مرکزی صفحہ / بلاگ / تارِ ِعنکبوت

تارِ ِعنکبوت

عینی نیازی

مکڑی کے جالے پر جب ہم بظاہر نظر ڈالیں تو یہ ہمیں لہراتا ہوا بہت ناز ک سا دکھائی دیتا ہے جو ہماری ایک پھونک، ایک انگلی کی ذرا سی لرزش سے ٹوٹ سکتا ہے۔ چودہ سو سال قبل قرآن میں اسے ایک کمز ور گھر سے تعبیر کیا گیا اور اس پر پوری ایک سورۃ عنکبوت کے نام سے اتاری گئی۔ فرمایا ”بے شک سب گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے، کاش یہ لو گ علم رکھتے۔،، بظا ہر اس کی صورت دیکھ کر سب ہی اس صداقت پر یقین رکھتے رہے کہ سب سے بودا گھر وہی ہے۔

مگر ہم سب مسلمانوں کے لیے تو قرآن میں کہی گئی ہر بات حرفِ آخر ہے۔ اس دنیا کو بنانے وا لے میرے رب نے ہر مثال میں کئی معنیٰ، بہت تمثیلیں رکھ چھوڑی ہیں کہ ہے کو ئی جو اسے سمجھے، غور کرے، عبرت لے اور باعمل بن جائے۔ جدید تحقیق کر نے والے سا ئنس دانوں نے اس بظاہر ناتواں نظر آنے والے گھر (مکڑی کے جا لے) کے مکینوں پر بھی ریسرچ کی۔ جس سے معلوم ہوا کہ مادہ مکڑی اولاد ہو نے کے بعد اپنے نر مکڑی کو مار کر گھر سے باہر پھینک دیتی ہے اور یہی سلوک بچے بڑے ہونے کے بعد اپنی ماں ساتھ کرتے ہیں۔ اسے مار کر گھر سے نکال پھینکتے ہیں۔

اف خدایا! اس خاندانی نظام میں کس قدر دل دہلا دینے والی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ مگر ہم نہایت دکھ کے ساتھ اس بات کو ماننے پر مجبور ہیں کہ آج کے زمانے میں ایسی بے حسی و خود غرضی ہماری گھریلو زندگیوں میں در آنے لگی ہے۔ بہترین سماجی نظام کا طر یقہ کار کیا ہونا چاہیے، اسے کیسے درست کیا جائے، یہ ایک سوالیہ نشان ہے جسے بڑے سے بڑے ماہرین بھی حل نہیں کروا پا رہے۔ ایک مختصر سی زندگی میں ہم وہ سب کچھ حاصل کر لینا چاہتے ہیں جو دوسروں کے پاس ہے بلکہ کسی سے چھین کر بھی ہمیں مل جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ زندگی کو آسان و سہل بنانے کی بجائے معیارِ زندگی کے اتنے بڑے بت تراش لیے ہیں کہ ہم اپنے آپ سے بچھڑی ہوئی روح محسوس ہوتے ہیں۔

اس عہد کو ہم گلوبل ولیج یا الیکٹرانک عہد کا نام دیتے ہیں؛ ہر چیز تبدیل ہو رہی ہے، ایک نئی تہذیب ابھر کر سا منے آ رہی ہے۔ جس میں نئے طور طریقے، رہن سہن اور کا م کاج حتیٰ کہ ہمارے آپسی تعلقات اور محبتوں کا معیار بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ نئے دور کے مطابق ڈھلنے والے پُرعزم ہو کر نئے تقاضے اپنا رہے ہیں۔ اپنا اسٹیس اور میعارِ زندگی کو اکیسویں صدی سے ہم آہنگ کر نے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ شہروں کے پھیلاؤ میں وسعت آئی ہے۔ معاشی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے سماجی آزادی اور معیارِ زندگی بھی تبدیل ہوا ہے۔ اب رشتہ دا روں سے دور رہنا سماجی تعلقات کو بڑھاوا دینے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ سب ہی رسم رواج کے بندھن کو توڑ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

