مرکزی صفحہ / مباحث / نظریہِ ارتقا کے "ارتقائی” منکرین

نظریہِ ارتقا کے "ارتقائی” منکرین

شاداب مرتضیٰ

بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ ایک جاندار مخلوق کے طور پر انسان نے جانداروں کی کسی دوسری مخلوق سے ارتقا نہیں کیا بلکہ انسان ہمیشہ سے جانداروں کی ایک مخصوص اور مستقل مخلوق کی حیثیت سے دنیا میں موجود رہا ہے۔ لیکن زندگی کے ارتقا کے بارے میں اس عقیدے کے برعکس سائنس یہ بتاتی ہے کہ تمام جانداروں نے دوسرے جانداروں سے ارتقا کیا ہے اور اسی طرح ایک جاندار کی حیثیت سے انسان بھی ہمیشہ سے ایک مخصوص اور مستقل مخلوق کی صورت میں دنیا میں موجود نہیں تھا بلکہ اس نے بھی تمام دوسرے جانداروں کی طرح دیگر جانداروں سے ارتقا کر کے انسانی شکل اختیار کی ہے۔

انسان کے ارتقا کا انکار کرنے والے افراد کا تقاضا ہوتا ہے کہ انسانی ارتقا کی سیڑھی میں وہ مخصوص جاندار نوع ان کے سامنے لائی جائے جس سے انسان نے براہِ راست جنم لیا ہے۔ جب تک وہ جاندار ان کی آنکھوں کے سامنے ویسا انسان پیدا نہیں کرتا جیسے ہم ہیں تب تک یہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ انسان نے دوسرے جانداروں سے ارتقا کیا ہے۔ ان کی خواہش کے برعکس، البتہ، سائنس ایسے ٹھوس شواہد پیش کرتی ہے جو ثابت کرتے ہیں کہ انسان نے دیگر جانداروں کی طرح ہی جانداروں سے ہی ارتقا کیا ہے۔

انسان کی جسمانی، جینیاتی اور کیمیائی خصوصیات دوسرے جانداروں سے نہایت قریبی یا دور کی مماثلت رکھتی ہیں۔ انسان میں ایسی متروک ہڈیاں پائی جاتی ہیں جو انسان کے جسم میں دوسرے جانداروں کی جسمانی باقیات ہیں۔ انسانی سماعتی نظام بعض دیگر جانداروں کے سماعتی نظام سے بہت قریبی مشابہت رکھتا ہے۔ انسان اور بندر کے امینو ایسڈ 98 فیصد یکساں ہیں۔ انسان کی جسمانی ساخت کا ارتقا زمینی ماحول کے ارتقا کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ جہاں جہاں زمینی ماحول انسانی زندگی کے لیے سازگار رہا، وہاں وہاں انسان کے جسمانی ارتقا کا سفر آگے بڑھا۔ الغرض انسان کائنات کی کسی بھی دوسری نوع کے مقابلے میں سب سے زیادہ جاندار انواع سے مماثلت رکھتا ہے اور اس کی جسمانی خصوصیات بھی جانداروں جیسی ہیں۔ سو، یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ انسان نے دیگر جانداروں سے ہی ارتقا کیا ہے اس مخصوص جاندار کو ثبوت کے طور پر پیش کرنا ضروری نہیں جس سے انسان نے براہِ راست ارتقا کیا ہے۔ البتہ، انسان کے حیاتیاتی ارتقا کو نہ ماننے کے لیے اس بات پر اصرار کرنا ضروری ہے۔

