مرکزی صفحہ / حال حوال / لیاری پر ریسرچ کرنے والی امریکن نژاد ڈاکٹر ندا کرمانی سے مکالمہ

لیاری پر ریسرچ کرنے والی امریکن نژاد ڈاکٹر ندا کرمانی سے مکالمہ

مکالمہ: شبیر رخشانی

ایک وقت تھا کہ لیاری میں حالات بہت خراب تھے۔ خوف کے بادل منڈلا رہے تھے۔ علم و ادب پر قہر چھا جانے لگا تھا۔ سیاسی سرگرمیاں معدوم ہو کر رہ گئی تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم اپنی سیاسی رسی کشی علاقائی اور لسانی بنیادوں پر کراچی میں لڑ رہے تھے۔ اس جنگ کو ہوا دے رہے تھے۔ لیاری کو خواہ مخوہ اس جنگ سے متاثر ہونا ہی تھا۔ لیاری میں کلاشنکوف کلچر کو فروغ دینے کے لیے گینگ وار کا سہارا لیا گیا۔ حالات ایسے پیدا کیے گئے کہ لیاری کو کراچی کا خطرناک ترین بلکہ نوگو ایریا قرار دیا جانے لگے۔ لوگوں کے دلوں میں خوف کی وہ دھاک بٹھا دی گئی کہ آج بھی غیر لیارین، لیاری جاتے ہوئے خوف محسوس کرتا ہے۔

لیاری میں یہ کھیل کیوں کھیلا گیا؟ اس سیاسی کھیل میں اہلِ لیاری اور لیاری کیوں کام آئے؟ ایسے سوال کا جواب تاحال تلاش نہیں کیا گیا یا اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جسے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ جنگ اپنے ساتھ تباہی لاتی ہے، جس کا خمیازہ اہل لیاری کو بھگتنا پڑا۔ سیاسی، سماجی، ثقافتی طور پر اور ہر لحاظ سے لیاری کو نقصان پہنچا۔ گینگ وار کی شکل میں ایک زہریلا مواد لیاری کے گلی گلی کوچے میں پھیلا دیا گیا۔

لیاری معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار پہلے سے ہی تھا۔ نوجوانوں کو مجبورا اس زہریلے مواد کو اپنے گلے کا ہار بنانا پڑا۔ لیاری میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ نوجوان اس جنگ میں‌ کام آئے۔ یہ منظر نامہ باقاعدہ ٹی وی اسکرینوں پہ براہِ راست دکھایا جانے لگا۔ لیاری کی وہ شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی جو لیاری کا خاصا ہوا کرتی تھی۔ اب وہ لیاری مین اسٹریم میڈیا پر گینگ وار کے نام سے مشہور کرنے کی سازش رچائی گئی۔ نہ جانے ریاست کو کب خیال آیا اور گینگ وار کے ساتھ ریاستی اداروں کی کیا اَن بن ہوئی کہ گینگ وار کا سرغنہ سیکورٹی اداروں کے ہتھے چڑھ گیا۔

اب حالات نے کروٹ بدلی ہے۔ لیکن جو حالات و واقعات بنے انہوں نے لیاری کو شدید متاثر کیا۔ جو جنگ لیاری میں‌ لڑی گئی اس نے لیاری کو سیاسی، ادبی، سماجی اور ثقافتی طور پر تنہا کر دیا۔ لیاری اب ایک جنگ لڑ رہا ہے؛ اپنی بقا کی جنگ۔ لیاری والے اس جنگ کو کس قدر جیتنے میں کامیاب ہو پائیں گے، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

جنگ زدہ لیاری کی وہ کثیر آبادی جو لیاری کو ہنستا اور مسکراتا دیکھنا چاہتی تھی، خوف کے ماحول میں بھی وہ جینے کا سبب بنی۔ انہوں نے لیاری کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان میں ایک ڈاکٹر ندا کرمانی ہیں۔

