مرکزی صفحہ / خصوصی حال / سُروں کا تان سین، جگجیت سنگھ

سُروں کا تان سین، جگجیت سنگھ

جاویدحیات

موسیقی بیمار کے ہاتھ میں لگے ڈرپ کی طرح قطرہ قطرہ رگوں میں دوڑتی ہے۔ اُس جسم میں روح مر جاتی ہے جہاں ہارمونیم، ستار اور سارنگی کے سُر نہ بجتے ہوں۔ سنگیت کی کوئی زبان نہیں ہوتی پر ہر زبان پر دودھ کی طرح رچتی ہے۔ جس طرح پانی میں رنگ آسانی سے حل ہو جاتے ہیں، موسیقی لفظوں کو ایسے ہی شُدھ بناتی ہے۔

دریچے کُھل جاتے ہیں جب دُور کسی مکان کے دیوار پر چراغ کی روشنی میں کوئی اجنبی پرچھائی منڈلاتی ہے۔ غزل کی اُس محفل سے بچھڑے برسوں بیت گئے پر ایسا لگتا ہے کہ ہم اُس آستانے پر صرف آج ہی دِیا جلانا بھول گئے۔ میرے بارہ فٹ کے کمرے میں چراغاں ہوگیا کیونکہ آج غزل کے بادشاہ جگجیت سنگھ کی 77 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

ہندوستان کی مٹی کی خوشبو میں غزل کی روشنی دلی میں موجود حضرت نظام الدین اولیا کے مزار پر بیٹھے صوفی شاگرد امیر خُسرو کی دین ہے۔ اِس دھرتی پر تیرھویں اور چودھویں صدی میں سب سے پہلے اُسی نے آدھی فارسی اور آدھی ہندی زبان میں پہلی غزل کہی تھی۔

غزل ایک سیدھی سادھی لڑکی تھی، جگجیت سنگھ کی آواز نے اُسے دلہن بنا دیا۔ غزل کو ہارمونیم ، طبلہ اور سارنگی کی بندش سے چُھڑا کر گٹار اور وائلن تک لے آئے۔ اُس کی آواز کا رس ہارمونیم سے گٹار اور پھر گٹار سے وائلن پر ایسے اُترتی ہے جیسے پھول پر تتلی منڈلاتی ہے۔

اِس آواز کی مدُھرتا شعلوں پر سے گزرنے والے پرندوں پر بادل جیسا سایہ کرتی ہے۔ وہ گُھنگرو، پازیب، ژانگ اور اکتارے کا بھی استعمال کرتے ہیں جس طرح آر ڈی برمن اپنی موسیقی میں چائے کی پیالی میں چمچ کی کھنک لے کر آتے ہیں۔

جگجیت سنگھ 8 فروری 1941ء کو شری گنگا نگر راجھستان میں پیدا ہوئے۔ اپنی گائیکی کے بارے میں وہ کہتے ہیں، ’’میرے اندر چُھپا یہ ہنر سب سے پہلے میرے والد نے بھانپ لیا، پھر باقاعدہ موسیقی اور کلاسیکل گانے کی مشق شروع ہوئی۔ پہلے اُس نے مجھے سورداس پنڈت جگن لال شرما کے ساتھ بھیجا، ایک سال وہاں میں نے ہارمونیم بجانا سیکھا، تھوڑے بہت راگ سیکھے، پھر وہ ایک ایڈوانس ٹیچر کو پکڑ کر لائے، اُستاد جمال خان صاحب سے دُپّددھمال، ٹُھمری اور خیال سیکھنا شروع کِیا۔ میں ہاسٹل میں رہا لیکن ہاسٹل میں میرا تانپورہ میرے ساتھ رہتا تھا اور میری کوشش یہی رہتی تھی کہ میرا جو روم پارٹنر ہو وہ ایسا ہو جو طبلہ جانتا ہو۔
اسٹوڈنٹ لائف میں میں ہر جگہ جاتا تو لوگ اِس غزل کی فرمائش ضرور کرتے تھے؛ سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ۔‘‘

سنگاپور کے ایک پروگرام میں اپنی مشہور نظم وہ کاغذ کی کشتی گاتے ہوئے اچانک میوزک تھم جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ابھی میں نے جو تان لی وہ اذان کی تھی اِس لیے اُس کے احترام میں میوزک نہیں بجتا۔

