مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / یہ انصاف کے ساتھ زنا ہے!

یہ انصاف کے ساتھ زنا ہے!

محمد خان داؤد

پہلے آیئے مشال خان کے لیے گرو دیو ٹیگور کی یہ دعا پڑھیں جو گرو دیو ٹیگور نے ہر اس انسان کے لیے لکھی ہے، جو بے موت مارا جائے۔ اس کا جسم تو دفن ہو جائے پر پیچھے اس کی ماں اسے دیوانوں کے جیسے تلاش کرتی پھرے۔ مشال بھی قتل ہوا۔ اس کا جسم بھی دفن ہوا۔ اس کی ماں اسے دیوانوں کی طرح آج بھی تلاش کرتی ہے، اسے آوازیں دیتی ہے اور بہت روتی ہے۔

گرو دیو ٹیگور نے لکھا کہ،

جب وہ مارے جائیں
جن کے مرنے کا موسم نہ ہو
جو بے موت مارے جائیں
اے خدا جب وہ تمہارے پاس آئیں
پر تمہارے پاس آنے سے پہلے
وہ خوشبوؤں میں نہائے جائیں
آسماں پر ان کے لیے تتلیاں اُڑیں
آکاش رنگوں سے بھر جائے
جب ان کی لاشیں اُٹھائی جائیں
یا ان کی ارتی جلائی جائے
ان ماؤں کو صبر دینا خدا، جو بس مائیں ہیں
جو کچھ نہیں جانتیں!!

پر کیا مشال کی ماں کو صبر ہے؟! جس کا بیٹا ولی خان یونیورسٹی گیا، پھر لوٹ کر نہیں آیا پر اس کا جلا ہوا وجود آیا، جس پر کپڑے نہیں تھے۔ جس کے کپڑے ہجوم نے جلا ڈالے تھے۔ بس کپڑے ہی کیا پر اس کا وجود بھی ایسا تھا۔ جیسے لوگ بار بی کیو کا شوق کرتے ہیں، اسے گھسیٹا گیا۔ اس کے نفیس جسم پر ڈنڈے برسائے گئے، اسے پتھر مارے گئے۔ پر گولی تو بہت بعد میں ماری گئی۔ وہ گولی سے نہیں مرا تھا۔گولی تو اسے تب ماری گئی تھی جب اس کا جسم، جسمِ منصور کی طرح سب اذیت سہہ چکا تھا۔

اسے تو اس ہاسٹل کے کمرے سے گھسیٹا گیا تھا۔ اسے بالوں سے پکڑ کر بہت تشدد کیا گیا تھا۔ اس کے پاس تو بس ایک جسم تھا۔ جس جسم کا کچھ وزن تھا، کچھ قد کاٹھ تھا اور اس جسم پر کپڑے ڈھکے ہوئے تھے۔ پر وہ تو ہجوم تھا۔ اس ہجوم کے کئی ہاتھ تھے۔ ان ہاتھوں میں تشدد کا سامان تھا۔ وہ ہجوم اسے اس ہاسٹل سے مارنا شروع کرتا ہے۔ جب تک وہ میدان نہیں آ جاتا۔ جس میدان میں اس کے سر پر بہت بڑا ڈنڈا مارا جاتا ہے۔ جس ڈنڈے کے لگنے سے اس کے مردہ جسم میں ایک ہلکی سی لہر پیدا ہوتی ہے۔ پھر وہ جسم ہمیشہ کے لیے ان لہروں سے ماورا ہو جاتا ہے۔ پھر اسے جلایا جاتا ہے۔

پر جب ہجوم اسے، اس کے کمرے سے گھسیٹ رہا تھا تو ایک مشال ہی کیا پر پورا کمرہ ہی ماتمی گیت بن گیا تھا اور اس کمرے کے در و دیوار یہ التجا کر رہے تھے کہ،

اے شبِ ہجوم ان سے کہدو
جون! اس جہاں کا نہیں ہے!

پر جون کی یہ صدا کون سنتا تھا۔ سب بہرے ہو چکے تھے۔ وہ لوگ بھی جو مشال کو جانتے تھے اور وہ لوگ بھی جو اس کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ بس آٹھ، دس افراد ہی کیا اور ایک گولی ہے کیا۔ اسے تو سب نے مل کے قتل کیا ہے۔ یونیورسٹی کے استادوں نے، یونیورسٹی کے شاگردوں نے، یونیورسٹی کے ملازموں نے اور اس در و دیوار نے جس کو ولی خان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اور کیا وہ ایک گولی سے قتل ہوا ہے؟!! کیا وہ تصاویر، وہ وائرل ہوتی وڈیوز، وہ ہجوم وہ بہت سے لوگ، وہ بہت سے تماشبین۔ وہ اُن کاشور، وہ اُن کا مشال کی طرف بڑھنا، وہ اسے گھسیٹنا اور پھر اسے جلا دینا، کچھ نہ تھا؟!!

