مرکزی صفحہ / بلاگ / انڈو نیشیا! ایک اسلامی ملک

انڈو نیشیا! ایک اسلامی ملک

عینی نیازی

چند دن قبل ہم پاکستا نیوں کو دنیا کے بڑے اسلامی ملک کے سر براہ کی مہما ن نو ازی کا اعزا زحا صل ہو ا یہ ہما رے لیے بہت خو شی کا موقع تھا کہ اس قدر اندورنی اور بیرونی بحرانوں سے گھرے ملک میں ایک معزز لیڈر نے ہمیں میز بانی کا مو قع دیا.

انڈ ونیشیاجنوب مشرقی ایشیا میں وا قع ایک ملک ہے جو اس وقت تیزی سے ترقی کے منا زل طے کر تا ہوا آگے بڑھ رہا ہے. ہمیں اس سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے. خا ص کر صدر جوکوویدودو جو ایک سادہ طرز زندگی گزارنے کے عادی ہیں.

جوکوویدودو پہلے انڈو نیشیائی صدر ہیں جو کسی اعلیٰ سیاسی یا فو جی خا ندان سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ انھوں نے اپنا بچپن نہا یت غریب گھرانے میں گزارا. جوکوویدودو کی رہا ئش کچی بستیوں وا لے ایک شہر سو لو میں تھی صدر بننے سے قبل وہ فر نیچر کا کا روبا ر کرتے تھے اپنی سیا ست کا آغا ز انھوں نے سولو کے میئر کے انتخاب لڑنے سے کیا ان کی ایما نداری اور محنت نے عوام کے دل جیت لیئے اس کے بعد اپنی قابلیت کی بناء پر جکا رتہ کے گو رنربنے. انھوں نے عوامی سہولتوں کی جانب خصوصی تو جہ دی. اسپتال، ٹرانسپورٹ روزگارکے ذرائع بڑھا نے میں عوام کی بھر پور معا ونت کی اور پھر صدر رات کے الیکشن میں حصہ لیا جو انڈو نیشیا کی تا ریخ کا سب سے کا نٹے دار مقا بلہ تھا بآلا خر 20 اکتوبر 2014ء میں جوکوویدودو نے ملک کے سا تویں صدر کا حلف اٹھایا.

اتنے بڑی آبادی وا لے ملک کی باگ دوڑ سنبھالنا یقیناََ کسی چیلنج سے کم نہیں جس سے صدر جوکووی بخوبی نبر د آز ما ہیں. صدر بننے کے بعد بھی ان کی لا ئف اسٹائل میں کو ئی تبدیلی نہیں ہو ئی وہ اب بھی اسی طر ح سا دہ طرز اپنا ئے ہوئے ہیں. اپنے چھو ٹے چھوٹے کام اکثر خود بھی کر لیے ہیں. بیرون ملک سفر کے لیے وہ اور ان کے ساتھی بھی اکانومی کلا س میں سفر کر تے ہیں اپنے پرو ٹوکول کے حوالے سے بھی لمبے چوڑے خر چے سے بچنے کی کو شش کرتے ہیں کہ یہ سب اخراجات عوام کے کا م آسکیں.

صدر جوکوویدودو کے تین بچے ہیں جن میں بڑا بیٹا اٹھائیس سالہ جبران ویڈنگ پلا ننگ اور کیٹرنگ کا ایک عام سا کاروبا ر کر تا ہے مگر جو کو وی کو اپنے بیٹے کی محنت اور طرز زندگی پسند ہے کہ وہ ایک با عزت روزگا رکے ذریعے معاش حا صل کر تا ہے جوکووی کی یہی خوبیاں ہیں جو وہ عوام میں مقبو لیت اور پسندیدگی کی نظر سے دیکھے جا تے ہیں۔

انڈو نیشیا صدیوں کا سفر طے کر کے اب دنیا سے قدم ملا کر چلنے کی کو شش میں مصروف ہے اس کے ماضی پر نظر دوڑائیں تومعلوم ہو تا ہے کہ ماہرین آثا ر قدیمہ نے انڈو نیشیا میں 45ہزار سا ل قبل کی زندگی کے قدیم ترین آثا ر دریا فت کئے ہیں جب کہ ایک منظم ز ند گی کی شروعات دو ہز ار قبل مسیح میں شروع ہوئی باقاعدہ آس پا س کے ملکوں سے ہندوؤں اور بدہسٹ قوموں نے اپنے قدم یہاں جمائے اور ایک نئی تہذیب کا آغاز کیا. مگرآپس کی ناچاقیوں نے کسی حکمرانی کو کبھی پنپنے نہ دیا.