جس طرح بعض لوگ انسان کے حیاتیاتی ارتقا کو تسلیم نہیں کرتے، اسی طرح بعض افراد انسانی سماج کے ارتقا سے بھی انکار کرتے ہیں۔ جس طرح حیاتیاتی ارتقا سے انکار کرنے والے یہ یقین رکھتے ہیں کہ انسان ہمیشہ سے ایک مخصوص اور مستقل نوع کی حیثیت سے دنیا میں موجود رہا ہے، اسی طرح سماجی ارتقا کے منکرین کا ماننا ہے کہ سماج بھی ہمیشہ سے طبقاتی رہا ہے اور سماج کی کسی ایک قسم نے سماج کی کسی دوسری قسم سے اسی طرح ارتقا نہیں کیا جس طرح انسان نے ایک مخصوص قسم کے جاندار کی حیثیت سے دوسری قسم کے جانداروں سے ارتقا کیا ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک انسانی سماج اپنے "ارتقا” میں ہمیشہ سے صرف ایک واحد، مخصوص اور مستقل قسم کا سماج رہا ہے، یعنی صرف "طبقاتی” قسم کا سماج۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کے حیاتیاتی ارتقا پر یقین رکھنے والے یہ افراد سماجی ارتقا کے بارے میں اپنے اس نظریے کو ایک "ارتقائی” نظریہ سمجھتے ہیں اور انہیں اس بات کا بھی کامل یقین ہے کہ انسانی سماج کے ارتقا کے حوالے سے ان کا کولہو کے بیل کے طرح ایک بند دائرے میں گھومتا یہ جامد اور میکانیکی نظریہ ہی سماجی ارتقا کے بارے میں درست نظریہ ہے۔ ایک ایسا نظریہ جس میں سماجی ارتقا کی نئی قسموں کی کوئی گنجائش نہیں اور جس میں سماجی ارتقا کا ہر نیا قدم، ہر نیا مرحلہ، ہر نئی منزل سماجی ارتقا کی ایک ہی مخصوص اور مستقل، ازلی و ابدی، شکل، یعنی "طبقاتی” سماج ہے۔ یہ ہے ان افراد کا سماج کے "ارتقا” کا نظریہ!

جس طرح حیاتیاتی ارتقا کے منکر حیاتیاتی ارتقا کے سائنسی نظریے کو غلط ثابت کرنے کے لیے جانداروں کی اس نوع کے وجود کا انکار کرتے ہیں جس سے انسان نے ارتقا کیا، اسی طرح سماجی ارتقا کے یہ "ارتقائی” منکرین سماجی ارتقا کے سائنسی نظریے (تاریخی مادیت) کو غلط ثابت کرنے کے لیے سماج کی اس نوع کے وجود سے انکار کرتے ہیں جو غیرطبقاتی تھی اور جس سے ارتقا کر کے انسانی سماج طبقاتی سماج میں بدل گیا۔ یہ لوگ انسانی سماج کے ارتقا میں عہدِوحشت اور عہدِبربریت کے انسانی سماج کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور انسانی سماج کے ارتقا کا آغاز صرف عہدِ تہذیب سے، یعنی طبقاتی سماج کی ابتدا سے کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انسان سماج کی ابتدا صرف اس وقت ہوئی جب انسان نے تاریخ لکھنا شروع کی! گویا، وہ انسان اور اس کا سماج جو تاریخ لکھنا نہیں جانتا تھا تاریخ میں کبھی موجود ہی نہیں تھا!

انسانی سماج کے ارتقا کے ان "ارتقائی” منکرین کے نظریے کے برعکس سائنس بہت تفصیل کے ساتھ تاریخ میں غیرطبقاتی سماج اور اس کے ارتقا کی مختلف شکلوں کے "وجود” کے شواہد مہیا کرتی ہے۔ یہ معلومات صرف لکھی ہوئی تاریخ سے حاصل نہیں ہوئیں جس کے بارے میں بعض "مفکروں” کا خیال ہے کہ صرف لکھی ہوئی تاریخ ہی سماج کی اصل تاریخ ہے۔ یہ معلومات مختلف سماجی سائنسوں جیسے کہ بشریات اور آثارِ قدیمہ کے شعبوں میں برسہا برس کی تحقیق، چھان بین اور تجزیے کے ذریعے بھی حاصل کی گئی ہیں۔ قدیم سماج میں گروہ وار شادی کا رواج، صنفی برابری، مادری حق کی برتری، مادری حق پر قائم قبیلے، سلسلہِ نسب کا ماں کی طرف سے چلنا، مشترکہ ملکیت، قبیلے کے افراد کی سماجی طبقوں میں عدم تقسیم، مشترکہ گھر وغیرہ کی موجودگی غیر طبقاتی سماج کے وجود کے سماجی شواہد ہیں۔