تو پھر وہ گولی سے کیسے قتل ہوا۔ وہ تو رویے سے قتل ہوا ہے۔ جو رویہ اس ہجوم ان استادوں، ان ملازموں اور ان در و دیواروں نے اس کے ساتھ روا رکھا ہوا تھا۔ جس کے خلاف وہ بات کرتا تھا، لکھتا تھا۔ سوشل میڈیا سے لے کر روایتی میڈیا پر آتا تھا۔ اور وہ سب کچھ کہہ جاتا تھا جو اس ہجوم کو گراں گزرتا تھا۔ اسے ایک گولی نے قتل نہیں کیا۔ اسے ان چند لوگوں نے قتل نہیں کیا، جن لوگوں کو کورٹ نے سزا سنائی جس میں سے ایک کو سزائے موت اور باقی کو عمر قید کی سزا آئی ہے اور آدھے سے زیادہ رہا کر دیے گئے ہیں۔

پر مشال پوچھتا ہے، اس ہجوم کا پتہ جو چند لوگوں پر مشتمل نہیں تھا۔ جو ایک دو لوگ نہیں تھے، وہ اتنے تھے کہ انہیں تو با آسانی گنا بھی نہیں جا سکتا۔ تو پھر کورٹ انہیں کیسے گن سکتی ہے؟ اور انہیں کیسے سزا دے سکتی ہے؟ یہی بات وہ لالا اقبال پوچھتا ہے جو دل سے شاعر ہے اور ابھی تک مشال کا نوحہ لکھ رہا ہے۔ یہ بات پوچھتی ہے وہ ماں جسے مشال کے بعد قرار نہیں۔ یہی بات پوچھتی ہیں وہ بہنیں جو اپنے گھر میں اس تصویر پر روز پھول چڑھاتی ہیں جس تصویر میں مسکراتا نظر آتا ہے مشال!

مشال کا بابا اقبال اس انصاف کو انصاف مانتا ہی نہیں جس کیس کی جنگ وہ اکیلے لڑا ہے۔ وہ اقبال جو اپنے وکلا اور ان ججوں کو کئی بار کہہ چکا ہے کہ،

قبول کیسے کروں ان کا فیصلہ کہ یہ لوگ
میرے خلاف ہی میرا بیان مانگتے ہیں!

جس کیس کے لیے وہ بہت تکلیف میں رہا ہے۔ ابھی تو اس کیس کے کئی ملزم مفرور ہیں۔ ابھی تو اقبال اپنے بیٹے کے لیے روز نئے مرثیے اور نوحے لکھتا ہے۔ ابھی تو وہ اس بیٹے کے قبر کی مٹی خشک نہیں ہونے دے رہا۔ وہ روز جاتا ہے اس قبر میں موجود مشال کو سلام کرتا ہے۔ اس کے سرہانے بیٹھ کر روتا ہے اور مشال سے معافی مانگتا ہے کہ، "مجھے معاف کردینا تیرا بولنا ہی تیرا جرم ٹھہرا!”

یہ ان لوگوں کے خلاف عدالتی کارروائی کا آخری دن تو ہو سکتا ہے پر اس کیس کا فیصلہ نہیں جس کیس کو دیوانوں کی طرح اکیلے لڑا ہے اقبال خان۔ اقبال خان ابھی لندن میں موجود ہے۔ وہ وہاں پر کسی دعوت کے سلسلے میں گیا ہوا ہے۔ جب اس سے کسی نے پوچھا کہ کیا اب آپ خوش ہیں تو انہوں نے اس فیصلے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوا کہا کہ، "یہ انصاف کے ساتھ ایک ہجوم کا زنا ہے!”

اور نہیں معلوم گرو دیو ٹیگور کی دعا مشال کے حق میں کب منظور ہوگی جن دعاؤں کے طفیل گرو دیو ٹیگور کو ادب کا نوبل انعام ملا تھا۔ پر وہ دعائیں ایک بے چین ماں کو صبر کیوں نہیں دے پا رہیں؟! وہ دعائیں جن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ،

"آسماں تتلیوں سے، خشبوؤں سے بھر جائے، زمیں پر پھول کھل آئیں اور مائیں قرار پائیں!”

پر وہ مائیں قرار کب پائیں گی؟!!

Facebook Comments
(Visited 22 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com