پھر نویں صدی سے قبل ہی اسلام تاجروں کے ذریعے انڈ ونیشیا تک پہنچ چکا تھا جہاں اسلام کی تبلیغ نے اسے سولہویں صدی تک پورے انڈونیشیا کا سب سے بڑا مذہب کا در جہ دے دیا. اس سے آگے بر طا نیہ اور نیدر لینڈ نے اٹھارویں صدی میں اپنی کالونیاں قائم کی. انڈو نیشیا یورپ کے لیے ایک زر خیز ملک کی حیثیت رکھتا تھا ان کی کو شش تھی کہ اس پر تسلط بر قرار رہے لیکن جنگ عظیم دو ئم کے بعد ان قا بض ممالک کو انڈ ونیشیا کی آزادی کی جدو جہد کو تسلیم کر نا پڑا. اور 7 اگست 1950ء کو اسے آزا دی حا صل ہو ئی.

انڈو نیشیا اس وقت دنیا کے سب سے بڑی مسلمان آبادی والا ملک ہے جس کی معیشت تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے قدرت نے بھی اسے اپنی تما م نعمتیں فیا ضی سے عطا کی ہیں خوبصورت سر سبز ملک جہاں آتش فشا ں پہاڑ بھی ہیں تو دنیا کے سب سے زیادہ جزیرے رکھنا وا لا ملک بھی کہلاتا ہے. ان جزیروں کی تعداد 17500 ہے دنیا کی سب سے بڑی سو نے کا کان اسی ملک میں ہے بدھ مذہب کا سب سے بڑا مندر بھی یہاں موجود ہے دنیا کی پچا س فیصد پام آئل انڈونیشیا سے ملتا ہے تو دنیا کی45 فی صد مچھلیاں اسی کے پا نیوں میں رہنا پسند کر تی ہیں.

آتش فشاں پہاڑ بھی سب سے زیادہ ہیں اور زلزے بھی بہت آتے ہیں ان قدرتی آفات کی وجہ سے سب سے زیا دہ ہلا کتیں 2004 ء میں سونامی کی صورت میں ہو ئی جس میں 23000 لوگ ہلاک ہو ئے یقینااس ملٹی کلچرل ملک میں بھا نت بھانت کی بو لیوں اوررسم رواج والے لوگ ہیں. صدر بارک اوباما نے اپنے بچپن کے محض چند سال وہاں گزارے مگر اس کے انمنٹ نقوش وہ کبھی نہ بھول پا ئے یہی وجہ ہے اپنے پہلے صدراتی ٹرم میں وہ انڈونیشیا جاپہنچے اور اپنے ذہن میں بسے ان خوبصورت یا دوں کو وہاں کے لوگوں کے ساتھ شیئرکیا تھا۔

انڈو نیشیا میں مو جودہ جمہوریت کا قیام کسی آزادی حا صل کر نے کی جدوجہد سے کم نہیں تھا چا لیس سالہ آمریت کا وہ دور جب صدر سوہارتو بر سر اقتدار تھے جس کی شروعات انڈو نیشی عوام کے دلوں میں 30 ستمبر1965ء کو ہو نے والا سا نحہ کبھی نہ بھولے گا. جب بیسوی صدی کا سب سے بڑا قتل عام محض حصول اقتدار کے لئے کیا گیا. لا کھوں انسانوں ں کو اٹھارہ ماہ میں موت کے گھاٹ اتارا گیا اس بغاوت میں اپنے ہی لوگوں پر تشدد کیا گیا اوران وا قعات کو زبان زد عام لا نا بھی جرم تھا مگر اب ہزاروں سال پرانی تہذیب وثقا فت رکھنے والی قوم میں سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے.

2014.ء کے انتخاب میں منتخب ہونے والے صدر جوکوویدودو ایک قابل سیاست داں ہیں جو اپنی عوام کیلئے مخلص ہیں اور ساتھ مسلم امہ کے لئے بھی درد مند دل رکھتے ہیں. ایک برادر ملک ہو نے کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ ان ہی کو ششوں کی ایک کڑی ہے .جس کا اظہار ان کی اس تقریر سے لگا یا جا سکتا ہے جو انھوں نے پارلیمنٹ میں کی پوری دنیا میں مسلمانوں پر ہو نے والے مظالم اور پھر اس الزام پر کہ مسلم دہشت گرد ہیں افسوس کا اظہار کیا.

صدر جوکوویدودو نے مسلم ممالک کو متحد ہو کر دہشت گردی،بدامنی اور غربت کے خلاف متحد ہونے کی بات کی صدر جوکوویدودو کی سادہ طرز زندگی، عوام کی فلاح کے لئے پر خلوص کو ششیں اور عزم ہمارے حکمرانوں کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے یقینا اس مہمان سے بہت کچھ سیکھا جاسکتاہے۔

Facebook Comments
(Visited 14 times, 1 visits today)

متعلق عینی نیازی

عینی نیازی
کراچی میں مقیم عینی نیازی بیک وقت استاد، کہانی کار، ڈرامہ نویس اور کالم نگار ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ بالخصوص تحقیقی کالم لکھنا اچھا لگتا ہے۔ مختلف ویب سا ئٹس اور اخبارات میں لکھتی ہیں۔ اس وقت ایکسپریس نیوز میں لکھ رہی ہیں۔ Email:ainee.niazi@gmail.com