے نواح چاکی واڑہ میں ہوئی۔ جنگیان کے گھر پیدا ہونے والے صدیق بلوچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں والدین کے سائے سے محرومی لالہ صدیق بلوچ کی علمی جستجو اور عوامی خدمت کے جذبہ کے راستے کا پتھر نہ بن سکی۔ بے تحاشا مسائل کو خاطر میں لائے بغیر وہ اپنی جدوجہد میں مست رہا۔

1990 میں وہ کوئٹہ ہجرت کرگئے۔ پرائمری تک تعلیم کراچی کے ایک مقامی سکول سے حاصل کی۔1959 میں قائداعظم کے نام سے مزید امتیاز پانے والی درس گاہ سندھ مدرسۃ الاسلام سے میٹرک اور 1964ء میں ایس ایم کالج سے گریجویشن کی۔ 1966ء جامعہ کراچی سے معاشیات میں ماسٹرز ڈگری لی۔ صحافتی کریز سے نکل کرسیاست کے عملی میدان میں بھی لالہ صدیق بلوچ نے بھرپور کردار نبھایا۔ ایک طرف جہاں لوگ مراعات کی چمک سے اندھے ہوئے جاتے تھے، لالہ صدیق بلوچ نے بیرون ملک دبئی کے ایک انگریزی اخبار سے آنے والی بڑی پیشکش ٹھکرا دی۔

کہتے تھے زندگی کا مقصد اپنے لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔ ہار نہ ماننے والے لالہ صدیق بلوچ سے دھوکے سے سندھ ایکسپریس اخبار چھین لیاگیا۔ اس کی پروا کیے بغیر انہوں نے کوئٹہ سے ڈیلی بلوچستان ایکسپریس کی بنیاد رکھی جس کا عملہ زیادہ تر نوجوان پر مشتمل تھا۔ دن رات محنت کر کے اسے بہت بڑا ادارہ بنا دیا۔ ان کا رویہ کبھی مالکانہ نہ رہا۔ حریت فکر شاید صدیق بلوچ کے خون میں شامل تھی۔ اختلاف رائے ان کی گھٹی میں تھا۔ یہی سبب تھا کہ اوائل عمری سے ہی اپنی رائے کا اظہار ان کی سرشت میں تھا۔ خیالات کی لہریں تیز طوفان بن کر اسے جھنجھوڑتی رہتی تھیں۔ سماجی ناانصافی اسے بے چین رکھتی تھی۔

یہ اضطراب اسے تعلیم کے مراحل کی تکمیل کے دوران ہی نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) کی جانب سے لے گیا اور وہ اس کا متحرک رکن بن گئے۔ ’ون یونٹ‘ کے خلاف تحریک میں صدیق بلوچ پوری طرح سرگرمی سے بروئے کار آیا۔ تین سالہ ڈگری کورس کے خلاف مہم میں بھی پیش پیش رہا۔ انہیں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے بانی ارکان میں بھی شمار کیا جاتا تھا۔ 1962ء میں تنظیم کے قیام کے بعد 1966ء میں سینئر نائب صدر کے طور پر بھی کردار ادا کیا۔

فرزندِ لیاری لالہ صدیق بلوچ نے ہمیشہ اپنی قوم کی بھرپور رہنمائی کی کوشش جاری رکھی۔ پھر ان کا سیاسی سفینہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے ساحل سے جا لگا۔ غوث بخش بزنجو کی نیپ کے پریس سیکریٹری کے طور پر بھی انہوں نے کام کیا جو چار تک رہا۔ صدر ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ حکومت کا جھٹکا کیا اور حیدرآباد سازش کا ملبہ ڈال دیا تو صدیق بلوچ کے پانچ سال جیل کی نذر ہوگئے۔ جیل میں انہیں پشتون اور بلوچ معروف راہنمائوں نواب خیر بخش مری، سردار عطاء اللہ مینگل، خان عبدالولی خان اور دیگر کی ہمراہی میسر آئی۔ اس دور کے قصے، کہانیاں سناتے صدیق بلوچ کی آنکھوں کی چمک تیز ہو جاتی اور وہ ماضی کی یادوں میں کہیں دور گم ہو جایا کرتے تھے۔