غیرطبقاتی سماج کی یہ نشانیاں آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں باقی ماندہ قدیم قبیلوں کی صورت میں موجود ہیں۔ جدید سماج میں موجود ایسے ہی باقی ماندہ قبیلوں کے سماجی مطالعے سے اور آثارِ قدیمہ کی دریافتوں سے حاصل ہونے والے شواہد سے انسان نے عہدِ تہذیب سے پہلے کے انسانی سماج کی غیرطبقاتی سماجی شکلوں کا پتہ لگایا اور ثابت کیا کہ جس طرح انسان ایک مخصوص و مستقل جاندار کی حیثیت سے ہمیشہ سے دنیا میں موجود نہیں تھا بلکہ اس نے دوسرے جانداروں سے ارتقا کیا ہے، اسی طرح انسانی سماج نے بھی غیرطبقاتی سماج کی مختلف شکلوں سے طبقاتی سماج میں اور پھر طبقاتی سماج کی مختلف شکلوں میں ارتقا کیا ہے۔ حیاتیاتی ارتقا کی حدود کے برعکس، غیرطبقاتی سماج کے وجود کی نشانیاں آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں غیرطبقاتی سماجی تنظیم رکھنے والے قبیلوں اور برداریوں کی صورت میں موجود ہیں جو سماجی ارتقا کے اعتبار سے عہدِوحشت و بربریت کے مختلف ادوار سے مطابقت رکھتی ہیں۔

تاہم، سماجی سائنسوں کی دریافتوں اور مصدقہ حقائق کے برعکس، انسان کے حیاتیاتی ارتقا کے حامی لیکن سماجی ارتقا کے منکر افراد پھر بھی یہی یقین رکھتے ہیں کہ سماج ابتدا سے ہی طبقاتی تھا اور ہمیشہ طبقاتی ہی رہے گا۔ کہ، سماج کے ارتقا کا آغاز و انجام طبقاتی سماج کی کسی ایک یا دوسری شکل کے سوا کچھ نہیں۔ ان میں سے تاریخی مادیت کے نظریے کے بعض مخالفین، یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ سائنس کا اطلاق سماج پر کیا ہی نہیں جا سکتا، اس لیے سماج کو سائنسی طریقے سے سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ خوش قسمتی سے ان افراد کی خاصیت یہ ہے کہ یہ صرف وہی مانتے ہیں جو "سائنسی” ہو۔ اور چونکہ ان کے نزدیک سماج کی سائنس کا ہونا ممکن ہی نہیں اس لیے یہ نہ صرف خود سماج کو، سماج کے ارتقا کو، سائنسی طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں بلکہ اپنے اس احمقانہ "سائنسی” نظریے کے سبب یہ افراد سماج کے بارے میں سائنسی علم اور شعور کے فروغ کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔

ان "نرالیوں” کے نزدیک فطری قوانین کائنات کی ہر شئے پر اثرانداز ہوتے ہیں اور انہیں سمجھ کر انسان انہیں اپنی زندگی بہتر بنانے کے کام میں لا سکتا ہے۔ لیکن سماج فطری قوانین کے اثر سے آزاد ہے، باوجود اس حقیقت کے کہ سماج بھی دیگر فطری مظاہر کی طرح فطرت کا ہی ایک حصہ ہے۔ سائنس فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے اور انہیں استعمال کر کے فطرت سے اپنی منشا کے مطابق نتائج حاصل کرنے کا علم ہے۔ لیکن، چونکہ، ان علامہ حضرات کے مطابق، انسان اور سماج پر فطری قوانین اثر انداز ہی نہیں ہوتے، اس لیے انسانی سماج کو سائنسی طریقے سے سمجھا ہی نہیں جا سکتا اور نہ ہی سماج کے بارے میں سائنسی علم حاصل کر کے اس کی مدد سے سماجی خرابیوں کو دور کر کے سماج کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے اس منافقانہ، شکست خوردہ اور قدامت پرست نظریے کے برعکس تاریخی مادیت کا نظریہ سماجی ارتقا کے فطری قوانین کے ذریعے سماج کے ارتقا کی سائنسی وضاحت کرتا ہے۔

