سب مایا ہے!

محمد خان داؤد

انتظار حسین نے اپنے شہرہ آفاق ناول "آگے سمندر ہے” میں لکھا ہے کہ،

"جب انسان کو اپنے بچپن کے واقعات تیزی سے یاد آنے لگیں تو سمجھ جاؤ وہ بوڑھا ہو رہا ہے! جب کسی جرم پہ کوئی خاموشی توڑ دے، اور آگے بڑھے جلسوں ریلیوں، مظاہروں کی قیادت کرے، لوگوں کو قائل کرتا پھرے کہ وہ اس کے ساتھ شاملِ حال رہیں، وہ لوگوں کے پاس جائے، ان کے بلانے پہ جائے اور اسے یہ انتظار ہو کہ کہاں سے کوئی پیغام آتا ہے، اور وہ دوڑتا جائے اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ جس ظلم زیادتی کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے، وہ ظلم اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب نہیں مٹے گا، مٹے گا ہی نہیں۔ تمہیں سمجھ جانا چاہیے کہ جو ان دھرنوں اور ریلیوں کی سربراہی کر رہا ہے، وہی مجرم ہے۔ وہ اسی کا ساتھی ہے، جس کے خلاف وہ احتجاج ہو رہا ہے، وہ وہیں سے آیا ہے، جہاں کے سب در بند ہیں، اس کو اسی نے بھیجا ہے، جس کے خلاف یہ پنڈال سجایا گیا ہے!”

آج جو کراچی پریس کلب کے سامنے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں یا تو وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، اور انہیں اپنے بچپن کی وہ یادیں بہت ستا رہی ہیں، جس میں ملیر آزاد تھا اور ملیر کی زمین میں ہریالی تھی۔ ملیر کی زمیں تنگ نہ تھی۔ ملیر کی زمین بہت وسیع تھی۔ ایسے جیسے ماں کا دامن وسیع ہوتا ہے اور سب بچے اس میں سما جاتے ہیں یا تو پھر وہ مجرم ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بحریہ ٹاؤن اتنا خطرناک اژدھا بن گیا کہ سوائے فیض گبول صاحب کے جھوکیوں سے گبولوں تک، میمنوں سے لے کر کلمتیوں تک سب کو نگل گیا۔ اور اس بحریہ کے پیٹ سے باہر فیض گبول کھڑا یہ سوچتا رہا کہ اس بھوکی قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ ملک ریاض کے پاس اپنی مائیں بیچ رہے ہیں؟!!

ہاں وہ سب ڈرتے تھے، جو آج پریس کلب کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔
وہ راؤ انوار سے ڈرتے تھے۔
وہ پولیس سے ڈرتے تھے۔
وہ زرداری سے ڈرتے تھے۔
وہ ملک ریاض سے ڈرتے تھے۔

اور اپنا دامن بچائے بس گھر میں آتی اخبار پڑھتے رہے اور بحریہ ٹاؤن ایشو سے باخبر رہے۔ باقی ان کا اس ایشو پر کوئی بھی کام نہیں۔ اب جو بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج ہو تے ہیں تو اس میں وہ لوگ بھی نظر آتے ہیں جو سیاست میں فیل ہوئے۔ جنہوں نے جھوٹے سپنے دکھا کر سندھ کے سیکڑوں جوان مروا دیے۔ میرے علائقے کے بیس جوان اس غیر مقبول پارٹی میں گئے اور ایندھن کے طور پر استعمال ہوئے۔ ان کی پرانی قبریں آج بھی قبرستان میں موجود ہیں۔ کوئی آئے میں دکھاتا ہوں وہ سپنوں، خوابوں اور خون سے بھری قبریں جن کے وجود میں اندھی گولیاں پیوست ہوئیں۔ وہ جوان کام میں آ گئے۔ کچھ مخالفوں کے، کچھ ایجسنیوں کے ان پر بھی لکھا جا سکتا ہے۔پر ابھی وہ ہمارے نشانے پر نہیں۔ پر انہیں چھوڑا بھی نہیں جا سکتا۔

اب سوال یہ ہے کہ،
کیا زمین پر اتنا قبضہ ایک دن میں ہوا ہے؟
کہاں تھی ملیر کی سیاسی قیادت جو ہر دفعہ ووٹ لے کر نظروں سے غائب ہو جاتی ہے؟
کہاں تھے ملیر کے ادیب، دانش ور؟
کہاں تھے ملیر کے صحافی جن کی ناک کے نیچے اتنا بڑا کام ہو رہا تھا اور وہ خاموش تھے؟
کہاں تھی ملیر کی سول سوسائٹی؟
کہاں تھے ملیر کے سردار، وڈیرے اور پرانے رہائشی؟
کہاں تھے وہ ایم این اے، وہ ایم پی اے، وہ ناظمین، وہ کونسلرز؟
جناب ملیر کے دانش ورو، صحافیو، قلم کاروں، با خبروں، سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والو، شاعرو، سول سوسائٹی کے نمائندوں اب تو بحریہ ٹاؤن بن چکا۔ یہ بحریہ ٹاؤن نہیں، اسرائیل ہے۔ یہ اسرائیل بھی نہیں بیت المقدس پر بنی وہ دیوار ہے جو اسرائیل تعمیر کر رہا ہے۔ اب کیا ہوگا؟!

