مرکزی صفحہ / خصوصی حال / 107 سالہ بزرگ ڈانس ڈائریکٹر، ملنگ چارلی (حصہ سوم)

107 سالہ بزرگ ڈانس ڈائریکٹر، ملنگ چارلی (حصہ سوم)

تحقیق و تحریر : دانش بلوچ

ملنگ چارلی کہتے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹواور کلچرل منسٹری کے ڈائریکٹر عکسی مفتی صاحبان کی
مہربانی سے انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ دنیا کے جن جن ممالک میں پیش کیا، ان میں امریکہ، چین، افریقہ، روس، بھارت، انڈونیشیا، برطانیہ، اٹلی، ملائیشیا، کے علاوہ اور بہت سے ایسے ممالک بھی شامل ہیں کہ جن کے نام اب ان کو یاد نہیں ہیں۔

اسلام آباد کی ایک سرکاری تقریب میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملنگ چارلی کی پرفارمنس سے متاثر ہو کرانہیں کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے شاباشی دی اور کہا، ویل ڈن چارلی۔ اور پھر عکسی مفتی کو بلا کر ان کو کچھ ہدایات دیں، اس کے بعد ملنگ چارلی تقریباٌ ہر پاکستانی طائفے کے ساتھ بیرونِ ملک ڈانس پرفارمنس کے لیے جاتے رہے۔ ان ثقافتی طائفوں میں ان کے ساتھ، سندھی لوک فن کار اَلنڑ فقیر، بلوچی لوک فن کار فیض محمد بلوچ، سندھی ادیب ممتاز مرزا، سندھی گلوکارائیں مائی بھاگی اور زرینہ بلوچ، پشتو لوک گلوکار خیال محمد، اور پنجابی لوک فن کار عالم لوہار کے علاوہ اور بہت سے دیگر لوک فن کار شامل ہوا کرتے تھے۔

ملنگ چارلی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ میں ان کی ڈانس پرفارمنس سے متاثر ہو کر امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے انہیں اپنے دستخط شدہ سرٹیفکیٹ سے نوازا۔

جب انہوں نے کراچی میں اپنا ایک ڈانسنگ گروپ بنایا تو ان کے گروپ میں گجرانوالہ (پنجاب) سے آنے والا ایک نوجوان اور ڈانس سیکھنے کا شوقین حمید چودھری جو دن بھر ولیکا مل میں مزدوری کرتے اور شام کوملنگ چارلی سے ڈانس کی تربیت لینے آتے، حمید چودھری نے ملنگ چارلی کی شاگردی میں ان کے گروپ کے ساتھ بہت سے پروگرام کیے اور کافی فلموں میں ملنگ چارلی کے ساتھ بطور معاون ڈانس ڈائریکٹر کے بھی کام کیا۔ جن میں ایک اردو فلم "انوکھی” سرفہرست ہے۔

کچھ عرصہ بعد حمید چودھری لاہور فلم انڈسٹری شفٹ ہوگئے اور وہاں بے شمار اردو ، پنجابی اور پشتو فلموں میں بحیثیت سولو ڈانس ڈائریکٹر کے کام کیا۔ لاہور فلم انڈسٹر ی میں ڈانس کے حوالے سے کافی مشہور ہوئے اور کئی شاگرد بھی پیدا کیے، جن میں ابراہیم لچک (بلوچ)، اشرف شیرازی، اور بہت سے دوسرے ڈانس ڈائریکٹروں کے نام شامل ہیں۔ ان شاگردوں نے پھر بہت سے دیگر شاگرد بنائے۔

ملنگ چارلی یہ بھی کہتے ہیں کہ اُن کا سب سے پہلا شاگرد مقصود حسن ( ایک چھوٹے قد کا مشہور فن کار) ہے جو مُنی باجی کا بھائی اور
عمر شریف کے بہت سے اسٹیج ڈراموں میں اور ARY کے مشہور ڈرامے ٌ قدوسی کی بیوہ ٌ میں ایک اہم رول ادا کر رہا تھا۔ دوسرا شاگرد اُستاد یعقوب ہے جو کراچی کی کئی فلموں کے ڈانس ڈائریکشن کے علاوہ پہلی اسکرین کی بلوچی فلم ٌ حمل و ماہ گنج ٌ کے بھی ڈانس ڈائریکٹر تھے۔ اُستاد یعقوب نے بعد میں امریکن کلچر سینٹر میں ڈانس کی تربیت دینے کے لیے اکیڈمی بھی بنائی۔

