مرکزی صفحہ / علمی حال / وائس آف گوادر کے زیراہتمام "گرینڈ تعلیمی جرگہ” کا انعقاد

وائس آف گوادر کے زیراہتمام "گرینڈ تعلیمی جرگہ” کا انعقاد

برکت اللہ بلوچ

"وائس آف گوادر” کی جانب سے گوادر کے تعلیمی مسائل اور ان کا حل کے موضوع پر "گرینڈ تعلیمی جرگہ” کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈسٹرکٹ چیئرمین بابو گلاب، اسسٹنٹ کمشنر گوادر جمیل رند، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عبدالوہاب مجید، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) میڈم بلقیس، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) میڈم ذاکرہ بلوچ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جیونی عبدالرحیم بلوچ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شیردل، این آر ایس پی کے ڈائریکٹر رستم گچکی، سیاسی و سماجی راہنما، اساتذہ کرام، طلبا، علمائے کرام اور سول سوسائٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

وائس آف گوادر کے جانب سے منعقدہ اس گرینڈ جرگہ میں گوادر کے علاوہ تحصیل جیونی، سب تحصیل پشکان اور سربندن سے بھی سیاسی و سماجی شخصیات اور اساتذہ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

گرینڈ تعلیمی جرگہ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت مولانا ریاض بلوچ نے حاصل کی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد وائس آف گوادر کے روح رواں اللہ بخش دشتی نے وائس آف گوادر کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے شرکا کو بریفنگ دی۔

گرینڈ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ وائس آف گوادر کی جانب سے گوادر کے تعلیمی مسائل پر گرینڈ جرگہ کا انعقاد خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تعلیمی مسائل کو کم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا چاہیے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کی بہتری اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب معاشرے میں تعلیمی اداروں اور طلبا کے لیے اپنائیت کا جزبہ پروان پائے۔ مانیٹرنگ سسٹم اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کے فعال کردار کے بغیر بہتر نتائج کا حصول خام خیالی ہے۔ تعلیمی اداروں میں نقل کے رحجان کو ختم کر کے ہی باصلاحیت اور قابل معاشرے کو جنم دیا جاسکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ گوادر میں اساتذہ کی شدید کمی اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے۔ اس وقت درجنوں کی تعداد میں شیلٹرلیس تعلیمی ادارے اور ایک سو سے زیادہ سنگل ٹیچر اسکول موجود ہیں جس کے سبب تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تعلیمی اداروں میں ماضی کے برعکس غیرنصابی سرگرمیاں خصوصا بزم ادب کے پروگرامز نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث طلبا کی صلاحیتوں کو زنگ لگ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی ابتر صورت حال کا سبب سائنس ٹیچرز کی کمی ہے۔ ضلع بھر کے سیکڑوں مڈل اور ہائی اسکولوں میں سائنس ٹیچرز موجود نہیں ہیں اور اسکولز منیجمنٹ بھی اپنا کام درست انداز میں انجام دینے سے قاصر ہے۔ اس وقت ضلع بھر کے اسکولوں میں ہیڈ ماسٹر موجود نہیں اور ایس ایس ٹی ٹیچرز ہیڈ ماسٹر کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔گوادر کی نسبت دیگر اضلاع میں فی ٹیچرز اسٹوڈنٹس کا تناسب 16 ہے جب کہ گوادر میں یہ تناسب 35 اسٹوڈنٹس فی ٹیچر ہے۔

ضلع گوادر میں تعلیمی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ خالی آسامیوں پر فی الفور تقرریاں عمل میں لائی جائے اور ضلع بھر کے اسکولوں کے لیے مزید آسامیاں تخلیق کر کے اساتذہ کی قلت کو ختم کیا جائے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ گرلز کالج میں ایک ہزار سےزائد طالبات زیرتعلیم ہیں لیکن نہ کالج کی اپ گریڈیشن کی جاتی ہے نہ ہی لیکچرارز کی کمی پر توجہ دی جاتی ہے۔ مزید ستم یہ ہے کہ کئی سالوں سے تعینات عارضی طور پر تعینات استانیوں کو مستقل نہیں کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں سائنس ٹیچرز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گوادر کے باصلاحیت نوجوان خود اس شعبے میں آگے آئیں اور مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہو جائیں۔

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن، مردم شماری اور دیگر سرگرمیوں میں اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جس کے باعث تعلیمی سرگرمیوں پر اثر پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کے معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے اجتناب برتا جائے۔

گرینڈ تعلیمی جرگہ میں شرکا کی جانب سے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ضلع بھر کے 120 سنگل ٹیچرز اسکولوں میں کم از کم دو اساتذہ کی تعیناتی یقینی بنائی جائے۔

ضلع بھر کے پرائمری اور مڈل اسکولوں کی اپ گریڈیشن کی جائے۔

ضلع بھر کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کر کے مزید آسامیاں پیدا کی جائیں۔

نقل کی روک تھام کے لیے پرائیویٹ اسکولوں کے لیے الگ امتحانی ہال بنایا جائے۔

موجودہ تعلیمی سال کسی بھی طرح طلبا کے مفاد میں نہیں ہے، اسے تبدیل کر کے گزشتہ تعلیمی سال کو بحال کیا جائے۔

ضلع بھر میں تعلیمی اداروں کے لیے مختص زمینوں پر قبضہ ختم کرایا جائے۔

گورنمنٹ گرلز انٹر کالج کو فی الفور ڈگری کا درجہ دیا جائے۔

نیوٹائون سمیت دیگر ہاؤسنگ اسکیموں میں تعلیمی اداروں کے لیے زمین مختص کی جائے۔

تعلیمی اداروں میں مانیٹرنگ کا مؤثر نظام رائج کیا جائے۔

نقل کی روک تھام کے ساتھ تعلیمی اداروں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح 2015 میں این ٹی ایس پاس کرنے والے ضلع گوادر کے امیدواروں کو بھی تعلیمی اداروں میں تعینات کیا جائے۔

تعلیمی اداروں کے بسوں کے لیے ڈرائیور اور فیول کا انتظام یقینی بنایا جائے۔

شیلٹر لیس اسکولوں کے مسائل حل کرنے کے لیے مخیر حضرات ، این جی اوز اور کاروباری حضرات سے مدد لی جائے۔

ڈگری کالج گوادر میں لائبریرین کی خالی آسامی پر فوری طور پر تعیناتی عمل میں لائی جائے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کو فعال بنایا جائے۔

ضلع بھر کے اساتذہ کرام کے لیے تربیت کا اہتمام کیا جائے۔

اے جی آفس اورصوبائی امتحانی بورڈ آفس کی برانچز ڈویژن کی سطح پر قائم کی جائیں۔

گوادر کے تعلیمی اداروں میں فزیکل ایجوکیشن کو فروغ دیا جائے۔

وزیراعظم کی جانب سے گوادر کے لیے اعلان کردہ ایک ارب روپے تعلیم کے فروغ اور ترقی پر خرچ کیے جائیں۔

گرینڈ تعلیمی جرگہ کے آخر میں وائس آف گوادر کے سرگرم راہنما عتیق الرحمن نواب نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس گرینڈ تعلیمی جرگہ کے سلسلے کو جاری رکھنے اور سماجی برائیوں کے خلاف آگاہی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

گرینڈ تعلیمی جرگہ میں کمپیئرنگ کے فرائض گوادر یوتھ فورم کے صدر برکت اللہ بلوچ نے ادا کیے۔

Facebook Comments
(Visited 48 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