مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / ڈاکٹر نوین جی حیدر، معاف کرنا!

ڈاکٹر نوین جی حیدر، معاف کرنا!

محمد خان داؤد

بھلے نوین جی حیدر کے لیے وہ نہ بولیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پورے معاشرے کی زباں اُن کے منہ میں ہے۔ جو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتے ہیں۔ جو چھوٹے چھوٹے مسائل پر روڈوں پر ہوتے ہیں۔ علامتی بھوک ہڑتالیں کرتے ہیں۔ پریس ریلیز جاری کرتے ہیں۔ اخباروں میں اپنی تصاویر اور خبریں تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ پریس کلب پر اپنے ساتھیوں کے لیے اپنے گھروں سے چائے بنا کر لاتے ہیں۔ چائے پیتے سیلفیاں لیتے ہیں۔ پھر ان سیلفیوں کو سوشل میڈیا کی زینت بناتے ہیں۔ ان کی طرف سے ایک بھی اسٹیٹس سوشل میڈیا پر ایسا نہیں۔ ایک بھی تصویر ایسی نہیں جو نوین جی حیدر کے لیے ہو۔ جو نوین کے درد کے لیے ہو۔ نوین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہو۔ جو نوین کے ساتھ محبت کے لیے ہو۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سحر انصاری ان کا استاد ہے۔ اس لیے کے ان کی عمر بڑھ گئی ہے۔ پر کیا واقعی یہ سحر انصاری ان کا استاد ہے؟

جب سحر انصاری ترقی کر رہا تھا۔وہ تب بھی ان کا استاد تھا۔ اب جب وہ پستی میں گر گیا ہے اور اس شہر کی بیٹی کو ہراساں کرنے کا سنگین جرم کر بیٹھا ہے، وہ تب بھی ان دانشوروں کا دوست ہے؟!!

پر افسوس اس بات کا ہے کہ نوین جی حیدر کا کوئی بھی دوست آگے بڑھ کر یہ نہیں کہہ رہا کہ، "وہ ہماری دوست ہے!”

ان سب کی زبانیں گُنگ ہیں، اور ڈاکٹر نوین جی حیدر اپنا کیس تین سال سے لیے اسی شہر میں انصاف کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ کبھی اپنے ڈپارٹمینٹ کے ہیڈ کے پاس، کبھی کراچی یونیورسٹی کے وی سی کے پاس، کبھی یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کے پاس، کبھی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے، کبھی کہاں تو کبھی کہاں!
پر اس کی بات کون سنتا ہے؟!!

پر وہ میمیں کہاں ہیں؟ جن کے بہت بڑے بڑے نام ہیں۔۔۔ اور وہ سول سوسائیٹی جس کی آواز میں بہت شور سمایا ہوا ہوتا ہے۔ وہ سب کہاں ہیں؟جو مل کر بات تو کر سکتی ہیں۔ان کی بہت سی باتیں بہت سا شور تو برپا کر سکتی ہیں۔ وہ جو فیمنیسٹ ہیں، جو ہر بات پر بات کرتی نظر آتی ہیں۔ جو عورتوں کے حقوق کی علمبردار ہوتی ہیں، جو شہر کے مہنگے ہوٹلز سے لے کر سستے گھروں اور روڈوں سے لے کر پریس کلبوں پر اپنی بات کہتی نظر آتی ہیں۔

آج جب ڈاکٹر نوین جی حیدر سحر انصاری کا وہ مکروہ چہرا جو اس شہر کے باسیوں کو نظر نہیں آتا دکھانا چاہتی ہے۔ تو کوئی بھی دیکھنا نہیں چاہتا؟!! وہ جعفر احمد خان بھی دیکھنا نہیں چاہتا جو سب حیقیت جانتا ہے کہ سحر انصاری کیا ہیں؟ اور ڈاکٹر نوین جی حیدر ان کو کیا کہنا چاہتی ہے؟ سب سے پہلے تو ڈاکٹر نوین جی حیدر نے جعفر احمد خان سے شکایت کی پر اس نے اس شکایت پر کوئی کان نہیں دھرا اور آج وہ شکایت، شکایت سے آگے بڑھ کر الزام بن چکی ہے۔ جس سے سحر انصاری کا دامن داغ دار ہو چکا ہے۔ تب بھی اسے کوئی پرواہ نہیں۔ اور اس شہر کی بیٹی سب کو یہ بتانے اور جتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ خدارا سچ کو دیکھو، پر کوئی نہیں دیکھ رہا۔