جب شام کو ڈوبتے سورج کی کرنیں درختوں کے زرد پتوں پر پڑتی ہیں تو مجھے وہاں گھونسلے میں کسی غزل کے ٹوٹے ہوئے مصرعے کا عکس نظر آتا ہے؛ کہیں دُور جب دن ڈھل جائے، سانجھ کی دلہن بدن چُرائے، چُپکے سے آئے۔

جگجیت سنگھ نے 1961ء میں آل انڈیا ریڈیو پر گانے کمپوز کرنے کا کام شروع کِیا، 1965ء کو وہ والدین کو بتائے بغیر قسمت آزمانے ممبئی آ گئے۔ ابتدا میں اُنہیں ایڈورٹائزنگ میں جنگّز گانے کا موقع ملا، پھر دھیرے دھیرے اُس کے لیے پلے بیک سنگنگ کے لیے دروازے کھلتے چلے گئے۔ جگجیت سنگھ اور چترا کی ملاقات 1976ء میں ہوئی۔

غزل کے یہ بادشاہ سنگر، کمپوزر اور میوزیشن کے دھنی تھے۔ 1970ء اور80ء کی دہائی میں اپنی بیگم چترا سنگھ کے ہم راہ اُن کی غزلیں بے حد مقبول ہوئیں۔ اُن کی فلموں میں بھی گائیکی کو خوب سراہا گیا، فلم ارتھ اور ساتھ ساتھ کی غزلوں نے ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی۔

ہندوستانی میوزک کی تاریخ میں یہ سب سے کامیاب جوڑی ہے جنہوں نے میوزک کی تاریخ میں پہلی بار ملٹی ٹریک ریکارڈنگ کی۔

جگجیت سنگھ نے کئی زبانوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا، جن میں اُردو، ہندی، پنجابی، بنگالی، گجراتی، سندھی اور نیپالی زبانیں شامل ہیں۔ اُس نے فلمی گیتوں کے ساتھ بجن بھی گائے مگر اُسے غزل، کلاسیکل اور فوک پر ملکہ حاصل تھا۔

وہ چار بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ اُن کے والد کا نام امر سنگھ دیمن اور والدہ کا نام بچن کور ہے۔ شری گنگا نگر میں کلسہ ہائی اسکول میں اُس نے اپنی تعلیم کی بنیاد رکھی، پھر اسکول کے بعد گنگا نگر کالج میں داخلہ لیا۔ اِس کے بعد وہ گریجویشن کے لیے آگے دیو کالج جالندھر چلا گیا۔

اُس نے کروکشیتر یونیورسٹی ہریانہ سے پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم حاصل کی۔ اُسے بچپن سے گانے کا شوق تھا۔ اُس نے پہلی بار اپنی آواز کی خوشبو ایک گجراتی فلم میں بکھیری۔ جگجیت غزل گائیکی میں اُس وقت آئے جب ملکہ ترنم نورجہاں، ملکہ پکھراج، بیگم اختر، طلعت محمود اور شہنشاہِ غزل مہدی حسن کا عروج تھا۔ نئے گانے والوں نے غزل گائیکی میں نت نئے تجربات کیے لیکن اُس مقام کو حاصل نہیں کر پائے جو جگجیت کے حصے میں آیا ہے۔

اُس کی آواز میں برف کی ٹھنڈک بھی ہے اور شعلوں کی گرمی بھی، وہ دریاؤں میں موتی چُننے کا ہنر بھی جانتا ہے اور صحراؤں میں سائے تلاش کرنا بھی۔ وہ سایہ ہم سے بچھڑ گیا مگر وہ آج بھی بادل بن کر اُجڑے دیار میں نغمگی بکھیرتا ہے۔
چٹھی نہ کوئی سندیس، جانے وہ کون سا دیس، جہاں تم چلے گئے!!

جگجیت سنگھ اپنی مدھر آواز میں ایک عام آدمی کی زبان بولتا ہے۔ اُس کی غزلوں اور نظموں میں غضب کی تاثیر موجود ہے، اُس کی آواز سُن کر وہ بچہ بھی جھومتا ہے جو ابھی تک بولنا نہیں جانتا۔ اُس آواز کو سُن کرچاندنی راتوں میں گھر کی چھت پر پازیب چن چن بجتی ہے۔

ہم تو ہیں پر دیس میں دیس میں نکلا ہو گا چاند

مرزا اسداللہ خاں غالب کی زندگی پر مبنی ڈرامے کی تکمیل میں اِس تکون کا اہم رول رہا ہے، جن میں بَلی مارو کی گلیوں میں خاک چھاننے والا رائیٹر اور ہدایتکار گلزار، غالب کے کردار میں روح پُھونکنے والے اداکار نصیرالدین شاہ اور اُس کردار کو سخن بخشنے والا تان سین جگجیت سنگھ کا ہاتھ شامل ہے۔ یوں تو غالب کا کلام بہت ساروں نے گایا، لیکن دیوانِ غالب سے جگجیت کی مہک ختم نہیں ہوتی۔

