مرکزی صفحہ / بیادِ لالہ صدیق بلوچ / ماما صدیق بلوچ نے مجھے نامہ نگار سے کالم نگار بنا دیا

ماما صدیق بلوچ نے مجھے نامہ نگار سے کالم نگار بنا دیا

ببرک کارمل جمالی

ماما صدیق بلوچ آج ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی یادیں باتیں ہم سے دور نہیں ہیں۔ ماما صدیق بلوچ اپنے زمانے کے مشہور فٹ بالر تھے۔ کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ انگریزی نیوز پیپر میں کام کرنے والا یہ فٹ بالر پاکستان کے عظیم صحافیوں، ایڈیٹروں، تجزیہ نگار کی صف میں شامل ہو جائے گا اور عوامی حلقوں میں بہت جلد شہرت حاصل کرے گا۔ بلوچستان کے اکثر رائٹرز صدیق بلوچ کو ماما کہتے تھے جب کہ کچھ لوگ پیار سے انہیں لالا صدیق بلوچ بھی کہتے تھے ۔

ماما صدیق بلوچ ایک عظیم اور بہترین فٹ بالر تھے۔ 1960ء میں کراچی کی معروف ٹیم کر اچی محمڈن کی طرف سے فٹ بال کھیلتے تھے اور گول پہ گول ڈال کے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرواتے تھے۔

ماما جب کھیل سے تھک جاتے تو شام کو ایک مقامی انگریزی اخبار میں کام کرتے تھے تاکہ کسی پہ بوجھ نہ بنیں۔ بقول ماما کے کہ انہیں ملازمت کی بھی کافی مرتبہ پیشکش ہوئی تھی مگر ماما صدیق بلوچ نے معذرت کی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ ماما کی منزل صحافت تھی۔ جب کہ ماما نے کچھ وقت لیے 1970 ء میں سیاست میں بھی قدم رکھا۔ مگر ماما کا مقصد سیاست نہیں، صحافت تھا جس پہ وہ پورے اترے اور اپنا نام روشن کیا۔

ماما سے ایک مرتبہ فون پر پوچھا "ماما سیاست کو کیوں الوداع کہہ دیا تھا؟” ماما نے بتایا کہ نیپ کی سیاست میں، میں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا کیوں کہ نیشنل عوامی پارٹی کا مقصد محکوم و مظلوم عوام کو حقوق دینا تھا۔ 1970 ء کی دہائی میں نیپ کی حکومت بلوچستان میں برسراقتدار آئی تو مجھے اس وقت کے گورنر بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کا پریس سیکرٹری کے عہدے کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ مگر نیب کی حکومت کے خاتمے کے بعد مجھے جیل بھیج دیا گیا اور بہت تشدد بھی کیا گیا، میں خود ان یادوں کو آج بھی بھول نہیں سکتا ہوں۔

ماما نے 1980 کی دہائی میں کراچی سے ڈیلی سندھ ایکسپریس کا اجرا بھی کیا مگر قلیل عرصے میں ہی الوداع کہہ دیا۔ پھر ماما صدیق بلوچ نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا رخ کیا اور روزنامہ بلوچستان ایکسپریس کی اشاعت شروع کر دی۔ وہ کہتا تھا کہ میرے مر جانے پر بھی اخبار بند نہ کرنا، پھر آج وہی ہوا جو ماما کہہ چکے تھے۔

ماما نے دس سال بعد عوامی حلقوں کی سوچ کو مدِنظر رکھتے ہوئے روزنامہ آزادی کی ابتدا کی۔ حتٰی کہ شروع میں اشتہارات بہت کم دیے جاتے تھے پھر بھی ماما صدیق بلوچ نے ہمت نہ ہاری کیونکہ ماما کوئی بڑے سرمایہ دار نہیں تھے بس عوام کے جذبات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اخبارات کو کبھی بھی بند نہ ہونے دیا۔ ہاں ایک وقت ماما نے ضرور اشتہارات کی کمی کی وجہ کاپی کی کم اشاعت کم کرنی شروع کر دی تھی، حتٰی کہ کچھ وقت تو مکمل اشتہارات بند کر دیے گئے، اس وقت حکومت میں شامل ان کے دوست بھی تھے۔ لیکن ماما نے ان دوستوں کو کہنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔

جب کہ میں نے روزنامہ آزادی کے ساتھ 2010 میں ایک نامہ نگار کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا مگر مجھے ماما نے فون پہ کہا کہ ببرک آپ اچھا لکھتے ہو نامہ نگار سے کالم نگاری کی طرف آ جاؤ۔ سو اس روز سے میں نے آزادی میں کالم لکھنا شروع کیا تھا اور آج تک لکھ رہا ہوں۔

یاد رہے کہ اسی سال میرے تقریبا ایک سو بیس کے لگ بھگ کالم صرف روزنامہ آزادی میں چھپ گئے۔ اس روز سے آج تک میں نے مختلف اخبارات میں کالم لکھے ہیں۔

آج ماما ہم میں نہیں ہے مگر ان سے ہونے والی خوب صورت باتیں میرے دل میں موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ ماما کے بیٹوں کو صبر کاملہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔

Facebook Comments
(Visited 36 times, 1 visits today)

متعلق ببرک کارمل

ببرک کارمل
اوستہ محمد کے ایک نواحی گاؤں میں آباد ببرک کارمل نے لکھنے کا آغاز بچوں کی کہانیوں سے کیا۔ اب سماجی مسائل کا احاطہ بھی کر لیتے ہیں۔ علاقائی مسائل و معاملات ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