کیا ایک بداخلاق مرد کو یہ سزا کافی ہے کہ وہ اب یونیورسٹی کے در کو نہ پھلانگے۔ جب کہ وہ ریٹائرڈ ہو چکا ہو۔ جب وہ یونیورسٹی گاہے بگھائے ہی آتا ہو؟ اسے جو کہنا تھا یا جو کرنا تھا، اس میں وہ کسی حد تک تو کامیاب ہو چکا۔ وہ گلٹی بھی ہو چکا۔ وہ مجرم بھی ہو چکا۔ وہ نہ تو اپنی بات پر شرمندہ ہے اور نہ ہی اسے کوئی سزا ملی۔ اور ڈاکٹر نوین جی حیدر ہے جو اپنا کیس اپنے ہینڈ بیگ میں لیے اس شہریاراں میں گھوم رہی ہے کہ شاید کہیں سے انصاف مل جائے۔

اس وقت ڈاکٹر نوین جی حیدر بہت دکھ میں ہیں۔
ڈاکٹر نوین جی حیدر جب سحر انصاری سے ہراساں ہوئیں اور انہوں نے سحر انصاری کی یہ حرکت اپنے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ اور اپنے قریبی دوستوں سے اس کا ذکر کیا تو ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ سے لے کر ان سب ساتھیوں نے ڈاکٹر نوین جی سا کہا کہ، "یا اس واقعہ کو بھول جاؤ یا یونیورسٹی کو بھول جاؤ!”

پر نوین جی حیدر ان تین سالوں میں نہ تو اس واقعہ کو بھول پائیں ہیں، نہ سحر انصاری کے "سحر” کو بھول پائی ہیں اور نہ اس یونیورسٹی کو بھول پائی ہیں جہاں وہ پڑھاتی ہیں۔ جہاں وہ صبح کو شام ہوتے دیکھتی ہیں۔ جہاں وہ سورج کو ڈوبتے دیکھتی ہیں۔ جہاں وہ پرندوں کو جاتے اور آتے دیکھتی ہیں۔ جہاں انہوں نے اپنے طالب علموں کو اخلاق کا سبق سکھایا۔ وہیں انہوں نے سحر انصاری کے جبر کو برداشت کیا، اسے جھیلا، اس سے بات کی، اسے روکا، ان کی اس بدتمیزی کو سہا۔ سحر انصاری کی اس غیر اخلاقی حرکت پر پریس کانفرنس کی۔
تو ڈاکٹر نوین جی حیدر اس جامعہ کو کیسے بھولے؟!

اس وقت اس کے وہ ساتھی کہاں تھے؟ جنہیں ڈاکٹر نوین جی حیدر کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔وہ بہت بڑے نام۔
ان لوگوں کو تو ضرور باہر نکلنا چاہیے تھا جو ڈاکٹر نوین کو بھی جانتے ہیں اور سحر انصاری کو بھی۔ وہ لوگ جو سحر انصاری کے جونئیر ہیں۔ وہ لوگ جو ڈاکٹر نوین جی کے سئینر ہیں۔ وہ لوگ جو ڈاکٹر نوین جی کے ہم عمر ہیں، ہم رقاب ہیں اور ہم پیشہ۔ وہ لوگ کیوں خاموش تھے۔ اور اب بھی خاموش ہیں۔ وہ بہت بڑے بڑے نام جو اندر سے بہت خالی ہیں۔ وہ کس سے ڈرتے ہیں؟ وہ کیوں ڈرتے ہیں؟ کیا وہ اپنی ہی بدنامی سے ڈرتے ہیں کہ سحر انصاری ان کا استاد ہے؟ ان بڑے ناموں نے اپنی زباں سے ایک لفظ بھی نہیں نکالا۔ وہ سحر انصاری کو تو کچھ بھی نہیں کہہ سکے۔ پر وہ اپنی اس خاموشی پر ڈاکٹر نوین جی کو بھی اتنا نہیں کہہ سکے کہ، "ڈاکٹر نوین جی! ہمیں معاف کرنا.”

دکھ تو اس بات کا ہے کہ جب ڈاکٹر نوین جی حیدر اس عذابِ مسلسل سے گزر رہی تھی اور ان کا پریس کلب پر آناجانا لگا رہتا تھا تو کوئی ایک بھی کوئی بینر لیے اس کے ساتھ پریس کلب کے در پر کیوں نہیں تھا؟
نہ سول سو سائٹی کے لوگ، نہ اس کے ہم پیشہ لوگ، نہ سیاسی لوگ، نہ سماجی لوگ۔

کوئی تو آتا جو ڈاکٹر نوین جی حیدر کی طرف داری کرتا اور کہتا سحر انصاری سے عمر خیام کی بولی میں کہتا کہ:

غافل مشو ز عمر کہ چون کشتی بر آب
استادہ می نماید و چون تیر می رود!

(عمر سے غافل نہ رہو، یہ ایسے ہی ہے جیسے کشتی پانی پہ کھڑی نظر آتی ہے پر دراصل وہ تیر کے جسے تیرتی رہتی ہے!)

Facebook Comments
(Visited 24 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com