’مردِ مومن مردِ حق‘ جنرل ضیاالحق نے بھٹو حکومت کو پٹخ دیا تو صدیق بلوچ کو ’دورِ آمریت‘ میں زنداں کی کلفتوں سے نجات نصیب ہوئی۔ صدیق بلوچ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے فروری 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت کی آمد کی خوشی منائی اور اسے خوش آمدید کہا۔ اس کی بنیادی وجہ آصف علی زردای کا بلوچ ہونا تھا۔ صدیق بلوچ اپنے اس خیال پر آصف زرداری کی صورت آنے والی اس تبدیلی پر شاداں تھے کہ پی پی پی نے آمر کو اقتدار سے الگ کر دیا۔ تاہم ان کا پیپلزپارٹی کے لیے یہ بھی تجزیہ تھا کہ بلوچستان میں اسے شدید مشکلات کا سامنا ہو گا۔

بلوچستان کے لیے ان کی رائے میں آپریشن مکمل بند کر کے سیاسی گنجائش نکالنا ہی واحد حل تھا۔ صدیق بلوچ نے صحافتی زندگی کے دوران متعبر انگریزی اخبار ڈان کے لیے کام کیا اور مختلف حیثیتوں میں اس ادارے سے کامل اٹھائیس برس وابستہ رہے۔ 1981 میں کراچی یونین آف جرنلٹسٹس (کے یوجے) کے صدر منتخب ہوئے اور دو بار انہیں یہ موقع ملا۔ بلوچستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کونسل کے صدر اور پھر کراچی پریس کلب کے نائب صدر کے طور پر بھی انہیں عزت و توقیر ملی۔ وہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے بلوچستان سے نائب صدر بھی رہے۔ صدیق بلوچ ان صحافیوں میں شامل تھے جنہیں پاکستان سے عالمی میڈیا بلوچستان کے حوالے سے سب سے زیادہ جگہ دیتا تھا۔

بطور مصنف بھی انہوں نے اپنی سوچ اور خیالات کو متشکل کرنے کے لیے بلوچستان کی سیاست اور معیشت کے عنوان سے کتاب لکھ ڈالی۔ جنوری2014 کو اس کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی۔ انہوں نے دو کتابیں اور لکھیں۔ تیسری کتاب تحریر کر رہے تھے مگر زندگی نے مہلت نہیں دی۔ جس کی آواز کوئی نہ دبا سکا، چپ نہ کرا سکا، کینسر کے موذی مرض نے وہ کر دکھایا۔ صدیق بلوچ نے ایک بار کینسر کو بھی پچھاڑا، کامیاب علاج کے بعد صحت یاب ہوئے اور صحافتی خدمات انجام دینا شروع کیں لیکن دوبارہ وار سے جانبر نہ ہو سکے۔

آزادی اظہار میں یقین ان کی سوچ کی بنیاد رہی۔ ساری زندگی اس حق کے مبلغ اور پرچارک رہے، برسرپیکار رہے۔ آمریت اور میڈیا پر قدغن کے خلاف سراپا احتجاج۔ پرویز مشرف کے دورِ حکمرانی نومبر 2007ء میں پاکستان الیکڑانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) آرڈیننس میں ترمیم پر چپ نہ رہ سکے۔ چاندی جیسے سفید بالوں والے شخص کے اندر کا ’لبرل‘ جوان ہوگیا۔ کہا یہ ترمیم اور میڈیا پر قدغن سچائی اور آزادی اظہارکا گلا دبانے کی کوشش ہے۔ یہ غیرآئینی حکومت ہے جس کے خلاف میڈیا اور سول سوسائٹی ڈٹ کر کھڑی ہے۔

بلوچ حقوق کا سفیر راہی سفرِ اجل ہوا۔ اختلافات کا سلسلہ رکا نہیں۔ آخر ملاقات تو ہونی ہی ہے لالہ جی، بلاشبہ آپ اپنے قول و فعل میں صدیق تھے، امین تھے۔

Facebook Comments
(Visited 16 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