ان سب کے بعد تو ملنگ چارلی کے لاتعداد شاگرد بنے، جن میں ابراہیم ڈاڈا، عباس ڈاڈا، موسیٰ پان والا، مجید بلوچ، موسیٰ چودھری، اور
رزاق جرمن کے علاوہ ایسے بھی شاگرد ہیں جو بیرونِ ملک جاکر وہاں لوگوں کو ڈانس کی تربیت دے رہے ہیں۔ اندرونِ ملک بھی ان
کے شاگردوں نے یا تو اپنی ڈانس پارٹیاں بنالی ہیں یا پھر وہ اس پیشے کو چھوڑ کر کچھ اور کاروبار کرنے لگے ہیں۔

ملنگ چارلی نے جب دیکھا کہ ہمارے ملک میں مائیکل جیکسن ٹائپ ڈانس کا رواج ہونے لگا اور اب ان کے روایتی ڈانس کی اب کوئی ضرورت باقی نہ رہی تو انہوں نے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے شہنائی بجانا سیکھنا شروع کیا۔ بہت کم عرصے میں اس میں مہارت حاصل کر لی، اور شہنائی نواز کی حیثیت سے پھر پاکستانی طائفے کے ساتھ بہت سے بیرونِ ممالک اپنے اس نئے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان
طائفوں میں ان کے ساتھ نامی گرامی فن کار اور لوک گلوکار ہوا کرتے تھے، جن میں گلوکار عزیز بلوچ، بینجو نواز بلاول بیلجیئم، گلوکار
محمد جُمن، موسیقار طفیل نیازی اور بہت سے دیگر فن کار وں کے نام شامل ہیں۔

جب کراچی میں ویڈیو فلم انڈسٹر ی کا دور شروع ہوا، تو انہیں ایک بلوچی فلم ٌ گاریں گزوک ٌ میں ٹائٹل رول دیا گیا، مگر بدقسمتی سے یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ پھر انہوں نے یوسف جان کی ہدایت میں بلوچی فلم ٌ جِنءِ چُک ٌ میں بہت اہم رول ادا کیا، اور یہ فلم ہٹ ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے دانش بلوچ کی ہدایات میں ان کی دو فلموں ٌ نصیب وتی وتی ٌ اور ٌ زار بئے تو گار بئے ٌ میں بہت اچھا کام کیا۔ اس کے بعد شکیل مُراد کی ہدایات میں بھی بہت سے مزاحیہ خاکے ریکارڈ کروائے۔

وہ جتنے اچھے ڈانسر اور شہنائی نواز ہیں، اُتنے ہی اچھے اداکار بھی ہیں، مگر بدقسمتی یہی ہے کہ وہ لیاری میں پیدا ہونے والے ایک بلوچ فنکار ہیں، آج ان کی عمر تقریباٌ 107 برس ہو چکی ہے، مگر ناقدری کا شکار ہیں۔ بلوچستان گورنمنٹ نے 2015ء میں ان کو اور ان جیسے چند دیگر بلوچی نادار اور ضعیف فن کاروں کے لیے ایک ایک لاکھ کی گرانٹ دی تھی، مگر اس زمانے میں ایک لاکھ سے کیا ہوتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے نادر فن کار کی عظمت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اُنہیں ٹریبوٹ پیش کیے جاتے، اُن کے لیے سیمینار کیے جاتے، مگر اس مُردہ پرستی کے دور میں یہ ممکن نہیں ہے۔

آخر میں ہماری دُعا ہے اللہ تعالیٰ ملنگ چارلی کو اس سے زیادہ لمبی عُمر عطا فرمائے۔
آمین !

(ختم شد)

Facebook Comments
(Visited 43 times, 1 visits today)

متعلق دانش بلوچ

دانش بلوچ