ڈاکٹر ندا کرمانی اس وقت لیاری کی معیشت پر ریسرچ ورک کر رہی ہیں۔ انہوں نے لیاری پر ریسرچ ورک کا انتخاب اپنے ایک فرنچ دوست لوران گے کےکام سے متاثر ہو کر شروع کیا۔ جن کی کتاب کا ایک چیپٹر لیاری پہ تھا۔ ڈاکٹر ندا کرمانی کہتی ہیں؛ "جب انہوں بغدادی لیاری میں منعقد ہونی والی گروپ ڈسکشن میں‌ شامل ہونے کی دعوت دی تو میں ان کے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوئی۔ میں پہلی مرتبہ لیاری گئی تو لیاری کا ماحول مجھے بھا گیا۔ لیاری میں مختلف رنگ، زبان اور ثقافت دیکھ کر مجھے ریسرچ کا خیال آیا۔ سن 2012 کو میں نے لیاری کی معیشت پہ اپنی ریسرچ کا آغاز کیا۔”

ڈاکٹر نداکرمانی کی جائے پیدائش امریکہ ہے۔ جب ان کے والدین امریکہ سے پاکستان آئے تو انہوں نے لمز یونیورسٹی لاہور میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر سوشیالوجی کام کرنا شروع کیا۔ یہیں سے انہوں نے اپنے ریسرچ ورک کے لیے لیاری کا انتخاب کیا۔ اس سے قبل ان کی ریسرچ ’’ مسلم ویمن ان انڈیا‘‘ تھی جس پر انہوں نے انڈیا میں رہ کر کام کیا تھا۔

ڈاکٹر ندا کرمانی کو بچپن سے انسانی حقوق سے متعلق دلچسپی رہی ہے۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ وہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقے اور غریبوں کے لیے کام کریں۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں ان کے اسکول اور یونیورسٹی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا صدر منتخب کیا گیا۔

انہوں نے جب لیاری پر کام کرنا شروع کیا تو وہ جلدی اس ماحول میں گھل مل گئیں۔ ان کا کہنا ہے، "حالانکہ ان کے گھر والے ڈیفنس میں رہتے ہیں۔ لیکن انہیں زندگی کے رنگ لیاری میں ہی نظر آئے۔ یہی وجہ ہے انہوں نے ریسرچ کے لیے لیاری کا انتخاب کیا”۔

وہ کہتی ہیں کہ شروع شروع میں جب انہوں نے لیاری میں کام کرنا شروع کیا تو انہیں سننے میں آیا کہ کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ باہر نہیں نکل نہیں سکتے، کام نہیں کر سکتے۔ انہیں ڈر ہے کہ انہیں کوئی مار دے گا۔ تب انہوں نے لیاری کے ڈر اور خوف کے ماحول پر ایک مضمون لکھی۔ انہوں نے مضمون میں اہلِ لیاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ لڑکے کس طرح دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں۔ دو سالوں کے دوران ان کی جابز، پڑھائی اور سوشل لائف کس قدر متاثر ہوئے۔ انہوں نے لیاری کی عورتوں کے حالاتِ زندگی پر لکھا کہ وہ حالات کا مقابلہ کر کے کمانے کے لیے کس طرح گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔

"میں نے صرف لیاری کا نام سنا تھا۔ لیکن کبھی دیکھا نہیں تھا۔ لیاری کے جو حالات تھے اور میں نے جو محسوس کیا تو میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے یہیں کام کرنا ہے”۔

وہ ہفتے میں چار دن لیاری میں واقع عبداللہ ہارون کالج کے ساتھ منسلک ایک ٹیکنیکل ادارے میں ریسرچ کے ساتھ ساتھ اس ادارے کے لیے اپنی علمی خدمات بھی مفت فراہم کرتی ہیں۔ سندھ ٹیک کے نام سے یہ ادارہ لیاری کے ایک سماجی کارکن عبدالطیف چلا رہے ہیں۔

