مرکزی صفحہ / بلاگ / کراچی کے طلبا کا حال

کراچی کے طلبا کا حال

نادل لعل

مجھے کراچی آئے ہوئے قریبا 4 سال ہو رہے ہیں۔ میں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے کراچی شہر کا رخ کیا تھا، لہٰذا میں ہر اس چیز کا ذکر کرنا پسند کروں گا جو ایک طالب علم سے وابستہ ہو۔

شہر کراچی میں جتنے بھی تعلیمی ادارے ہیں، چاہے وہ کوئی اسکول ، کالج، یا یونیورسٹی ہو، ان میں‌ سب سے پہلا مسئلہ جو ایک طالب علم کو درپیش ہے، وہ ہوسٹل کا نہ ہونا ہے۔

کسے معلوم کہ ایک طالب علم کہاں سے اور کیسے اپنے تعلیمی ادارے تک صحیح و سلامت پہنچ پاتا ہے۔

دوسری جانب شہرِ کراچی کی وہ لوکل بسیں جن سے لٹکے ہوئے عوام اپنی منزل کی طرف رخ‌ کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی دفتر، تو کوئی مارکیٹ۔ اس کے ساتھ اسی ہجوم میں ایک لڑکا یا لڑکی ہاتھوں میں بیگ لیے خوابیدہ آنکھیں کھولنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

نگاہِ غیر اس کی طرف دیکھ کر یہی اندازہ لگا سکتی ہے کہ ساری رات سوشل میڈیا پر گزار دی اور اب چلے تعلیم حاصل کرنے۔ خیر جو بھی ہو وہ بیچارہ علم کی طلب لے کر کسی بس اسٹاف پہ کھڑا خوابیدہ آنکھوں سے اِدھر اُدھر جھانک رہا ہوتا ہے۔

میری نظر میں وہ شخص جو کراچی آئے اور لوکل بسوں میں سفر کیے بغیر واپس چلا جائے، گویا اس نے کراچی دیکھا ہی نہیں۔

جو منظر جو شہر کراچی کی لوکل بسوں میں دیکھنے کو ملتا ہے، وہ کہیں اور نہیں ملتا۔ طبعیت سے دھکے کھانا، بات بات پہ چلانا اور ایک دوسرے سے برتاؤ ایسا کہ جانور بھی دیکھ کر شرمائیں۔

دوسری جانب اس بس کا کنڈکٹر جس کی نظر میں اس کی بس کبھی بھرتی ہی نہیں۔ وہ پورے شہر کراچی کے عوام کو اسی ایک بس میں بٹھانا چاہتا ہے۔

بس کا کرایہ اتنا ہے کہ پچاس روپے میں پورا کراچی گھوم سکتے ہو لیکن ساتھ میں ذلالت و خواری بھی ایسی کہ گالی بکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اب رہی بات ان طلبا و طالبات کی جو ان بسوں کے سہارے اپنے تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ طلبا و طالبات جو اپنے اداروں سے کافی دور رہائش پذیر ہیں (اس کی وجہ مشکوک بیچلرز ہونا ہے) کبھی لیٹ ہی نہیں ہوتے، کیوں کہ وہ بیچارے ساڑھے پانچ بجے روئے رلائے اٹھ کر اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

خوب دھکے اور گالیاں کھا کر سب سے پہلے وہ اپنے اپنے اداروں تک پہنچ جاتے ہیں۔

کہا جاتا جاتا ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ اب جب طلبا و طالبات کو اگر وقت پر پہنچنا ہے تو دھکے اور گالیاں کھانا فرض بن جاتا ہے۔ ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ آخری بار انھوں نے پچھلی عید پہ ہی نہایا ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ کتابوں کی جگہ بیگ میں فیس واش اور اگر اس کی گنجائش نہ رہے تو مشہور ساتھی لکس صابن بیگ میں ہو گا۔

ادارے میں پہنچتے ہی سب سے پہلا سفر واش روم کا ہوتا ہے جہاں بیچارے اپنے چہرے کو رگڑ رگڑ کر مسخ کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ان بیچاروں کے بھی کچھ احساسات ہوتے ہیں، خواہشات و چاہتیں ہوتی ہیں۔

ان تمام حرکات و سکنات کے باوجود جب وہ اپنے اداروں میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے لبوں پر ایک ایسی خوشی چھا جاتی ہے جیسے ان کو جنت مل گئی۔ لیکن بدقسمتی سے واپسی پر بھی اسی کہانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار بس میں سفر کر رہا تھا تو میں سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے سامنے اک بوڑھا کھڑا تکتی آنکھوں سے انتظار میں تھا کہ کب اور کس اسٹاپ پر کوئی اتر جائے اور میں سیٹ پر بیٹھ سکوں۔۔۔۔

مجھ سے یہ برداشت نہ ہو سکا۔ میں فورا اٹھ گیا اور اس بوڑھے کو بیٹھنے کا کہا۔ لیکن میرا ایک دوست میرے ساتھ تھا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر خوب میری دھلائی کی اور کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ سیٹ سے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور اس بوڑھے کو بٹھا دیا؟ یہ کراچی شہر ہے، یہاں کوئی کسی کا نہیں ہوتا، بھاڑ میں جائے عزت و اخلاق، یہاں یہ بے ہودہ عزت اپنے پاس رکھو۔ کچھ بھی ہو جائے، اپنی آنکھیں بند کر لو اور اپنا سوچو، تمہارا کیا ہوگا؟ اب کھڑے رہو جب تک پہنچ نہ جائیں۔

میرے پاس الفاظ نہیں تھے کہ اس کو کیا جواب دوں؟!

کیا میں نے کراچی شہر کا رخ اس لیے کیا ہے کہ میں اپنے عزت و اخلاق پر پانی پھیر دوں؟ اتنا بے حس بن جاؤں کہ مجھ میں اور پتھر میں کوئی کچھ فرق نہ کر سکے؟ اگر ایسا ہے تو یہ شہر شہر نہیں قبرستان ہے۔۔۔ ہاں قبرستان۔۔۔

میرے عزیز طلبا و طالبات جو تعلیم کے نام پر ان مسائل کا سامنا کر رہے ہیں مجھے بھی دکھ ہے اور میں بھی اس سفر میں آپ کا ہمسفر ہوں۔ ہم گلہ تو کر نہیں سکتے، کیوں کہ گلہ ان سے کیا جاتا ہے جس سے کوئی امید اور توقع ہو۔

ہمارے پاس ان مسائل کا حل اس وقت تک نہیں جب تک سننے والا ہم میں سے کوئی نہ ہو، جو ان حالات کا سامنا کر کے اس اسٹیج پر پہنچ جائے۔

خدارا، اپنے آپ کو اتنا بے حس مت بناؤ کہ آپ کو دیکھ کر کوئی جینے کی امید چھوڑ دے۔

زندگی بہت پیاری ہے اور مہنگی بھی۔۔۔ اگر آپ کی وجہ سے کوئی زندگی کے حسین لمحوں کو ترک کر دے تو آپ بھی ملزم ہیں۔

آپ کے ان مسائل میں، میں بھی شریک ہوں۔

Facebook Comments
(Visited 18 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