مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم "ستیم شیوم سندرم”

اس ہفتے کی فلم "ستیم شیوم سندرم”

ذوالفقار علی زلفی

سچ کیا ہے؟ شیو کس کو کہتے ہیں اور حسن کیا ہے؟ یہ بظاہر سادہ سوالات ہیں مگر ان کے جوابات کی تلاش میں فلسفیوں و مفکروں نے زندگیاں وقف کردیں ـ سچ وجود بھی رکھتا ہے یا یہ صرف انسانی ذہن کی اختراع ہے؟ ـ شیو کو مابعدالطبیعات میں ڈھونڈھا جائے یا معروض میں بھی اسے کھوجا جاسکتا ہے؟ ـ حسن داخلی شے ہے یا انسانی ذہن سے ماورا خارج میں بھی وہ حرکت پزیر ہے ـ

اگر 1978 کی ہندی فلم "ستم شیوم سندرم” کے اسکرین پلے کا درج بالا سوالات کی روشنی میں تجزیہ کیا جائے تو شاید معاملہ ایک فلم پر تبصرے کی حد تک نہ رہے ـ یہ فلم لیکن یوں بھی محض ایک انٹرٹینمنٹ فلم نہیں ہے ـ ہندوستانی اساطیر اور حسن و قبح کے معروضی و موضوعی نظریات کی تال میل سے جنم لینے والی "ستم شیوم سندرم” فلسفہِ جمالیات کی ہندی تفہیم ہے ـ ہدایت کار راج کپور نے 1948 کی "آگ” کی نسبت اس فلم میں اپنے فلسفہِ جمالیات کو زیادہ کھل کر جامع انداز میں بتانے کی کوشش کی ہے، جیسے:

یشو متی میّا سے بولے نند لالا
رادھا کیوں گوری میں کیوں لالا

بولی مسکاتی میا ، سن میرے پیارے !
گوری گوری رادھیکا کے نین کجرارے
کالے نینوں والے نے ایسا جادو ڈالا
اسی لئے کالا

راج کپور نے دکھایا ہے حسن، جسم اور اس کی لطافتوں و گرمیوں سے بالا ہے ـ وہ انسانی ذہن سے آزاد خارج میں موجود ایک معروضی شے ہے مگر اس تک پہنچنے کے لیے سماجی شعور سے روشنی پاتی موضوعی آنکھ بھی ہونی چاہیے ـ سماجی شعور کی روشنی سے اندھی آنکھ حسن کو سطحی شے سمجھ کر جسم کی رنگینیوں کے سراب کو ہی آب مان لیتا ہےـ جیسے کہ اس فلم میں ششی کپور بظاہر بدصورت اور منحوس زینت امان کی شیریں آواز سن کر ہوس کی آنکھ سے اس کا ایک حسین و جمیل پیکر تراشتا ہے ـ

"چنچل، شیتل، نرمل، کومل
سنگیت کی دیوی سور سجنی” ـ

راجیو (ششی کپور) روپا (زینت امان) کو روپ کی دیوی تصور کرکے اسے اسے معروض سے غائب کرکے موضوع تک محدود کرلیتا ہے ـ

اسکرین پلے کا راوی کیمرہ دکھاتا ہے روپا کا جسم اس کی داخلی خوبصورتی کے مقابل ہیچ ہے ـ روپا چھوٹی چھوٹی بچیوں کے کپڑے پہنتی ہے جس میں اس کا جسم جھلکتا رہتا ہے ـ یہ حسن کو عمر اور جنس کی بندشوں سے آزاد کرکے اسے معصوم بنا کر پیش کرنے کا استعارہ ہےـ جسم کی اس نمائش کو برہنگی کے جنسی اظہار پر محمول کرنا درست نہ ہوگاـ برہنگی جسم کو کثیف اور محبت جو ست (سچ) ، شیو (خدا) اور سندر (خوبصورت) ہے کو لطیف بناکر پیش کرنے کا جمالیاتی اظہار ہےـ اٹھی ہوئی مخروطی چھاتیاں زندگی کے تسلسل کا استعارہ بھی ہیں اور عورت کا طرہِ امتیاز بھی ـ حسن خیر ہے، حسن شیو ہے سو روپا کی چھاتی فحش نہیں ہوتی.

راج کپور کہتے ہیں انہیں اس فلم کا آئیڈیا لتا منگیشکر کو دیکھ کر آیاـ اب قارئین غور کرلیں، برصغیر کو اپنی آواز سے مالامال کرنے والی لتا منگیشکر خوبصورت ہیں یا بدصورت؟ ـ آپ کا جواب ہی "ستم شیوم سندرم” ہے ـ

"ستم شیوم سندرم” جہاں راج کپور کی بے داغ ہدایت کاری کا شاہکار ہے وہاں جینندرا جین کی تلمیحاتی و استعاراتی اسکرین پلے بھی اپنی جگہ کافی اہمیت رکھتی ہے ـ فلم کے ہر سیکوینس کے کاسٹیوم الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں ـ

اداکاری کا شعبہ بلا تردد مضبوط ہے ـ ششی کپور اور زینت امان نے راجیو اور روپا کے کرداروں کی اچھی نمائندگی کی ہے ـ خاص طور پر زینت امان کے فلمی کیریئر میں اس فلم کی حیثیت مسلّم ہے ـ

راج کپور کی دیگر فلموں کی طرح اس کی موسیقی بھی اعلی ترین ہے ـ موسیقی کی ذمہ داری 70 کی دہائی کی معروف جوڑی لکشمی کانت – پیارے لال کو تفویض کی گئی ہے ـ یوں تو فلم کے تمام گانے دلربا ہیں مگر لتا منگیشکر کی آواز سے مرصع گیت ناقابلِ فراموش ہیں ـ

اس فلم کو فلسفے کی کتاب مان کر دیکھئے ـ ہندوستانی فلسفہِ جمالیات کا ایک بڑا حصہ اسی میں پوشیدہ ہے ـ




Facebook Comments
(Visited 37 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