نئی نسل کا المیہ یہ ہے کہ تبدیلی کے اس ادوار سے پہلے بھی جو کچھ تھا، اس تہذیب و ثقافت سے اسے نابلد رکھا گیا۔ اس لیے اسے شعور نہیں کہ وہ کیا گنوا کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ وہ بددلی کا شکار ہے مگر تیز رفتاری کے اس دور میں ہم کتنے تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ مربوط اور مشتر کہ خاندانی نظام کی روایات ختم ہوئیں۔ اب ہمارے ہاں ڈے کیئر سینٹر سے لے کر اولڈ ہاؤس کھل گئے ہیں۔ ماں باپ اولاد پر بوجھ بن گئے ہیں جن سے جلد از جلد جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کثیر المنزلہ فلیٹس جن کے چھوٹے چھوٹے کمروں میں ان شجرِ سایہ دار بوڑھے والدین کی گنجائش کہاں رہی۔ اب ہمیں کسی شاپنگ سینٹرز یا تفریحی مقام پر فیملی کے ہمراہ کوئی بزرگ سیٹیزن کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

ہمارے پاس ان کے لیے وقت نہیں۔ روز مرہ زندگی کی مصروفیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہما رے پاس اپنے پڑوسیوں کی خیریت جاننے کا بالکل ٹائم نہیں۔ انسان آگے بڑھ رہا ہے، انسانیت پیچھے ہٹ رہی ہے۔ آسائشیں زندگی میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں۔ ہماری روح تنزلی کا شکار ہو رہی ہے۔ خلیل جبران کا یہ قول اس قدر خوبصورت ہے کہ بد بختی یہ ہے کہ میں اپنا خالی ہاتھ لوگوں کی طرف بڑھاؤں اور کوئی اس میں کچھ نہ رکھے اور مایوسی یہ کہ میں اپنا بھرا ہوا ہاتھ لوگوں کی جانب بڑھاؤں اور کوئی اس میں سے کچھ نہ لے۔

مل جل کر رہنا بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ زندگی کا سکون گھر سے وابستہ ہے۔ مگر ہمارا خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے آس پاس طلاق کی شرح میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ خوشگوار گھریلو زندگی اب ایک خواب بن چکی ہے۔ ٹو ٹتے بکھرتے روشتوں کو جوڑنے کا واحد حل برداشت، حسنِ سلوک اور ایک دوسرے کا احترام ضروری ہے جو اب مفقود نظر آتا ہے۔ ہمارے زوال کی بڑی وجہ انسانی اقدار اور اخلاقی تربیت کی کمی ہے۔

اس دنیا میں ہر انسان مل جل کر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کسی کے لیے تنہا زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں دوستوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں، دوسروں کو جھکانے کی بجائے خود جھک کر ملنے کی کوشش کریں۔ اس دنیا میں محبت سب سے بڑا ہتھیار ہے، ایک دوسرے سے اچھے معاملات رکھیں کہ دلوں کو جیتنے کا یہی طریقہ ہے اور جب دل جیت لیے جائیں تو زندگی سہل ہو جاتی ہے۔

گارشیا مارکیز نے اپنی الوداعی نظم میں چا ہنے والے مداحوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ، ”اگر خدا مجھے زندگی میں نئی مہلت دیتا ہے، تو میں کم سوؤں گا، خواب زیادہ دیکھوں گا، محبت زیادہ کروں گا، خوش زیادہ رہوں گا۔

افسوس کہ آج ہمیں لوہے سیمنٹ سے بنے مکانوں میں نفرت کی لکیر تارِ عَنکبوت جیسی نظر آتی ہے۔ نازک آبگینے جنہیں ذرا سی ٹھیس چکنا چور کر دے۔ رب تعالیٰ کی بھیجی گئی آخری کتاب میں ہمارے لیے کس قدر معنی پنہاں ہیں کہ بظاہر کمزور نظر آنے وا لے مکڑی کے گھر اور اس کے مکینوں کی زندگی کتنی ناتواں ہے، نجانے قرآن میں کہی گئی کتنے ہی مفہوموں کی کھوج ابھی باقی ہے، جسے سمجھنا ہے اور کون ہے جوسمجھ کر نصیحت بھی پکڑے۔

Facebook Comments
(Visited 11 times, 1 visits today)

متعلق عینی نیازی

عینی نیازی
کراچی میں مقیم عینی نیازی بیک وقت استاد، کہانی کار، ڈرامہ نویس اور کالم نگار ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ بالخصوص تحقیقی کالم لکھنا اچھا لگتا ہے۔ مختلف ویب سا ئٹس اور اخبارات میں لکھتی ہیں۔ اس وقت ایکسپریس نیوز میں لکھ رہی ہیں۔ Email:ainee.niazi@gmail.com