عبدالطیف کا کہنا ہے، "سینٹر کی یہ بلڈنگ پہلے گینگ وار کے قبضے میں تھی، جب رینجرز نے اس بلڈنگ کو گینگ وار سے خالی کرایا تو ہمیں خیال آیا کیوں نہ یہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا کام شروع کیا جائے تاکہ ان کے معاشی حالات میں‌ بہتری آئے تو ہم نے مختلف اداروں سے رابطہ کر کے اپنے کام کا آغاز کیا۔ ایک مشکل دور آیا جب ہم سوچنے لگے تھے کہ ادارے کو چلانا ہمارے بس کی بات نہیں تو ڈاکٹر نداکرمانی ہی تھیں جنہوں نے ادارے کو دوبارہ بحال کرنے میں مالی مدد کی اور ادارے کو چلانے کے لیے انتظامی معاملات میں ہمیں سپورٹ کیا”۔

اس وقت اس ادارے میں صبح و شام کلاسیں لگ رہی ہیں۔ ادارے کے اندر ڈھائی سو زائد طالبات مختلف شعبوں میں ہنرمندی کا کام سیکھ رہی ہیں اور بے شمار طالبات اس ادارے سے فارغ ہو کر اب اپنا ادارہ چلا رہی ہیں۔

ڈاکٹر ندا کرمانی کہتی ہیں کہ لیاری کے حالات کو خراب کرنے میں گو کہ سیاسی پارٹیوں، اسٹیٹ اور نان اسٹیٹ ایکٹر کا ہاتھ تھا۔ لیکن جو اہم وجہ بنی وہ لیاری کا معاشی طور پر عدم استحکام تھا۔ جس کا سامنا نوجوان کر رہے تھے۔ معاشی مسائل نے ان کے اندر فرسٹریشن کو جنم دیا۔ نوجوانوں کی اس فرسٹریشن کا فائدہ ان عناصر کو ہوا جو لیاری میں یہی حالات پیدا کرنے کے خواہاں تھے۔

وہ جاننا چاہ رہی ہیں کہ کراچی کی معیشت میں لیاری اس وقت کہاں کھڑا ہے۔ کراچی کے اکنامک میں لیاری کے نوجوان کس طرح فٹ ہو رہے ہیں۔ وہ کیسے جدوجہد کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار مل رہے ہیں کہ نہیں۔ لیاری کے حالات کے بنیادی وجوہات کیا ہیں، وہ یہ سب جاننے کی کوشش کر رہی ہوں۔

وہ کہتی ہیں کہ غربت کا تو ہمیشہ ہی لیاری سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ پچھلے زمانے میں لوگوں کو کسی حد تک secure جاب ملتی تھیں، ان کو مراعات ملتی تھیں، صحیح تنخواہیں ملتی تھیں۔ اب وہ سلسلہ نہیں رہا ۔ بڑے اداروں میں اب وہی لوگ جاب لے سکتے ہیں جو ہائی کلاس میں ہیں، وہ زیادہ پیسے کما رہے ہیں۔”

ان کا کہنا ہے کہ لیاری کی تعمیر و ترقی میں عورتیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں؛ "اب میں دیکھتی ہوں کہ عورتیں آگے آ رہی ہیں، کام کر رہی ہیں، جدوجہد کر رہی ہیں، جس کا ثمر لیاری کو ضرور ملے گا”۔

لیکن وہ لیاری کے حوالے سے فکر مند اور خدشات بھی رکھتی ہیں کہ موجودہ امن وقتی ثابت نہ ہو۔ وہ کہتی ہیں، "جب تک ہم ان معاملات کو نہیں دیکھیں گے جس کی بنیاد پر یہ مسائل اٹھ کھڑے ہوئے، جن میں لیاری کی معیشت اور سیاست کو بنیادی فوقیت حاصل ہے۔ اگر اس جانب توجہ نہیں دی گئی تو لیاری کے حالات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی معاششی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات اٹھائے۔”

ڈاکٹر نداکرمانی کا کہنا ہے کہ لیاری کے ساتھ جو تعلق بنا ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیاری کی معیشت پر وہ جو ریسرچ ورک کر رہی ہیں اسے تکمیل تک پہنچانے میں مزید وقت لکھے گا، جب یہ مکمل ہو گا تو اسے وہ ایک کتابی شکل دیں گی۔

Facebook Comments
(Visited 102 times, 1 visits today)

متعلق شبیر ساجدی