مرکزی صفحہ / اداریہ / لالا صدیق بلوچ: روشن فکر صحافت کے قافلے کا تسلسل

لالا صدیق بلوچ: روشن فکر صحافت کے قافلے کا تسلسل

ایڈیٹر

78 سالہ لالا صدیق بلوچ کی رحلت کے ساتھ ہی پاکستان اور بلوچستان کی صحافت کا نصف صدی پر محیط ایک عہد اختتام کو پہنچا. ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا. ایک سفر کی اخیر ہوئی. یہ جسمانی وصال مگر ان کے کام اور قافلے کا خاتمہ ہرگز نہ ہو گا، کہ انہوں نے اپنی فکر و فن کے ایسے بیج بو دیے تھے کہ جنہیں‌ تناور و ثمرآور شجر کی صورت وہ اپنی زندگی میں ہی دیکھ چکے.

ہمارے خطے کے معروضی حالات میں 78 برس کی طبعی عمر ایک اچھی خاصی نعمت ہے. بالخصوص گزشتہ دو دہائیوں کا دور کہ جس میں نوجوانوں کی لاشیں اٹھتی رہیں، اور بزرگ انہیں کندھے دیتے رہے. ایسے میں کسی قسم کی مہم جوئی سے ہٹ کر اپنے مورچے میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہنا وہ اعلیٰ ہنر ہے، جو صدیق بلوچ کی صورت ہمیں‌ سیکھنے کو ملا.

بلوچستان میں‌ گزشتہ ستر برس کے دوران جو اکھاڑ پچھاڑ ہوئی اس نے کچھ بھی خالص نہ رہنے دیا. نہ سماج کو نہ سیاست کو، نہ ادب کو نہ صحافت کو. ہمارے سماج کے ہر شعبے سے خالص پن کے خاتمے کا جو کھیل 50 کی دہائی میں شروع ہوا، ستر اور اَسی کے زمانے تک نظریاتی چھاؤں میں پرورش پانے والی نسل نے بیسویں صدی کے آخر تک کسی نہ کسی طور اس کے آگے بند باندھے رکھا، لیکن اکیسویں صدی کے آتے آتے جوں جوں یہ نسل معدوم ہوتی گئی، ہمارے سماج میں‌ خالص پن کی قلت عروج پاتی گئی. لالا صدیق اُس نسل کا آخری قلعہ تھے، جنہیں "خالص صحافی” کہا جا سکے.

عمر کے 30 برس انگریزی صحافت کو دینے والے صدیق بلوچ نے لگ بھگ اتنا ہی عرصہ بلوچستان میں صحافت کی ایک نرسری کو دے دیا اور ایک ایسی کھیپ پیدا کر دی جو آج ملکی و بین الاقوامی اداروں میں‌ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے. ڈیلی "بلوچستان ایکسپریس” اور روزنامہ "آزادی” بھلے بوجوہ مارکیٹ کے اخبارات نہ بن سکے ہوں لیکن یہ نوجوان صحافیوں کی ایک کامیاب نرسری ضرور رہے ہیں. جو گزشتہ دو دہائیوں سے یہ فریضہ نہایت کامیاب سے انجام دے رہے ہیں.

یہی نہیں، بلوچ قومی مفادات کی نگہبانی کا فریضہ بھی ان اداروں نے خوب انجام دیا. بلوچ مسلح مزاحمتی تحریک کا معاملہ ہو، قومی سوال کی گنجلک گتھی ہو، بلوچ اور اسلام آباد کے مابین رشتے کی نازک ڈور ہو، سیندک سے لے کر ریکوڈک کے مالی معاملات ہوں، گوادر و سیک پیک ہو، افغان مہاجرین کا قضیہ ہو یا سریاب روڈ کے معمولی ایشوز، آزادی اور بلوچستان ایکسپریس کی نہ صرف سرخیوں میں نمایاں جگہ پاتے رہے بلکہ لالا صدیق کے "خصوصی رپورٹ” کے عنوان کے ساتھ تجزیوں میں بھی نمایاں رہے.

لالا صدیق کا اہم ترین کارنامہ اپنی زندگی میں ہی ایک میڈیا ایمپائر کا کھڑا کرنا اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے. بلوچستان میں‌ جہاں ڈمی اخبارات کا چلن عام ہے، اور جینوئن صحافی کا جینا دوبھر ہے، وہاں اپنی طرز کا ایک منفرد اور کامیاب میڈیا ہاؤس قائم کرنا اور اسے کامیابی سے چلانا ایک ایسا شاندار کارنامہ ہے جس کی بلوچستان کی صحافتی تاریخ میں‌کوئی نظیر نہیں.

ہمارے خطے میں‌ صحافت کا جو بیج یوسف عزیز مگسی اور صمد خان اچکزئی جیسے اکابرین نے بویا تھا، صدیق بلوچ بیسویں صدی میں اُس تسلسل کا آخری استعارہ تھے. توقع کی جانی چاہیے کہ ان کا یہ فکری تسلسل اکیسویں صدی میں بھی اسی فکر کے ساتھ قائم رہے گا.

Facebook Comments
(Visited 25 times, 1 visits today)

متعلق ایڈیٹر