دلِ ناداں تجھے ہُوا کیا ہے،
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے،
ہوتا ہے شب وروز تماشا میرے آگے

سُروں کی دیوی لتا منگیشکراُس عظیم گائیک کے بارے میں کہتی ہیں، ’’جگجیت سنگھ کے ساتھ میرا صرف ایک البم ہے (سجدہ) جگجیت سنگھ صرف ایک گائیک نہیں ، لفظ شناس اور ایک بہت بڑے کمپوزر تھے۔ وہ یونہی شاعری دراز میں سے اُٹھا کر نہیں گاتے تھے، اُس میں یہ خوبی تھی وہ جانتے تھے کون سا کلام گانے کے قابل ہے۔ بلکہ وہ شاعری کو سمجھ کر گانے کو نبھاتے تھے۔‘‘

جو بُرا ہے جو بھلا ہے اللہ جانتا ہے،
بندے کے دل میں کیا ہے اللہ جانتا ہے

جگجیت سنگھ نے ہندوستان کے سابقہ وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی جی کے اشعار پر مبنی دوالبم بھی گائے، پہلا البم نئی دِشا جو 1999ء کو اور سمویدنا 2002ء کو ریلیز ہوا۔ 2003ء کو اُسے پدم بھوشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

آج دو بچھڑے پرندوں کی ملاقات کا بھی دن ہے۔ دو سال پہلے آج ہی کے دن نامور شاعر ندا فاضلی دُور دیس کے جزیرے چلے گئے۔ جگجیت سنگھ اور ندا فاضلی نے کئی جگہوں پر اکٹھے کام کِیا، آواز اور اشعار کے اِس ملاپ نے ایسے پنکھ جوڑے کہ اُن غزلوں کی اُڑان دم بھر کے لیے ٹھہرتی نہیں۔

ندا فاضلی کہتے ہیں ، ’’ جگجیت سنگھ زندگی کا انداز ہے اور غزل زندگی طرح لامحدود، اُس میں اپنا درد بھی ہوتا ہے اور زندگی کا درد بھی ہوتا ہے، اِس درد پر جگجیت کی آواز نے مرہم رکھا۔‘‘

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے،
مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

چترا نے اپنے شوہر سے طلاق لے کر جگجیت سنگھ سے شادی کی، اور دونوں کا ایک لاڈلہ بیٹا ویویک پیدا ہُوا۔ لیکن 1990ء کو ایک سڑک حادثے میں اُس کے اُنیس سالہ بیٹے کی موت نے جگجیت کو توڑ کے رکھ دیا۔ اِس کے بعد 2009ء میں چترا کے پہلے شوہر سے اُن کی بیٹی نے خود کشی کر لی، اِ س صدمے سے نکل کر جگجیت تو گاتے رہے لیکن چترا نے گانا چھوڑ دیا۔

اُس نے اپنے جیون میں درد کی دھارا دیکھی۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو کانچ کے پیالے بن کر ٹوٹے۔ سنگیت کی پوری دنیا جیتنے والے جگجیت 10 اکتوبر 2011ء کو 8 بج کر دس منٹ پر لیلاوتی اسپتال ممبئی میں 70 سال کی عمر میں چل بسے۔

لوکل بس کی سیٹ پہ بیٹھے کھڑکی سے باہر بارش میں کاغذ کی کشتی پیتل کے تحفے لے کر دادی کی کہانیوں سے ملنے کنارے کے اُس پار جا رہی تھی۔ اُس نے دور سے آتے زندگی کی بیساکیوں کی آواز سُن کر اپنی عینک کے خواب بچا لیے۔

محلے کی سب سے پُرانی نشانی،
وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے نانی،
وہ نانی کی باتوں میں پریوں کا ڈیرہ،
وہ چہرے کی جُھریوں میں صدیوں کا پہرہ،
بھلائے نہیں بھول سکتا ہے کوئی،
وہ چھوٹی سی راتیں وہ لمبی کہانی!!

Facebook Comments
(Visited 31 times, 1 visits today)

متعلق جاوید حیات

جاوید حیات گوادر میں مقیم قلم کار ہیں۔ مقامی اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔ javedhayat42@gmail.com