تاریخی مادیت کے نظریے کے مطابق سماج کا ارتقا نہ ہی کسی مافوق الفطرت ہستی کے حکم سے ہوتا ہے اور نہ ہی سماج سے باہر موجود کسی فطری قوت کے اثر سے۔ نہ ہی سماج کا ارتقا سماجی ارتقا کے بارے میں دانش وروں، مفکروں اور سائنس دانوں کے "آئیڈیاز” کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سماج کا ارتقا سماج میں موجود مادی اسباب سے ہوتا ہے۔ معاشی پیداوار کا نظام جب سماج کی ضروریات کو جو ہمیشہ بڑھتی رہتی ہیں، پورا نہیں کر پاتا تو سماج اس کی جگہ نئے اور بہتر معاشی نظام کو جنم دے کر خود کو اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح جانداروں کی انواع بقا کے لیے ماحول سے مطابقت پیدا کر لیتی ہیں اور اس عمل کے دوران ان میں جسمانی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ سماج بھی اسی طرح بدلتے ہوئے مادی حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے عمل میں ارتقا کر کے نئی شکل اختیار کرتا ہے اور اپنے ارتقا کا سفر جاری رکھتا ہے۔

اس کے برعکس، تاریخی مادیت کے نظریے کے مخالفین کے مطابق، جن میں خصوصا آزاد خیال معاشرے کے "نرالیے” قابلِ ذکر ہیں، سماج کا ارتقا "عظیم مفکروں کے خیالات” کے سبب ہوتا ہے۔ مثلا عموما یہ کہا جاتا ہے کہ انسان کی ترقی اس کے شعور کا نتیجہ ہے۔ یہ سوال بے جا نہ ہو گا کہ عہدِوحشت اور بربریت کے دوران ہزاروں سال اور عہدِ تہذیب کے بہت عرصے بعد تک، جب انسان غیر مرئی طاقتوں پر یقین رکھتا تھا، دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرتا تھا، جب تعویذ گنڈے اور توہم پرستی ہی انسان کا "شعور” تھا، تب سماج ان عظیم شخصیات اور ان کے عظیم افکار کی موجودگی کے بغیر کس طرح ارتقا کرتے ہوئے عالمِ وحشت و بربریت سے تہذیب کے عہد میں داخل ہوگیا؟ اور یہ سوال تو مزید غیر معمولی دلچسپی کا حامل ہے کہ سماج کے ارتقا کو طبقاتی سماج کے ازلی و ابدی دائرے میں قید کر دینے والے ان "نرالیوں” کے "ارتقائی” آئیڈیا کے اثر سے ہونے والا سماجی ارتقا کیسا ہو گا؟

سو، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ تاریخ، فلسفے اور سائنس کے شعبوں میں تاریخی مادیت کے نظریے کی مزاحمت و مخالفت کرنے والے اس لبرل، مابعد الطبعیاتی، نام نہاد "سائنسی” رجحان کے وجود کی سماجی حقیقت صرف یہ ہے کہ یہ کبھی سائنس کا نقاب اوڑھ کر اور کبھی سائنس کی مخالفت کر کے کسی نہ کسی طرح سرمایہ دارانہ طبقاتی سماج کے وجود کو، نام نہاد آزاد خیال معاشرے کو، اپنے "آئیڈیا” کی طاقت سے ازلی و ابدی سماج باور کرا سکے اور اس طرح سرمایہ دارانہ سماج میں موجود نجی ملکیت اور طبقاتی استحصال کا نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے دفاع کر سکے۔

Facebook Comments
(Visited 17 times, 1 visits today)

متعلق شاداب مرتضیٰ

شاداب مرتضیٰ
حیدرآباد میں مقیم شاداب مرتضیٰ وہیں ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں۔ نظریاتی کارکن ہیں، اور نظریاتی مباحث میں تسلسل سے حصہ لیتے رہتے ہیں۔ ای میل: murtaza.shadab@gmail.com