اے ملیر کے دانشورو، اب پانی بڑھ چکا ہے۔ اب کوئی بچنے کی سبیل نہیں، اب اس میں ڈوب مرو!
اے ملیر کے صحافیو اب پانی بڑھ چکا ہے، رپورٹنگ کا کوئی فائدہ نہیں، تم جس اخبار کے نمائندے ہو اس اخبار کا مالک تو ملک ریاض کی جوتیاں سیدھی کر رہا ہے۔
اے ملیر کے شاعرو، اب محبت کے گیت نہیں لکھو۔ اب نوحے لکھو۔ اب مرثیے لکھو!
اے ملیر کے سیاست دانو! تمہیں بحریہ ٹاؤن سے کیا لینا دینا۔ تمہارے تو گھر ہی عالیشان ہیں، اور بحریہ میں بھی تمہارے اور تمہارے بچوں کے مکان بن رہے ہیں۔ تمہیں بس ووٹ سے کام ہونا چاہیے!
اے ملیر کے ادیبو! بس وہ کتابیں لکھو جن کا وزن اٹھانے کے لیے میں گدھے لے آؤں!
اے ملیر کے سردارو! جاؤ تم سیاسی پارٹیوں سے ساز باز کرو بحریہ ٹاؤن سے تمہارا کیا!
اے ملیر کے ووٹرو! تم بس ووٹ دے دو!

اور پھر منہ میں گٹکا رکھ کر سستے چھپڑا ہوٹل میں دیپکا پڈیکون کا ادھ کھلا جسم دیکھو… تمہارا شعور یا بحریہ ٹاؤن سے کیا کام؟!

بحریہ ٹاؤن تو بن چکا ہے۔ اب کیا کرو گے، احتجاج ہوگا۔ سستے ڈمی اور یلو پیپر میں خبر اور تصویر لگے گی۔ پھر سب اسے سوشل میڈیا پر شئیر کریں گے۔

انتظار حسین نے بلکل صحیح کہا تھا کہ،
"جب انسان کو اپنے بچپن کے دن زیادہ شدت سے یاد آنے لگیں تو سمجھ جانا چاہیے کہ وہ بوڑھا ہو رہا ہے!”

وہ بھی بوڑھے ہی ہو رہے ہیں جو آج والے احتجاج میں شامل ہیں اور مجرم بھی ہیں…
ملیر باسیوں کے!
ملیر کے !
ملیر کی دھرتی کے!

اور اس ضمیر کے جو ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے، اور کہتا ہے تم مجرم ہو، تم شعور رکھتے تھے۔ پھر بھی بحریہ ٹاؤن بن گیا۔

وہ مجرم آج پریس کلب پر جمع ہوں گے اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کریں گے، یہ احتجاج ملک ریاض کو اتنا بھی پریشان نہیں کرے گا جتنا وہ نقیب اللہ قتل کیس! جتنا وہ الزام کہ راؤ انوار کو ملک سے ملک ریاض نے فرار کروایا ہے جس کی تردید کرنے کو ملک ریاض کو نجی ٹی وی پر آنا پڑا۔ یہ آج کا احتجاج ملک ریاض کو اتنا بھی پریشان نہیں کرے گا…

یہ احتجاج مستقل مزاجی سے نہیں ہوتے۔ یہ تو کبھی کبھی ہوتے ہیں جیسے، "گیٹ ٹو گیدر!”

اس لیے یہ احتجاج پُراثر بھی نہیں۔ یہ احتجاج دن کے آخری لمحوں میں شروع ہوتے ہیں، اور شام کے آخری پہروں میں ختم ہو جاتے ہیں۔
اس لیے بے اثر ہیں۔

اگر ان بوڑھے مجرموں نے کبھی قدیم شاعر امارو کے یہ الفاظ سنے ہوتے کہ،

اے دن! کبھی تو تم کتنے پیارے ہو جاتے ہو
اے رات! تم کتنی اداس ہو جاتی ہو،
اے رات! کبھی تو تم کتنی میٹھی ہو جاتی ہو!
اے دن! تم کتنے درد سے بھر جاتے ہو جب اگر اسے نہیں آنا
تو تم دونوں ہمیشہ ہمیشہ گُم کیوں نہیں ہو جاتے!!

تو وہ ملیر سے اور چاچا فیض گبول سے ضرور معافی مانگتے اور اس بات کا بھی اعلان کرتے کہ،
"اب بہت دیر ہو چکی ہے! سب مایا ہے، اور سب مایا میں بہہ گئے ہیں!”

Facebook Comments
(Visited 12 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com